تعزیتی نشست ---شاعر جدہ مہتاب قدر رح - (1957ء تا 2026ء)عالمی کاروان ادب قطر اور عالمی ماہنامہ شعلہ و سایہ کے باہمی اشتراک سے 03 اکتوبر 2026ء کو زوم پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں مختلف ممالک سعودی عرب ، قطر ، ہند و پاک اور کینیڈا سے متعدد مقررین نے شرکت فرما کر مہتاب قدر کی علمی و ادبی خدمات پر اپنے گراں قدر تاثرات کا اظہار بھی فرمایا ، اسی تعزیتی اجلاس میں ناچیز کا درج ذیل خطاب نشر کیا گیا ) از قلم : ڈاکٹر خلیل تماندار


تعزیتی نشست ---شاعر جدہ مہتاب قدر رح - 
(1957ء تا 2026ء)
عالمی کاروان ادب قطر اور عالمی ماہنامہ شعلہ و سایہ کے باہمی اشتراک سے 03 اکتوبر 2026ء کو زوم پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں مختلف ممالک سعودی عرب ، قطر ، ہند و پاک اور کینیڈا سے متعدد مقررین نے شرکت فرما کر مہتاب قدر کی علمی و ادبی خدمات پر اپنے گراں قدر تاثرات کا اظہار بھی فرمایا ، اسی تعزیتی اجلاس میں ناچیز کا درج ذیل خطاب نشر کیا گیا ) 
از قلم : ڈاکٹر خلیل تماندار
-----(انٹاریو ، کینیڈا ) ----

● الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى أَشْرَفِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ
 سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ أَمَّا بعد

  قال رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي
 وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

 اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
 بسم اللہ الرحمن الرحیم
کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡت
 ؕوَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَة ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّة فَقَدۡ فَازَ ؕ وَمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ
[ سورہ آل عمران آیت نمبر ۱۸۵ ] 

 ترجمہ: 
"ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو تمہارے اچھے برے اعمال کا پورا پورا بدلہ قیامت ہی کے دن دیا جائے گا۔
 پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ واقعی کامیاب ہو گیا، اور یہ دنیاوی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں " 
 
 ● كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْت یعنی ہر ذی روح یا ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، قرآن مجید میں یہ جز آیت قرآن کریم میں تین مقامات پر ایک سورہ آل عمران،
 دوسرے سورہ الانبیاء اور تیسرے سورہ العنکبوت میں آئی ہے ، 
 قرآنی لغات پر تحقیق کرنے والے اسکالرز کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں موت و حیات کا ذکر 145 مرتبہ ہوا ہے اور بعضوں نے 165مرتبہ بھی کہا ہے 
 
لہذا احکام الہی کل نفس ذائقة الموت سے یہ حقیقت آشکارہ ہوجاتی ہے کہ جہاں زندگی ہے وہاں موت یقینی ہے ، 
 بیشک موت ایک اٹل حقیقت ہے جس کا انکار نہ کوئی بڑے سے بڑا سقراط و بقراط اور نہ ہی کوئی منکر خدا کر سکتا ہے 
 
سچ ہے : تقریبا" ڈیڑھ سو برس قبل 1871ء میں مرزا شوق لکھنئوی یہ کہتے ہوئے رخصت ہو گئے :

  موت سے کس کو رستگاری ہے
 آج وہ ، کل ہماری باری ہے 
 
 *معزز ناظرین کرام :
آج کی یہ تعزیتی نشست ہمارے برادر مرحوم سرفراز علی معروف بنام مہتاب قدر رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے محض دعائیہ کلمات اور تعزیت ہی کی خاطر نہیں ہے بلکہ مرحوم کی علمی ، ادبی ، سماجی ، صحافتی و ملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ہمیں یاد آخرت کی سمت متوجہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ، ایک یاد دہانی اور Reminder بھی ہے آج کی اس تعزیتی نشست میں موجود ہر اہل ایمان اچھی طرح سے اس نکتے کو قلب و ذہن پر نقش کر لے کہ جس طرح اس دنیاوی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی تگ و دو میں ہم سب لگے ہوئے ہیں اسی طرح ہم خوب سے خوب تر اپنی موت کی تیاری اور آخرت کی فکر کرنے والوں کی صف میں ، اللہ کی رضا کا پروانہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے اس فانی دنیا کو خیر باد کہنے والوں میں ان شاءاللہ شامل ہو جائیں: 

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمئنَّةُ 
 ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۟ 
وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۟۠

 حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے انہی جذبات کی کیا خوب ترجمانی کی ہے : 
نشان مرد مومن باتو گویم ؟ 
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست
یعنی : کیا میں تمہیں مرد مومن کی نشانی نہ بتاؤں کہ جب اس کی موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا جاتی ہے

 *آمدم بر سر مطلب : عالمی کاروان ادب کے ذمہ داران میں بالخصوص مظفر نایاب قطر ، مبصر نایاب 
 مشیر الدین مشیر اور ماہنامہ شعلہ و سایہ کے مسئولین میں خصوصا" کلیم شاہد اظفر ندوی دھنبادی ، مجیب الرحمن ندوی اور کاظم شیرازی صاحبان کی یہ کاوشیں قابل تحیسن و آفرین ہیں کہ اس قدر محت شاقہ سے ہمارے مرحوم مہتاب قدر کی نسبت آج کی اس تعزیتی نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیا 
 *التماس : 
اج کی اس تعزیتی نشست میں انتہائی ادب و احترام اور اخلاص کے ساتھ مرحوم مہتاب قدر کے تمام محبان ، عزیزان اور قددان حضرات سے گزارش ہے کہ مرحوم کی غیر مطبوعہ تصانیف ، شعری مجموعوں اور علمی ذخیرے کو زیور طبع سے آراستہ کرنے کا ایک عزم مصصم کر لیں اور مرحوم کا گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جدہ میں جاری اردو پندرہ روزہ ادبی مجلہ "گلبن" کو حسب معمول رواں دواں رکھنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی جائے تاکہ یہ علمی ورثہ ہم سب کے لئے بھی ذخیرہ ءآخرت بن جائے
آمین یا رب العالمین  
انداز بیاں گرچہ میرا شوخ نہیں ہے 
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات 
آخری دعاء:
بارگاہ عز و جل میں ہم سب دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم مہتاب قدر صاحب کو اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے ، ان کے تمام پس ماندگان کو صبر جمیل دے ، ان کے مشن کو جاری و ساری رکھے اور ان کی حسنات کو ذخیرہ ءآخرت بنائے 
( آمین یا رب العالمین ) 
دعاگو : 
ڈاکٹر خلیل تماندار
سابق فزیشن ، حرم مکی شریف ، مکہ مکرمہ 
مقیم : انٹاریو ، کینیڈا 
email : khaliltumandar123@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔