استاد الاساتذہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی حیات وخدمات(1934-2026)
استاد الاساتذہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی حیات وخدمات(1934-2026)
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی جن کو عالم اسلام عربی زبان کے بہترین ادیب و خطیب کے نام سے جانتا ہے، برصغیر کے ایک ممتاز عالم دین، بہترین مصنف، ایک مایا ناز ادیب وصحافی، بے باک خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ شیخ اللغہ اور شیخ الادب تھے۔تاریخ انسانی میں ایسی شخصیت شاذ و نادر ہی ابھرتی ہے جو اپنے علم و فن میں اس قدر قابلیت وصلاحیت پیدا کر لیتی ہے کہ اپنی صدی کے ممتاز وہ کامیاب لوگوں میں شمار کی جاتی ہے اور یقینا مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی شخصیت اس کا ایک حسین شاہکار تھی۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی 14 مئی 1934 کو اتر پردیش کے ضلع مںٔو میں ایک دینی خانوادے میں پیدا ہوئے ، آپ کا گھرانہ اپنے علاقے کا ایک علمی دعوتی اور روحانی گھرانہ تھا آپ کے والد بزرگوار بہت نیک ،صوفی اور ممتاز بزرگ تھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام مولانا محمد ایوب اعظمی رح تھا جو ایک محقق عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے شاگرد رشید اور بڑے محدث تھے۔ حضرت مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب کے زیر نگرانی حاصل کی، علمی ماحول ہونے کی وجہ سے آپ کے اندر کم عمری ہی سے علمی و فکری شعور پیدا ہو گیا تھا اور خصوصا والدین کی توجہ و دعاؤں نے اس میں مزید اضافہ کر دیا تھا، حضرت مولانا نے اپنی عالمیت و فضیلت کی تکمیل جامعہ مفتاح العلوم مںٔو سے سن 1951 میں کی ۔
عالمیت کی تکمیل کے بعد مولانا سعید الرحمن اعظمی نے عالم اسلام کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی طرف رخ کیا اور ندوۃ العلماء میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح کے شفقتوں کے سائے میں اپنی تعلیم مکمل کرتے رہیں اور وہاں سے 1954ء میں تخصص فی الادب کی ڈگری حاصل کی ۔ دورانِ تعلیم مولانا سعید الرحمن اعظمی اپنے شیخ ومربی مفکر اسلام علی میاں ندوی رح کے خطوط کا جواب بھی دیتے تھے اور بار بار خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے مفکر اسلام آپ کی عربی قابلیت و صلاحیت کے معترف تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ تم تو میرے سیکرٹری بننے کے لائق ہو۔
فراغت کے بعد 1955 میں آپ کا بحیثیت استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تقرر ہوا اور آپ درس و تدریس کی خدمت کو انجام دینے لگے۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب مفکر اسلام علی میاں ندوی نے آپ کی عربی انشاء چیک کی اور برجستہ فرمایا "تمہارے اندر ادب کے جراثیم پائے جاتے ہیں " اس کے بعد آپ کو مولانا علی میاں ندوی نے اپنے استاد ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی کے پاس ٹریننگ کے لیے بغداد بھیجا وہاں آپ اپنا اکثر وقت ڈاکٹر صاحب کے زیر نگرانی گزارتے اور تقریبا ایک سال کے بعد آپ ندوہ العلماء واپس تشریف لائے۔
بغداد سے واپسی کے بعد مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اپنی پوری توجہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کی طرف کر دی، آپ نے اس گلشن علم و ادب کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی اور اس کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قیام کے دوران آپ نے کئی بیسیوں ممالک کے علمی اور دعوتی سفر کیے اور وہاں کی مشہور علمی دانش گاہوں میں اپنے قیمتی محاضرات دیے۔ آپ نے اپنا ڈاکٹریٹ (PhD) کا مقالہ بعنوان "شعراء الرسول في ضوء الواقع القريض" بحسن خوبی تکمیل تک پہنچایا جو شائع ہو کر مقبول عام ہوا۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی شخصیت بہت سے اوصاف و کمالات کی جامع شخصیت تھی اور یقینا آپ کی خدمات اور کارناموں کا ذکر قلیل بھی ان کی کثرت کی وجہ سے مشکل معلوم ہوتا ہے ، لیکن راقم سطور کے نزدیک ان عظیم کارناموں میں ماہنامہ"مجلہ البعث الاسلامی" کی بے مثال و بے باک صحافت ، تدریسی خدمات، اور سماجی خدمات قابل ذکر و قابل تحسین ہیں۔
1955 میں خانوادہ حسنی کے ایک عظیم فرد مولانا سید محمد الحسنی نے ماہنامہ "مجلہ البعث الاسلامی" کی بنیاد رکھی, جس کے ذریعے سے ہندوستانی مسلمانوں کو عربی سے واقف کرا کر ان کی علمی و فکری تربیت کرنا تھا, دھیرے دھیرے اس کی شہرت عام ہوتی گئی پھر مولانا علی میاں ندوی کے زیر سرپرستی اس مجلہ نے تقریبا پورے مشرق وسطی(middle East) میں ایک دھوم مچا دی اور خصوصا جب جمال عبدالناصر نے اسلامی اخوت (Muslim brotherhood) کے مقابلے میں عربی قومیت (Arab nationalism) کو فروغ دیا اور عرب نوجوانوں کے دل میں اس بات کا صور پھونکا کے تمہاری اصل پہچان نسل، زبان اور جغرافیہ ہے تو اس وقت ماہنامہ "مجلہ البعث الاسلامی" کے مضامین نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کو ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ "عربوں کی تمام تر عزت اور عالمی مقام صرف اور صرف اسلام کی وجہ سے ہے اگر وہ اسلام کو چھوڑ کر محض عربی نسل پر فخر کریں گے تو وہ دوبارہ اسی دور جاہلیت میں چلے جائیں گے جہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی " اور پورے مشرق وسطی میں اس کی مہم چلائی "شعارنا الوحيد إلى الإسلام من جديد" ۔
یقیناً تحریک ندوۃ العلماء کی زیرِ نگرانی شائع ہونے والے اس ماہنامے نے عربوں کو جھنجھوڑا اور دشمنانِ اسلام کے خلاف اپنا قلمی جہاد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا۔ بحر کیف 1979ع میں مجلہ کے بانی مولانا سید محمد الحسنی کا انتقال ہو گیا جس کے بعد متفقہ طور پر چیف ایڈیٹر (رئيس التحرير )کے لیے حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتخاب کیا گیا۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تقریبا سات دہائیوں تک درس و تدریس کی خدمت انجام دی ۔ مولانا کے شاگردوں کے بیان کے مطابق مولانا کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ بڑے سے بڑے مشکل مسئلے اور عبارت کو بہت ہی آسان و فہم انداز میں طلبہ کو سمجھا دیتے تھے۔ یہ بھی آپ کی زندگی کا ایک عظیم کارنامہ ہے کہ آپ نے دوران درس و تدریس ایسے علماء وقائدین پیدا کر دیے جو "قدیم صالح اور جدید نافع" کا پیکر تھے۔
اس کے علاوہ آپ شمالی ہندوستان کی مشہور عصری درسگاہ انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی وہ چانسلر بھی تھے ۔ مولانا مرحوم کی شاندار خدمات اور کارناموں کی فہرست میں یہ کام بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے خصوصا مسلمان بچوں اور بچیوں کے لیے ایک عظیم ادارہ وجود میں آیا۔
آپ کی شخصیت بیک وقت ادیب، صحافی، ماہر عربی زبان و ادب، بے باک خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن و نماز کے سچے عاشق، مجسمہ پابندی وقت تھے جس کی نذیر مشکل سے ملتی ہوں گی۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کو ان کی علمی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے جن میں صدر جمہوریہ ایوارڈ قابل ذکر ہے ۔
اپ کی تصنیفی خدمات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ماہنامہ"مجلہ البعث الاسلامی" کہ مضامین اور علمی مقالات ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں پہنچتی ہے اس کے علاوہ "شعراء الرسول في ضوء الواقع والقريض"٫ " الدعوة الإسلامية"،"ساعه مع العارفين"، "صور من واقع الدين" ،اسلام اور مغرب، اسلامی تقافت اور ندوۃ العلماء ،اور 48 سال شفقتوں کے سائے میں وغیرہ وغیرہ نامی تصنیفات قابل دید ہے ۔
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم، ماہنامہ "البعث الاسلامی" کے چیف ایڈیٹر, انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی وچانسلر، دینی تعلیمی کونسل اترپردیش کے نائب صدر اور عالمی رابطہ ادب اسلامی کے تاسیسی ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی علمی اور سماجی تنظیموں کے روح روا اور میر کارواں تھے۔
بالآخر 7 اکتوبر 2026 بروز بدھ کو عالم اسلام کا یہ درخشاں ستارہ 92 سال کی عمر میں دین وملت کی خدمت کرتا ہوا اپنے مالک حقیقی سے جا ملا. انا لله وانا اليه راجعون
وَمَا كَانَ قَيْسٌ هُلْكُهُ هُلْكَ وَاحِدٍ
وَلَكِنَّهُ بُنْيَانُ قَوْمٍ تَهَدَّمَا۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment