شمع کی روشنی میں نئی نسل کی رہبری - شمعِ رہبر کے 18 سالہ صحافتی سفر سے عالمی مشاعرے تک - سید فاروق احمد قادری بیڑ


شمع کی روشنی میں نئی نسل کی رہبری - 
شمعِ رہبر کے 18 سالہ صحافتی سفر سے عالمی مشاعرے تک -  
سید فاروق احمد قادری بیڑ

کسی بھی بڑے سفر کی ابتدا ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں ہوتی۔ کبھی ایک چھوٹی سی کوشش، محدود وسائل اور ایک بڑا مقصد وقت کے ساتھ ایک ایسی تحریک بن جاتا ہے جس کی روشنی دور تک پہنچتی ہے۔ شمعِ رہبر کا 18 سالہ سفر بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔
آج جب شمعِ رہبر اپنے 18 سال مکمل کر چکا ہے اور اس موقع پر 11 اکتوبر کو وندے ماترم ہال، جامع مسجد حج ہاؤس کے قریب، اورنگ آباد میں عالمی سطح کا مشاعرہ منعقد ہو رہا ہے تو ماضی کے اس سفر کو یاد کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔
نئی نسل شاید یہ نہ جانتی ہو کہ کسی اخبار کو مسلسل 18 سال تک جاری رکھنا کتنا مشکل کام ہے۔ اخبار صرف کاغذ پر چھپنے والے چند صفحات کا نام نہیں؛ اس کے پیچھے ایک سوچ، ایک مقصد، مسلسل محنت، مالی ذمہ داری اور صحافت سے وابستگی ہوتی ہے۔
شمعِ رہبر کے اس سفر میں ضمیر صاحب قادری کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ وہ اس اخبار کے مالک بھی ہیں اور مدیر کی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود اردو صحافت کے اس سفر کو جاری رکھنا محنت، حوصلے اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔
تقریباً 20 سال پہلے، جب میرے اندر لکھنے اور لکھتے رہنے کا شوق پیدا ہوا تھا، میں اکثر ضمیر صاحب قادری کے ساتھ ان کے ایک چھوٹے سے دفتر میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہی چھوٹا سا دفتر، کاغذ، قلم اور ادب و صحافت کی باتیں میرے لیے آج بھی ایک خوبصورت یاد ہیں۔ میں وہاں بیٹھ کر لکھتا بھی تھا اور بہت کچھ سیکھنے کی کوشش بھی کرتا تھا۔
عرش مسجد اور کٹ کٹ گیٹ کے آس پاس کا علاقہ بھی میری ان پرانی یادوں میں شامل ہے۔ اُس زمانے میں وہاں جماعتِ اسلامی کا ایک دفتر بھی ہوا کرتا تھا۔ میں کبھی وہاں جا کر کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ آج اتنے برس گزر جانے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ وہی دفتر تھا یا بعد میں جگہ تبدیل ہوئی، لیکن کتابوں سے میری دلچسپی اور لکھنے پڑھنے کا شوق انہی دنوں مزید پروان چڑھ رہا تھا۔
وقت آگے بڑھتا گیا، حالات بدلتے گئے، شمعِ رہبر نے اپنا سفر جاری رکھا اور میری اپنی تحریری سرگرمیاں بھی آگے بڑھتی رہیں، لیکن ضمیر صاحب قادری سے میرا رابطہ آج بھی قائم ہے۔ میرے لیے یہ صرف ایک صحافتی تعلق نہیں بلکہ ایک پرانی ادبی یاد اور مسلسل قائم رہنے والا تعلق ہے۔
مجھے 2009 کا وہ دور بھی یاد ہے جب شمعِ رہبر کے حوالے سے میری ضمیر صاحب قادری سے ملاقات ہوئی تھی اور اس موضوع پر میری تحریر بھی اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اُس وقت شاید کسی نے یہ تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہ سفر آگے چل کر 18 سال مکمل کرے گا اور ایک عالمی سطح کے مشاعرے تک پہنچے گا۔
ضمیر صاحب قادری کی ادبی و صحافتی سرگرمیوں کا ذکر صرف مقامی حلقوں تک محدود نہیں رہا۔ ٹائمز آف انڈیا جیسے بڑے اخبار میں بھی ان کے حوالے سے ذکر سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کی سرگرمیوں نے اورنگ آباد کے ادبی و صحافتی دائرے سے باہر بھی توجہ حاصل کی۔
میرے لیے اس سفر کی سب سے خوبصورت بات اس کے نام میں پوشیدہ ہے:
شمع بھی اور رہبر بھی۔
شمع روشنی دیتی ہے اور رہبر راستہ دکھاتا ہے۔ اگر یہی روشنی علم و ادب کی ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ شمعِ رہبر نے اردو صحافت کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں کے ذریعے نئی نسل کو اردو زبان و ادب سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
نئی نسل کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اردو صرف ماضی کی زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ہماری ادبی روایت اور ہمارے احساسات کی زبان بھی ہے۔ اگر شمع روشن رہے گی تو اس کی روشنی سے آنے والی نسلیں بھی اپنے راستے تلاش کر سکیں گی۔
18 سال کا سفر معمولی سفر نہیں ہوتا۔ اس دوران حالات بدلتے ہیں، صحافت کے انداز بدلتے ہیں، ذرائع ابلاغ بدلتے ہیں، لیکن کسی اخبار کا مسلسل اپنی شناخت کے ساتھ قائم رہنا اپنے آپ میں ایک قابلِ ذکر بات ہے۔
اسی 18 سالہ سفر کی خوشی میں 11 اکتوبر کو وندے ماترم ہال، جامع مسجد حج ہاؤس کے قریب، اورنگ آباد میں عالمی سطح کا مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ مشاعرہ صرف شعری محفل نہیں بلکہ شمعِ رہبر کے طویل سفر کی ایک خوشگوار یاد اور نئی نسل کے لیے اردو ادب سے جڑنے کا ایک موقع بھی ہے۔
تقریباً دو دہائیاں پہلے ایک چھوٹے سے دفتر میں بیٹھنے سے لے کر آج کے اس عالمی مشاعرے تک کا سفر میرے لیے بھی ایک خوشگوار ادبی یاد ہے۔ وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، مگر رابطہ بھی قائم رہا اور شمع کی روشنی بھی۔
میری دلی خواہش ہے کہ شمعِ رہبر کی یہ شمع اسی طرح روشن رہے، علم و ادب کی روشنی پھیلاتی رہے اور نئی نسل کی رہبری کا یہ سلسلہ آنے والی نسلوں تک جاری رہے۔
ضمیر صاحب قادری اور شمعِ رہبر سے وابستہ تمام افراد کو 18 سالہ صحافتی سفر کی مبارک باد اور 11 اکتوبر کے عالمی مشاعرے کے لیے دلی نیک خواہشات۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔