منزل کی تمنا ہے تو کر جہدِ مسلسل - (سلسلہ نمبر :- 12) - ایڈوکیٹ شاہدندیم انصاری احسان الرحیم
منزل کی تمنا ہے تو کر جہدِ مسلسل -
(سلسلہ نمبر :- 12) -
ایڈوکیٹ شاہدندیم انصاری احسان الرحیم
تعلیمی لیاقت :
بی اے ایل ایل بی
ابتدائی تعلیم:
کے جی آزاد نگر آنگن واڑی سے ہوئی
پہلی سے لیکر چوتھی جماعت تک:
مالیگاؤں کارپوریشن پرائمری اسکول آزاد نگر(نسیم مینا نگری)
پانچویں سے لیکر بارہویں جماعت تک جمہور ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج
بی اے پہلاسال سٹی کالج
بی اے دوسرا اورتیسرا سال نائٹ کالج
ایل ایل بی۔کے بی ایچ لاء کالج، مالیگاؤں کیمپ :
قانون کی تعلیم مکمل ہوتے ہی 2009 میں روزگار کے سلسلہ میں 28/ سال کی عمر میں ممبئی کا پہلی مرتبہ سفر کیا، اس سے قبل ممبئی جانے کی سہولت کبھی میسر نہیں ہوئی تھی۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر سے منسلک ہونے کے بعد شروعاتی چند سال بطور آفس اسسٹنٹ کے کام کیا پھر جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے شعبہ لیگل سیل سے جڑ ہوگئے اورپھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
دوران تعلیم مختلف پاورلوم کارخانوں میں پارٹ ٹائم جاب کیا :
پارٹ ٹائم جاب کرتے ہوئے دسویں جماعت میں 48% جبکہ بارہوں جماعت میں 63%فیصد نمبرات حاصل کرکے بنیادی تعلیم مکمل کی۔دوران تعلیم مارکس کم زیادہ آتے رہی، اے ٹی کے ٹی لگتے رہی لیکن موصوف نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم کا پروفائل پڑھ کرآپ کو اندازہ ہوگا کہ اسکول کالج میں کم نمبرات حاصل کرنے والا ایک سلو اسٹارٹر بھی زندگی میں محنت ومشقت اور ڈسپلین سے بہت کچھ حاصل کرسکتاہے اور اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کرسکتاہے۔ بحیثیت فرسٹ جنریشن وکیل کے شروعاتی دنوں میں یقینا پریشانیاں آئی ہونگی لیکن یہ کوئی بہانہ نہیں ہوسکتا ہے اس کی مثال شاہدندیم نے پیش کی ہے۔
*لایڈوکیٹ شاہدندیم کی پیدائش نیا آزادنگر میں ہوئی اورفی الحال ان کی رہائش اسی علاقے میں ہے۔
ایل ایل بی کی پڑھائی حکومت کی جانب سے ملنے والی اسکالرشپ کے ذریعہ مکمل کی۔مالیگاؤں میں ایڈوکیٹ سلیم(مرحوم) کے ساتھ چند ماہ پریکٹس کرنے کے بعد ممبئی کا رخ کیا۔
شروعاتی دنوں میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی بنیاد رکھنے والے گلزار اعظمی(مرحوم) صاحب کے ساتھ ممبئی کی مختلف عدالتوں اور سینئر وکلاء کی آفس آتے جاتے رہے پھر گلزار اعظمی صاحب نے یہ ذمہ داری ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو سونپ دی۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کی پوری سماعت میں سینئروکلاء کے ہمراہ حصہ لیا۔بلڈوزر مقدمہ،عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون مقدمہ،طلاق ثلاثہ قانون جیسے بڑ ے اور اہم مقدمات کی سماعت میں ناصرف حصہ لیا بلکہ جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے ہر سماعت پر سینئر وکلاء کے ساتھ پیش ہوئے اور انہیں بریف کیا جسمیں ڈاکٹر راجیودھون، ڈاکٹر ابھیشک منو سنگھوی،کپل سبل، راجو رام چندرن،جسٹس ناگا متھو، یوسف ہاتم مچھالہ،حذیفہ احمدی، نتیا راما کرشنن، گورواگروال،سی یو سنگھ، سنجے ہیگڑے، بی اے دیسائی،یوگ موہت چودھری، ورندہ گروور و دیگر شامل ہیں۔فرقہ وارانہ فسادات کی عدالتی انکوائری کرنے والے مختلف کمیشنوں میں بھی متاثرین کی جانب سے پیش ہوئے۔
بطور لیگل اسسٹنٹ ذمہ داریاں بحسن خوبی نبھانے کے چند سال کے اندر ہی انہیں جمعیۃ علماء قانونی امدادکمیٹی کا ایڈوائزر (قانونی مشیر) بنا دیا گیا۔صدر جمعیۃعلماء مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر پورے ملک میں جمعیۃ علماء قانونی امدادکمیٹی کے ذریعہ لڑے جاری مقدمات کی پیروی کررہے ہیں۔ سال 2014/ میں ملک کے مختلف صوبو ں میں واقع جیلوں کادورہ کیا اور برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید مسلم قیدیوں کی رہائی کے لیئے اقدامات کیئے جس کے نتیجے میں دس دس بیس بیس سالوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے قیدیوں کو ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی یا پھر ان کے مقدمات فیصل ہوئے اور انہیں جیل کی قید و بند سے راحت نصیب ہوئی۔
سپریم کورٹ اور بامبے ہائی کورٹ میں ریگولر پیشی کے علاوہ دہلی ہائی کورٹ، جئے پورہائی کورٹ، تلنگانہ ہائی کورٹ، مداراس ہائی کورٹ، نیتی تال ہائی کورٹ، جبلپور ہائی کورٹ،گجرات ہائی کورٹ،گوا ہائی کورٹ،اڑیسہ ہائیکورٹ،لکھنؤہائی کورٹ، الہ آبادہائی کورٹ، کولکاتہ ہائیکورٹ،کرناٹک ہائیکورٹ و دیگرہائی کورٹس میں پیش ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح ممبئی کے علاوہ مختلف شہروں میں قائم خصوصی این آئی اے،یو اے پی اے اور سیشن عدالتوں میں ملزمین کی طرف سے پیش ہورہے ہیں۔
جمعیۃعلماء قانونی امدادکمیٹی کے توسط سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاربے قصور مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرنے اور جمعیۃعلماء کے پلیٹ فارم سے فلاہی کام انجام دینے کے تناظر میں سال 2016 میں امریکی حکومت نے انہیں امریکی عدالتی نظام کی اسٹڈی کرنے کے غرض سے تین ہفتوں کے دورے پر امریکہ مدعو کیا جس کے دوران موصوف نے سپریم کورٹ آف امریکہ (واشنگٹن) اور سات دیگرصوبوں میں واقع مختلف عدالتوں اور اداروں کا انٹرنیشنل وزیٹرز لیڈر شپ پروگرام کے تحت دورہ کیا اور دورے سے واپسی پر یو ایس کونسلیٹ ممبئی کو دورے کی رپورٹ پیش کی۔ بطور وکیل شاہد ندیم شہر کے پہلے شخص ہیں جنہیں اس دورے کے لیئے منتخب کیا گیا۔ امریکہ سے واپسی کے بعد اسی سال والدین کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کی اور گذشتہ سال والدین کو حج کرنے کے لیئے بھیجا۔
ایڈوکیٹ شاہدندیم کو گذشتہ کل منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ لیگل افیئرس حکومت ہند نے بطور نوٹری پبلک تقرری کی سند جاری کردی ہے۔نوٹری سند جاری ہونے کے بعد اب وہ مالیگاؤں میں اپنی خدمات انجام دے پائیں گے۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم کا تعلق ایک پڑھے لکھے دینی و عصری تعلیمی گھرانے سے ہے، ماسٹر عبدالعزیر (ایاز لطفی) کے پوتے اور نہال انصاری (ناکے والے) کے نواسے ایڈوکیٹ شاہد ندیم کے والد انصاری احسان الرحیم سینئر صحافی ہیں جبکہ قاضی شہر مرحوم عبدالاحد ازہری (مرحوم) کے بھتیجے ہیں۔ مفتی حامد ظفراور مولانا راشد اسعدندی (امام و خطیب مسجد عمر فاروق ممبئی)،نفیس سر (جے اے ٹی) شاداب انصاری ان کے کزن بھائی ہیں جبکہ ڈاکٹر پروفیسر ساجد نعیم ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم کی شریک حیات ناظمہ غلام رسول جمہور ہائی اسکول میں بطور ٹیچر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ بھائی زاہد ندیم میڈیکل لائن سے جڑے ہوئے ہیں، ڈاکٹر مختار انصاری(گلیکسی میڈیکل ایجنسی) ماما جبکہ ڈاکٹر الطاف (فاران اسپتال) ان کے خالو ہیں۔
ایڈوکیٹ شاہدندیم قانون کی پڑھائی کرنے والے اسٹوڈنٹس کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں اور انہیں جمعیۃعلماء اور دیگر اداروں سے اسکالرشپ دلائی جس کی وجہ سے شہر اور بیرون شہر کے معاشی طور پر کمزور درجنوں مسلم بچوں نے وکالت کی تعلیم مکمل کرکے بر سر روزگار ہوئے ہیں۔ ایڈوکیٹ شاہدندیم نے چھ سال قبل مالیگاؤں میں آفس کی بنیاد ڈالی تھی لیکن مسلسل بیرن وشہرہونے کی وجہ سے آفس پر شاز دو نادر ہی جاپاتے ہیں لیکن انہوں نے آفس جونیئر وکلاء اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کے استعمال کے لیئے مہیا کی ہوئی ہے جس سے اسٹوڈنٹس استفادہ حاصل کررہے ہیں۔
بقول ایڈوکیٹ شاہد ندیم، پیشہ وکالت سے منسلک ہوکر قوم و ملت کی خدمت کرنے کے ساتھ اپنا خود کا کیرئیر بھی بنایا جاسکتاہے۔ ذہین اسٹوڈنٹس کو اس شعبہ کا انتخاب کرنا چاہئے او ر اپنا نشانہ جوڈیشری رکھنا چاہئے۔ ہمارے بچوں کو جج بننے کی ترغیب کس طرح دی جائے اس پر ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔اگر جج نہیں بن سکے تو سرکاری وکیل یا پرائیویٹ وکیل بن ہی جاتے ہیں۔کورٹ کے باہر بھی ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو مختلف مواقع میسر ہیں بشرط کہ انہیں بڑے شہروں کا رخ کرنا ہوگا۔ دور جدید میں پیشہ وکالت بہت وسیع ہوچکا ہے، کارپوریٹ ٓفس سے لیکر مختلف ٹریبونلز میں پریکٹیس کی جاسکتی ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ شروعاتی دنوں میں نئے وکلاء کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک آفس سے دوسرے آفس کا چکر لگانا پڑتا ہے لیکن محنت اور لگن سے کوشش کرنے والوں کو راحت میسر ہو ہی جاتی ہے۔
سیرو تفریح،فوٹو گرافی،لانگ ٹینس،کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا شوق رکھنے کے ساتھ ساتھ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے قانونی معاملات پر درجنوں مضامین لکھے جوملک کے مشہور اردو اخبارات اور آن لائن پورٹل پر میں شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ دراز ہے۔
( مالیگاؤں کلب کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیریز بنام منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل شروع کی گئی ہے ۔ مالیگاؤں کلب کے ایسے معزز ممبران جو اپنے شعبے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں ان کی زندگی کے حالات و تجربات اس سیریز میں شیئر کئے جائینگے ۔ اس سیریز سے گروپ ممبران کی معلومات میں اضافہ ہوگا اور بوقت ضرورت ہم سب کو ایکدوسرے کے تجربات زندگی سے مدد مل سکے گی ان شاءاللہ )
✍🏻 مالیگاؤں کلب
Date: December 23, 2024
Comments
Post a Comment