پریم چند کی ادبی میراث کا منفرد جشن: ’’آداب میں میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1036 واں شو


پریم چند کی ادبی میراث کا منفرد جشن: ’’آداب میں میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1036 واں شو 18 اکتوبر کو ممبئی میں
اکیس برسوں سے جاری منفرد ادبی و ثقافتی تحریک تھیٹر مطالعے اور طلباء کی عملی شرکت کے ذریعے پریم چند کے افکار کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی مسلسل کاوش 

ممبئی: منشی پریم چند کی لازوال تخلیقات کو اسٹیج پر زندہ رکھنے اور نئی نسل کو ان کے فکری ورثے سے روشناس کرانے کے عزم کے ساتھ، آئیڈیا (IDEA) کی معروف اور طویل ترین تھیٹر سیریز “آداب میں پریم چند ہوں‘‘ اپنا 1036 واں شو پیش کرنے جا رہا ہے۔ اس باوقار تقریب میں منشی پریم چند کے تین مشہور افسانوں ’’ابھاگن‘‘، ’’انوبھو‘‘ اور ’’ستی‘‘ کو ڈرامائی انداز میں اسٹیج کی زینت بنایا جائے گا۔
تاریخ : اتوار، 18 اکتوبر 2026، وقت: شام 7:30 بجے، شکنتلم اسٹوڈیو، آدرش نگر، اندھیری، ممبئی
اکیس سال کا طویل اور روشن سفر:
گزشتہ 21 برسوں سے لگاتار جاری یہ سلسلہ محض چند تھیٹر ڈراموں کی پیشکش تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پریم چند کے عظیم ادبی سرمایے کے تحفظ، فروغ اور نئی نسل میں اس کے شعور کی بیداری کی ایک سنجیدہ اور تاریخ ساز ثقافتی کاوش ہے۔ ان کے افسانے سماجی ناہمواریوں، انسانی رشتوں کی نزاکتوں، عورت کے سلگتے مسائل، محروم طبقات کی کٹھن جدوجہد اور معاشرتی تضادات کو اس سچی حقیقت نگاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ان کی معنویت اور عصری مطابقت آج بھی برقرار ہے۔
حقیقت نگاری اور سماجی شعور کے علمبردار: منشی پریم چند
منشی پریم چند کا ادبی کینوس کسانوں، مزدوروں، خواتین، پس ماندہ طبقوں اور سوسائٹی کے مظلوم طبقات کی زندگیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے سلگتے ہوئے سماجی مسائل، طبقاتی استحصال اور انسانی نفسيات کو جس بے باکی اور فن کاری کے ساتھ قلم بند کیا، وہ اردو ادب کا بیش بہا اثاثہ ہے۔ ان کا قلم محض اپنے زمانے کا عکاس نہیں تھا، بلکہ وہ ہر دور کے قاری کو سوسائٹی اور انسان کے بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کی بے باک ادبی جرأت کا سب سے بڑا ثبوت ان کا افسانوی مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ ہے، جسے برطانوی نوآبادیاتی حکام نے ضبط کر لیا تھا۔ اس کڑے وقت کے بعد انہوں نے ’’پریم چند‘‘ کے مستعار نام سے اپنی ادبی شناخت کو برقرار رکھا اور ظلم و ناانصافی کے خلاف قلمی جہاد جاری رکھا۔ یہی بے مثال انسان دوستی، حق گوئی اور بلند سماجی شعور ان کی تحریروں کو آج بھی زندہ، جاوید اور بامعنی بنائے ہوئے ہے۔
مجیب خان اور آئیڈیا کا انوکھا کارنامہ:
تھیٹر کے معروف ہدایت کار، ڈرامہ نگار اور مخلص ثقافتی کارکن مجیب خان نے طویل برسوں کی شبانہ روز محنت سے پریم چند کے تقریباً تمام افسانوں کو ڈرامائی قالب میں ڈھال کر اسٹیج پر پیش کرنے کا جو انوکھا کارنامہ انجام دیا ہے، وہ اردو تھیٹر کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مشن کا بنیادی مقصد پریم چند کی تخلیقات کو چند نصابی یا معروف کہانیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے وسیع ادبی کینوس اور فکری تنوع کو عامۃ الناس کے سامنے لانا ہے۔
اس تسلسل کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت عوامی شرکت، بالخصوص اسکول اور کالج کے طلبہ کی عملی شمولیت ہے۔ نوجوان طلبہ کو اسٹیج پر بلا کر منشی پریم چند کی کہانیاں پڑھنے اور کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس تربیتی عمل سے طلبہ میں مطالعے کا ذوق پروان چڑھتا ہے، اردو زبان پر ان کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے اور مجمع کے سامنے بلا جھجھک اظہارِ خیال کرنے کا پختہ اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ تھیٹر کو محض تفریح یا محض فنکارانہ جلوہ گری کا ذریعہ نہیں بناتا، بلکہ اسے ایک مؤثر تعلیمی اور اخلاقی تربیتی مشن سے جوڑ دیتا ہے۔ جب نوجوان خود اسٹیج پر آ کر ادب سے رشتہ جوڑتے ہیں تو وہ نہ صرف پریم چند کے فکری فلسفے سے روشناس ہوتے ہیں، بلکہ تلفظ، روانی اور ابلاغ کی بہترین عملی مشق بھی کرتے ہیں۔ اسی وسیع تر نظریے کے تحت، پریم چند کے یومِ پیدائش کے موقع پر آئیڈیا نے ان کی 22 کہانیوں کو ہندوستان کی 22 مختلف زبانوں میں اسٹیج کر کے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے علاوہ، 8 اکتوبر 2026 کو پریم چند کی برسی کے موقع پر مجیب خان نے پریم چند کے آٹھ افسانوں کو ایک ہی دن، ایک ہی اسٹیج پر، ایک ہی ٹیم اور ایک ہی ہدایت کار کے تحت پیش کر کے ایک اور تاریخی ریکارڈ اپنے نام کیا۔
ادب، تھیٹر اور تعلیم کا حسین امتزاج؛
’’آداب میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1036 واں شو تمام ادب دوستوں، اساتذہ، طلبہ اور تھیٹر کے حقیقی شائقین کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس ادبی تقریب کا حصہ بنیں۔ یہ تحریک اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادبی ورثے کا تحفظ صرف لائبریریوں کی کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے مطالعے، مکالمے اور عملی شرکت کے ذریعے نئی نسل کی عملی زندگی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
* تاریخ: اتوار، 18 اکتوبر 2026
* وقت: شام 7:30 بجے
* مقام: شکنتلم اسٹوڈیو، آدرش نگر، اندھیری، ممبئی
* رابطہ برائے معلومات: 9821044429
"پریم چند کا ادب صرف ماضی کی کوئی دھندلی یادگار نہیں، بلکہ ایک ایسا زندہ اور تابندہ فکری ورثہ ہے، جسے نئی نسل تک پہنچانا ہماری سب سے بڑی ادبی اور قومی ذمہ داری ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔