وجئے واڑہ (آندھرا پردیش) میں گرفتار شدہ بچوں کے معاملہ پر وفد کی والدین سے ملاقات اور حقائق پر مبنی رپورٹ کو حضرت مولانا محمود مدنی ومولانا حکیم الدین قاسمی کو پیش کیا گیا۔


وجئے واڑہ 30/ مارچ(نمائندہ) جمعیت علماء وجئے واڑہ (آندھرا پردیش) کے ایک نمائندہ وفد نے حالیہ دنوں ان بچوں کے والدین سے ملاقات کی، جنہیں پولیس کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
اس ملاقات کا مقصد حقائق کا جائزہ لینا، والدین کے بیانات سننا، اور صورتِ حال کی زمینی حقیقت کو سمجھنا تھا۔
 وفد کے اراکین میں 
1. مولانا حسین احمد مظاہری
2. مفتی سید عبدالرحیم قاسمی
3. مفتی ریاض الدین قاسمی
4. مفتی معین الدین قاسمی
5. مولانا عبدالستار خان رشادی
6. حافظ قاضی مشتاق احمد
7. دیگر معزز اراکین موجود تھے 
 تفصیلات کے بموجب 
 ابتدائی رابطہ اور پس منظر میں 
والدین کے بیان کے مطابق ایک نامعلوم شخص بنام عبدالحکیم عبدالشکور نے سب سے پہلے رحمت اللہ نامی بچے سے آن لائن گیمز کے ذریعے رابطہ قائم کیا، جس کے بعد بتدریج دیگر بچوں کو بھی اپنے دائرۂ اثر میں لیا گیا۔
اسی رابطے کے نتیجے میں ایک محدود گروپ تشکیل پایا، جس میں مذکورہ بچوں کو شامل کیا گیا اور ان پر فکری اثر ڈالا گیا۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا سرگرمیوں میں 
بچوں کے زیر استعمال ایک انسٹاگرام چینل میں مبینہ طور پر
- تشدد پر مبنی ویڈیوز
- سر قلم کرنے جیسے مناظر
- اور بعض اشتعال انگیز مواد
  موجود ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق صرف یہی بچے نہیں بلکہ تقریباً 13 بچے مختلف ریاستوں (راجستھان، بہار، مہاراشٹر، کرناٹک وغیرہ) سے بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے ہیں۔
 پولیس کارروائی سے متعلق 
والدین کی جانب سے درج ذیل سنگین الزامات سامنے آئے۔
- ایک گھر میں پولیس کی جانب سے دو پن ڈرائیوز رکھے جانے کا دعویٰ
- دوسرے گھر میں مشتبہ کاغذات (مورتیوں کی مسخ شدہ تصاویر) رکھنے کا الزام
- والدین کے احتجاج کے بعد متعلقہ کاغذات کا واپس لے لیا جانا۔
6. گرفتاری کے دوران مبینہ تشدد
وجئے واڑہ کے رہائشی رحمت اللہ کے ساتھ گرفتاری کے وقت پولیس کی جانب سے مار پیٹ کئے جانے کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔
والدین کے مطابق یہ بچے ماضی میں غزہ کے مظلوم عوام کے حق میں آواز اٹھاتے رہے اور مختلف احتجاجی سرگرمیوں میں شریک رہے تھے۔
وفد کو موصولہ معلومات کے مطابق بچوں سے ریاست آندھرا پردیش کی راجمنڈری جیل میں ملاقات ہوئی، جہاں فی الحال ان کی جسمانی حالت تسلی بخش بتائی گئی ہے۔
 ثبوت سے متعلق صورتحال
تاحال والدین کے علم کے مطابق کوئی واضح، ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔
ابتدائی تجزیہ و تاثر سے
 واضح رہے کہ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
بچوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔
پولیس کارروائی کے بعض پہلوؤں پر شفافیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا حامل ہے، جس میں غیر جانبدارانہ، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔
معاملہ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔
بچوں کے ساتھ قانونی تقاضوں کے مطابق منصفانہ برتاؤ کو یقینی بنایا جائے۔
والدین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کا ازالہ کیا جائے۔
آن لائن گمراہی کے اسباب کا جائزہ لے کر مستقبل کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔
اختتامی کلمات میں کہا گیا کہ 
ہم امید کرتے ہیں کہ جمعیت علمائے ہند اس حساس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مناسب رہنمائی اور ضروری اقدامات فرمائے گی۔...

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔