دکن کے مسلم بادشاہوں کا ہزار سالہ دور بھید بھاؤ اور فساد و علاقائی عصبیت سے پاک امن اور ترقیاتی منصوبے ان کی ترجیحات۔۔ - ڈاکٹر ماجد داغی ، لکشمن دستی، اشوک گروجی اور بھدرشٹی کا خطاب - شعرائے کرام نے موثر بیانی سے مشاعرہ لوٹ لیا۔



کلبرگی 30 / مارچ. (راست) لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کا پریمبل دو بڑے مذاہب کی مقدس کتابوں سے ماخوذ ہے جس میں عظیم ہندوستان کی تاریخ و ثقافت کو بنیادی درجہ دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا وہ لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کے زیرِاہتمام جشنِ اوگادی و عیدملاپ کے موقع پر کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے ادبی اجلاس ہال میں منعقدہ ہمہ لسانی مشاعرہ کے اختتام پر صدارتی خطاب کررہے تھے انہوں اس سلسلے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کے ہمہ لسانی ادبی اجلاس و مشاعرے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے ادبی اجلاس ہال میں ہر مہینے کی آخری اتوار کو دن گیارہ بجے منعقد ہوتے ہیں جہاں ہندی ، کنڑا ، اردو ، مراٹھی ، تلگو ، سنسکرت و دیگر ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی زبان کے قلم کار بھی اپنے افسانے ، مضامین ، شاعری ، ڈرامے و دیگر تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ اپنے دستور و نصب العین کے تحت ہندوستانی تہذیب کی رنگارنگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ذریعہ تخلیقِ ادب کو فروغ دینے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں میں بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے میں کوشاں ہے ۔ جس کا قیام آج سے 29 سال قبل ممتاز مجاہد آزادی شری ودیا دھر گروجی اور ممتاز دانشور ڈاکٹر سید مجیب الرحمن کی سرپرستی میں عمل میں آیا ۔ قبل ازیں حاضرینِ محفل کی خدمت میں ڈاکٹر ماجد داغی نے سالِ نو کی اوگادی تہوار اور عیدالفطر کی مبارک باد پیش کی ۔ ڈاکٹر لکشمن دستی بانی صدر، کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے فتح پور سیکریٹ کے 'حوالے سے اکبرِ اعظم کی قومی یکجہتی کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکبرِ اعظم نے ایک ہی مقام پر انتہائی خوبصورت مسجد اور مندر کی تعمیر سے ہندوستان کی حقیقی تہذیب و ثقافت کی ترجمانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم ترین درس محفوظ کر دیا ہے. انہوں نے دکن کے مختلف ادوار کے مسلم بادشاہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ہزار سالہ تاریخ علاقائی عصبیت، بھید بھاؤ اور فساد سے پاک امن اور عوام کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ان کی ترجیحات میں شامل ۔ انہوں نے آصفیہ سلاطین میں میر عثمان علی خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا میر عثمان علی خان نے امن و بھائی چارہ کے فروغ اور ترقیاتی کاموں کے ساتھ تعلیم کے شعبہ پر خاص توجہ کی اور اردو کے ساتھ ساتھ، تلگو، مراٹھی اور کنڑا زبان کو بلا امتیاز ترقی بخشی اور عثمانیہ یونیورسٹی میں ان زبانوں کے بھی علیحدہ علیحدہ شعبہ قائم کئے اور اس طرح یکجہتی کے استحکام کو ترجیح دی ۔ انہوں نے انسانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کبھی جنگلی جانوروں کے درمیان نسل کشی اور آپسی جنگ نہیں ہوتی جو انسانوں کے لئے عبرتناک بات ہے ۔ ڈاکٹر اے ایس بھدر شیٹی صدر جنوبی ہند اینٹی کرپشن کمیٹی نے کہا کہ ہندوستان زمانہ قدیم سے ہی آپسی بھائی چارہ کو فروغ دیتا ہے جس کی وجہ عالمی سطح پر ہماری تہذیب و ثقافت کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی حالیہ شاندار مثال یہ ہے گیاس اور پٹرول کے اس سنگین قلت اور بحران میں ایران نے ہندوستان کی عوامی یکجہتی کے مظاہرے کو بنیاد بنا کر جنگی پابندیوں سے ہندوستان کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے رعایت کی ۔ ابتدا میں مسٹر اشوک گروجی نے خیرمقدم کیا اور امر پریہ ہیرے مٹھ اور ساتھیوں کے پرارتھنا گیت سے عیدملن اور جشنِ اوگادی کا آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ کلبرگی کی صدارت میں رنگا رنگ ادبی جشن کے دوران اردو کے معزز شعرائے کرام سید سجاد علی شاد ، سید عمر برق حیدرآبادی ، سید سراج الدین وجہی تیر انداز ، سید مختار احمد دکنی، راشد ریاض وہ دیگر زبانوں کے شعراء میں مسٹر بھیم رائے ہیم نور، مسٹر سبھاش چندر کپاڑے اور مسٹر بھیمنا، شریمتی منگلا کپرے، شریمتی ننگمّا و دیگر نے اپنا کلام پیش کرتے ہوئے داد و تحسین حاصل کی اور ممتاز گلوکار و گیت کار مسٹر امر پریہ ہیرے مٹھ نے جدید ترین موسیقی آلات کی ساز پر ماہِ رمضان المبارک کی فضیلت پر کماری پریہ مٹپتی اور کماری مانوگنیان کی سنگت میں انتہائی مسحور کن آواز میں گیتوں کی پیشکش سے رنگ جماتے ہوئے سَماں باندھ دیا۔ جس سے متاثر ہوکر جناب عظیم الدین ایڈوکیٹ صدر ٹیپوسلطان ایجوکیشنل ٹرسٹ نے کماری پریہ مٹپتی اور کماری مانوگنیان کو ایک ہزار روپیوں کا تحفہ پیش کرتے ہوئے نئی فنکاروں کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔
   بین لسانی ہم آہنگی اور ثقافتی یگانگت کو فروغ دینے والی اس تقریب میں سید نذیرالدین نمائندہ خصوصی، کندریا کنڑا ساہتیہ پریشد، بنگلورو اور محمد عظیم الدین ایڈوکیٹ صدر ٹیپوسلطان شہید ایجوکیشنل ٹرسٹ گلبرگہ نے بھی بحیثیت مہمانانِ خصوصی شرکت فرمائی ۔ مسٹر اشوک گروجی سرپر کرناٹک ہندی پرچار سبھا و لوک ساہتیہ منچ نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور شریمتی شیاملا کلکرنی جنرل سیکرٹری لوک ساہتیہ منچ نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر منظور احمد دکنی اسوسیئٹ پروفیسر شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی ، جناب عبدالنبی صاحب ، جناب حیدر علی باغبان، سینئر صحافی مبین احمد زخم اور جناب اسلم چونگے کے علاوہ معززینِ شہر، ادباء و شعراء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ تقریب کے اختتام پر تمام معزز شرکاۓ کرام میں شِیر خُرْمَہ و دیگر لوازمات سے خاطِر تَواضُع کی گئی ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔