ادارہء ادب اسلامی وانم باڑی کی ماہانہ شعری نشست کے طرحی مصرعے پر ایک طنزیہ کاوش۔۔۔اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
ادارہء ادب اسلامی وانم باڑی کی ماہانہ شعری نشست کے طرحی مصرعے پر ایک طنزیہ کاوش۔۔۔
اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
"منہ میں جب تک زبان باقی ہے"
چونا باقی ہے پان باقی ہے
فکر کی بات اب نہیں کوئی
ڈیل کرنے کو ڈان باقی ہے
جیسے قبضے میں لی سوسائٹی کو
ایسا اک اور پلان باقی ہے
کہنے کو جھوٹ اک زباں ہے اور
چغلی سننے کو کان باقی ہے
اردو مکتب میں شعبہ ء اردو
یعنی اس میں پران باقی ہے
کھانے والے تو رہ گٸے ہیں اور
کیا کریں صرف نان باقی ہے
شہر میں ہے مشاعروں کا شور
یعنی اردو زبان باقی ہے
مصنوعی سانس دے کے کہتے ہیں
دیکھو میت میں جان باقی ہے
زندہ جب تک رفیقیؔ ہے یارو
سمجھو بستی میں گیان باقی ہے
Comments
Post a Comment