نظم : فریادِ انسانیت اور نوحۂ اُمّت۔۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی۔


نظم : فریادِ انسانیت اور نوحۂ اُمّت۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی۔ 

پھر آسماں دھواں دھواں سا ہوا،
فضا زہر آلود ہوئی،
یوں لگا جیسے عرشِ الٰہی بھی
آہِ مظلوم سے بوجھل ہوا،
موسموں کی رت بدلی
انسانی جہت بدلی،
دلوں سے اُٹھ گئی وہ روشنی،
جو ذکرِ حق سے منور تھی،
باہمی الفت و محبت بدلی،
رحمت کے سائے سمٹنے لگے،
وہ دل جو ایک درد پہ تڑپتے تھے،
اب سنگِ دل بننے لگے،
ہم نشیں کے درد سے
جہاں کسک اٹھتی تھی کبھی،
وہ دھنک رنگ رت بدل گئی،
اب اشک بھی بے اثر ہونے لگے،
انسان کو انسان مارے
کیا طفل، کیا دوشیزہ،
کیا معصومین، کیا محرومین، کیا مریضین،
سبھی نشانۂ جور و ستم ٹھہرے۔
یہ سب نرم لقمے نظر آنے لگے،
درندوں کی صفت جاگ اٹھی،
نفسِ امّارہ کے پنجے میں، روحِ آدمی قید ہو گئی،
کوئی ہمدرد، کوئی خیرخواہ،
اب اپنا سا نہیں لگتا،
ہر چہرہ اجنبی ٹھہرا،
ہر دل میں اندھیرا پلتا،
چارسو لاشوں کے انبار ہیں،
محلوں کے ملبے چیخ اٹھتے، ہر اینٹ سے صدائیں آتیں،
"کہاں گئی وہ انسانیت؟"
یہ قحطِ انسانیت کا دور ہے،
یہ شکستِ آدمیت کا نوحہ،
زمیں لہو سے بھیگ گئی،
اور فلک بھی رو پڑا،
اور عجب منظر یہ دیکھا،
حکمرانوں کے جشنِ فتح،
جیسے کربلا پھر زندہ ہو،
اور یزیدیت مسکرا اُٹھی،
اے ربِ کائنات!
ہم پر کرم کی نظر فرما،
دلوں میں پھر سے نورِ ایمان،
اور عشقِ مصطفیٰؐ عطا فرما، ہمیں وہ دردِ دل واپس دے
جو بندوں کے کام آتا ہے، ہمیں وہ روح عطا کر،
جو حق کے آگے جھک جاتی ہے،
یہ دنیا فانی، یہ ظلم عارضی،
تیرا عدل باقی رہنے والا،
تو ہی مالک، تو ہی قاضی،
تو ہی سب کا نگہبان تو ہی والی ہے ۔۔۔

عقیل خان بیاولی۔
جلگاؤں 9822993710.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔