انجمن ڈگری کالج بیجاپور شعبہ اردو کے زیر اہتمام بعنوان اردو ترجمہ نگاری کی اہمیت پر سرٹیفکیٹ کورس کا آغاز
بیجاپور (راست) نامہ نگار رفیع بھنڈاری 29 مارچ انجمن ڈگری کالج بیجاپور شعبہ اردو کے زیر اہتمام بعنوان اردو ترجمہ نگاری کی اہمیت پر سرٹیفکیٹ کورس کا آغاز۔۔ اس اجلاس سے ڈاکٹر ایس جے جاگیردار ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی پروفیسر ایم اے پیران کا خطاب _____ ڈاکٹر ایس۔جے۔ جاگیردار پرنسپل انجمن ڈگری کالج نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں علم کے تبادلے کے لیے ترجمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سرٹیفیکیٹ کورسز طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ترجمہ صرف الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبوں اور افکار کی منتقلی کا نام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عصرِ حاضر میں ترجمہ نگاری کے ذریعے نئی معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور طلبہ کے لیے یہ میدان وسیع امکانات انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کورس طلبہ میں ترجمہ نگاری کا ذوق پیدا کرے گا اور مستقبل میں معیاری مترجمین تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا ۔اس ک بعد پروفیسر ایم اے پیرا صدر شعبہ ہندی نے اپنے اظہار خیال میں ترجمہ نگاری کو تعلیمی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر علم و تحقیق کے تبادلے میں مترجمین کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں سائنسی، سماجی اور ادبی مواد کے ترجمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اردو داں طبقہ جدید علوم سے مستفید ہو سکے۔ انہوں نے اس سرٹیفیکیٹ کورس کو طلبہ کے لیے ایک سنہرا موقع قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام طلبہ کی علمی و عملی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترجمہ نگاری کے ذریعے طلبہ نہ صرف مختلف زبانوں کے ادب اور علوم سے واقف ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی حاصل کر سکیں گے۔ اس بعد ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی صدر شعبہ اردو انجمن ڈگری کالج نے اپنے اظہار فرمایا ترجمہ نگاری عصرِ حاضر کی علمی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے نئے افکار، تحقیقات اور سائنسی معلومات کو اپنی زبان میں منتقل کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے، اور یہ ذمہ داری مترجمین ہی ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترجمہ نگاری دراصل زبانوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کا موثر ذریعہ ہے، جس کے ذریعے مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ترجمہ نگاری کو محض ایک تعلیمی سرگرمی نہ سمجھیں بلکہ اسے علم کے فروغ کا مشن بنائیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے سرٹیفیکیٹ کورس طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کورس کے ذریعے نئی نسل میں ترجمہ نگاری کا شعور پیدا ہوگا اس اجلاس کی نظامت ماہین اتھنی بی ایس سی فورتھ سمسٹر نے فرمائی طیبہ منیر بی ایس سی فور تسم نے کلام پاک سے اس محفل کا اغاز فرمایا اور او میرا پٹیل کے شکریہ پر اجلاس کا اختتام عمل میں ایا
Comments
Post a Comment