ملا ہے عزمِ سفر تیرے دم قدم سے مجھے - مرّتب:- ف۔خ۔مسّرت۔


ملا ہے عزمِ سفر تیرے دم قدم سے مجھے - 
 مرّتب:- ف۔خ۔مسّرت۔

ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے  
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے۔۔۔!!  
(منظور ندیم)

معمارِ قوم سبھی اساتذۂ کرام کو یومِ اساتذہ مبارک۔

یومِ اساتذہ دنیا بھر میں مختلف تاریخوں پر منایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ دن عموماً پانچ ستمبر کو ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی سالگرہ پر منایا جاتا ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں یونیسکو کے تحت پانچ اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ ان تمام دنوں کا مقصد ایک ہی ہے: ان لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ دوسروں کی تعلیم و تربیت میں صرف کر دیا۔
ہر سال پانچ ستمبر کو جب ہم یومِ اساتذہ مناتے ہیں تو دل میں ایک عجیب سی عقیدت اور شکرگزاری کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تقریب نہیں بلکہ اس عظیم پیشے کے احترام کا اعلان ہے جو نسلوں کی تعمیر کرتا ہے، قوموں کو زندہ رکھتا ہے اور انسانیت کو روشنی دکھاتا ہے۔
دنیا میں کروڑوں افراد سینکڑوں پیشوں سے وابستہ ہیں، لیکن ان سب میں جس پیشے کو عزت، افتخار، شہرت، تقدس اور شان و شوکت حاصل ہے، وہ پیشۂ معلمی ہے۔ پیشۂ معلمی کا وجود معلم سے وابستہ ہے، اسی لیے ایک معلم کو معمارِ انسانیت اور افتخارِ آدمیت بھی کہا گیا ہے۔

ایک معلم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ چودہ سو سال پہلے اہلِ عرب جو زبان کے اعتبار سے فصیح و بلیغ تھے، ان کے لیے براہِ راست کلامِ اللہ سمجھنے میں کیا دقت ہو سکتی تھی؟ جبکہ خود ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ قرآن کا آسمان سے ہر فرد کے لیے علیحدہ نسخہ نازل ہو جائے۔ مگر باوجود اس کے ربِّ ذوالجلال نے اپنی سنت کے مطابق بطورِ معلم پیغمبرِ اسلام، رسول اللہ ﷺ کا انتخاب فرمایا اور حضور ﷺ کے ذریعے اپنی مقدس کتاب کے علوم، رموز، احکام اور قربِ خداوندی کے اسرار اس وقت کے مخاطبینِ اول کے سینوں میں منتقل فرمائے۔

اس بات کی گواہی خاتم النبیین ﷺ کے اس فرمان میں موجود ہے:  
**«اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا»**  
یعنی ”میں تو معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“

آپ ﷺ ایسے معلمِ اولین و آخرین ہیں کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے علم و فن کے دریا بہتے ہیں۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے اپنے آپ کو علم کا شہر قرار دیا۔ یہ آپ کے افکارِ علم و فن کے فروغ و ارتقاء کی معراج ہے۔
ایک معلم سماج کی فکری و ذہنی ارتقاء اور نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنی میراث کے بجائے میراثِ پیغمبری تقسیم کرنے والا ہے۔ اسی نکتہ نے پیشۂ معلمی کو تقدس عطا کیا۔ ایک معلم کا فریضہ صرف ایک بالٹی کے پانی کو دوسری بالٹی میں ڈالنا نہیں بلکہ اپنے سینے کے گنجینۂ الفاظ و معانی کو پورے شعور، فکر، صلاحیت اور صالحیت کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔
استاد صرف معلومات منتقل کرنے والا نہیں ہوتا۔ وہ کردار ساز ہوتا ہے۔ وہ بچے کے اندر چھپی صلاحیتوں کو نکالتا ہے، اسے خود اعتمادی دیتا ہے اور زندگی کے طوفانی سمندر میں تیرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ ایک اچھا استاد شاگرد کے لیے باپ سے بڑھ کر ہوتا ہے، کیونکہ باپ جسمانی پرورش کرتا ہے جبکہ استاد روحانی اور ذہنی پرورش کرتا ہے۔
ایک سچا اور حقیقی معلم کتابی لفظوں اور جملوں کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ اس لفظی کتاب سے ہٹ کر شعور و فکر کی وہ کتاب جو اس کی حرکات و سکنات، دلی کیفیات، صداقت و امانت اور بصارت و بصیرت سے تصنیف پاتی ہے، اپنے شاگردوں کو پڑھاتا ہے۔ اسی کے ان دیکھے تاثرات کے تحت ابو حنیفہ، غزالی، رومی، عطار، رازی، ابن سینا، ارسطو اور ابن قیم جیسے لافانی شہرت کے حامل شاگرد تشکیل پاتے ہیں اور تاریخ کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔
ایک باشعور، بااحساس، بابصیرت اور استادِ کامل کی جگہ کوئی مشکل ہی سے پا سکتا ہے۔ ہر مدعی اس کا اہل ثابت نہیں ہو سکتا۔

ایک جوہری پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے اور ایک معلم آدمی کے بچے کو تراش کر انسان بناتا ہے۔ ایک معمار ظاہری عمارت کھڑی کرتا ہے، جبکہ ایک معلم طالب علم کی ذہنی، فکری و شعوری عمارت کی تعمیر کرتا ہے جو اپنے فکر و تدبر کی ایک شمعِ تاباں سے ہزاروں عمارتوں کو روشن کر دیتی ہے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے متعلق بھی ملتا ہے کہ وہ اپنے استاد کے گھر کی سمت اپنے پاؤں پھیلانا بے ادبی سمجھتے تھے۔ صرف علومِ دینیہ ہی نہیں بلکہ عصری و فنی علوم میں بھی استاد کا کردار واضح ہے۔ مشہور سائنس دان البرٹ آئن سٹائن استاد کی اہمیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:  
*تخلیقی اظہار اور علم میں خوشی بیدار کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے*۔“  

اسی طرح نامور رومی بادشاہ سکندرِ اعظم استاد کی اہمیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں:  
”میں زندگی گزارنے کے لیے اپنے والد کا مقروض ہوں، مگر اچھی زندگی گزارنے کے لیے اپنے استاد کا مقروض ہوں۔“

*میں معلم ہوں کہ تدریس ہے میرا شیوہ*  
*نامہذب کو میں تہذیب کی ضو دیتا ہوں*  
*میری ہستی ہے ضیاؔ خلق و مروت کا چراغ*  
*میں زمانے کو نئے عزم کی لو دیتا ہوں*

(*کلیم ضیاء*)

ہر معلم اعزاز یافتہ ہے کیونکہ وہ *کارِ پیغمبری* کر رہا ہے۔ اپنے فرائض و ذمہ داریوں کی ایماندارانہ ادائیگی کا دنیا و آخرت میں اجرِ عظیم ہے۔
معلم کا کام نصاب کی تکمیل تک محدود نہیں رہتا۔ ایک اچھا معلم وہ ہوتا ہے جو اپنے شاگرد کی کردار سازی اور ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر کی طرف بھی توجہ دے اور اس کے اخلاق سنوارے۔
ایک بہترین حکایت یوں روایت ہے کہ افلاطون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا:  
”آپ کا نوکر بازار میں کھڑا ہو کر آپ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا تھا۔“
سقراط نے مسکرا کر پوچھا: ”وہ کیا کہہ رہا تھا؟“
افلاطون جذباتی لہجے میں بول پڑا: ”آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔۔۔!“

اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا:  
”تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو، اس کا تجزیہ کرو، اور اس کے بعد فیصلہ کرو کہ تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے یا نہیں۔“
افلاطون نے عرض کیا: ”یا استاد! تین کی کسوٹی کیا ہے؟“
سقراط بولے:  
”کیا تمہیں یقین ہے کہ جو بات تم مجھے بتانے لگے ہو وہ سو فیصد سچ ہے؟“
افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔
سقراط نے ہنس کر کہا: ”پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ یہ پہلی کسوٹی تھی۔
اب دوسری کسوٹی: مجھے تم جو یہ بات بتانے لگے ہو، کیا یہ اچھی بات ہے؟“
افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا: ”جی نہیں، یہ بری بات ہے۔“
سقراط نے مسکرا کر کہا: ”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے؟“

افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا۔
سقراط بولے: ”گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پوری نہیں اترتی۔
اور آخری کسوٹی: یہ بتاؤ کہ جو بات تم مجھے بتانے لگے ہو، کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟“
افلاطون نے انکار میں سر ہلایا اور عرض کیا: ”یا استاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔“
سقراط نے ہنس کر کہا: ”اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟“
سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول ہزاروں سال قبل وضع کر دیے تھے، اور اس کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے:

1. *کیا یہ بات سو فیصد درست ہے؟*  
2. *کیا یہ بات اچھی ہے؟*  
3. *کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟*
اگر بات ان تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تو وہ بے دھڑک بول دیتے، ورنہ خاموش رہتے۔
آج ہمارے معاشرے کو بھی اس ”تین کی کسوٹی“ کی بہت ضرورت ہے۔ جہاں نقطہ چینی، چغل خوری، تہمت بیانی اور گمراہ کن باتوں کا دور دورہ ہے اور ہر فرد دوسرے کے لیے زبان کے تیر چلانے کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔
آج کے دور میں استاد کو کئی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور آن لائن تعلیم نے روایتی کلاس روم کو متاثر کیا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ گوگل اور یوٹیوب استاد کی جگہ لے سکتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ٹیکنالوجی معلومات تو دے سکتی ہے مگر کردار سازی، حوصلہ افزائی اور اخلاقی تربیت صرف ایک زندہ انسان ہی کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ معاشرتی طور پر بھی استاد کا مقام کم ہوتا جا رہا ہے۔ غیر محفوظ ماحول، والدین کا غیر ضروری دباؤ اور طلبہ میں بڑھتی ہوئی بے ترتیبی اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اگر قوم ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے اساتذہ کو معاشی اور سماجی طور پر باعزت بنانا ہوگا۔ کوئی بھی ملک اپنے قدرتی وسائل، فوج یا صنعتوں سے نہیں بلکہ اپنے اساتذہ کی قابلیت سے ترقی کرتا ہے۔ جاپان، سنگاپور، فن لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے تعلیم اور اساتذہ کو سب سے زیادہ ترجیح دے کر معجزاتی ترقی کی۔ اس کے برعکس جہاں استاد کو نظر انداز کیا گیا، وہاں معاشرہ اخلاقی اور فکری طور پر گر گیا۔
یومِ اساتذہ صرف پھول پیش کرنے یا تقریر کرنے کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن خود احتسابی کا دن ہونا چاہیے۔ طلبہ کو چاہیے کہ اپنے اساتذہ کا ہمیشہ احترام کریں، ان کی باتیں دل سے سنیں، ان کی دعائیں حاصل کریں اور ان کی خدمات کا شکر ادا کریں۔
والدین کو چاہیے کہ استاد کے فیصلوں کا احترام کریں اور گھر پر تعلیم کے ماحول کو مضبوط بنائیں۔ حکومت اور معاشرے کو چاہیے کہ اساتذہ کی تنخواہیں بہتر بنائیں، ان کے لیے تربیت کے مواقع فراہم کریں اور انہیں معاشرتی احترام دیں۔

اللہ پاک سب کو اپنے فرائض کی منصفانہ ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔