نظام حکومت پر تنقید اپنی جگہ لیکن نظام نے ہمارے علاقے میں جو ترقیاتی کام کئے ہیں اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے:انیل بیلدارکلیان کرناٹک اتسو کے موقع پر کثیرلسانی مشاعرہ کاکامیاب انعقاد


 بیدر۔ 16/ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) ہندوستان 15/اگست 1947؁ء کو آزاد ہوامگر ہمارا علاقہ کلیان کرناٹک (سابقہ نام حیدرآباد کرناٹک) 17/ستمبر 1948؁ء کو نظام حکومت سے آزادہوا، جس کے لئے وزیر داخلہ سردارولبھ بھائی پٹیل نے آپریشن پولو کے ذریعہ حیدرآباد کی نظام حکومت کو ہندوستان سے الحاق کرلیا۔ 540سے زیادہ حکومتیں اکھنڈ بھارت کی تشکیل کے لئے بھارت میں الحاق کی گئیں۔ آخری حکومت نظام کی تھی۔ جس کو 17/ستمبر 1948؁ء کو بھارت میں الحاق کرلیاگیا۔ یہ باتیں 371(J)کے جہدکاراورحیدرآباد کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے جنرل سکریڑی جناب انیل بیلدار نے کہیں۔ وہ ضلع انتظامیہ، محکمہ کنڑا اینڈ کلچر، کرناٹک براہگاررا متو کلاودررا سنگھ بیدر اور کرناٹک ساہتیہ سنگھ بیدر کے اشتراک سے کلیان کرناٹک اتسو کے موقع پر ”قومی بھائی چارہ“ عنوان کے تحت اے ایس آرکنونشنل ہال،موقوعہ عقب گرونانک اسپتال بیدر میں منعقدہ کثیرلسانی مشاعرہ اور خصوصی لیکچرتقریب میں خصوصی لیکچر دے رہے تھے۔اس لیکچر کے تعلق سے تقریب کے صدر ڈاکٹر جگناتھ ہباڑے نے بتایاکہ یہ خصوصی لیکچر نظام حکومت سے آزادی، دفعہ 371(J)کے لئے جدوجہداور علاقہ کلیان کرناٹک کی ترقی سے متعلق مستقبل کے لائحہ عمل جیسے تین نکات پر مشتمل ہے۔ ہماری نئی نسل کوہماری تاریخ کا پتہ ہونا چاہیے کہ ہماراعلاقہ کب آزاد ہوااور یہاں کن چیزوں کی کمی ہے تاکہ ہم ان چیزوں کے حصول کے لئے مل جل کر جدوجہد کرسکیں۔ جناب انیل بیلدار نے صدارتی کلمات کے تینوں نکات پر بات کی اور کہاکہ نظام حکومت پر تنقید اپنی جگہ لیکن نظام نے جو ترقیاتی کام اس علاقے میں کئے ہیں اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ نظام شوگر فیکٹری اسی زمانے میں قائم کی گئی جو وقت کی بڑی ضرور ت تھی۔ بڑ ے بڑے ڈیم تعمیر کئے گئے۔ پانی اور سڑکوں کا عمدہ انتظام رہا۔یونیورسٹی بنائی گئی۔ میرے والد خود اردو پڑھ چکے ہیں۔ نظام کے دور میں ہرطرف اردو زبان میں پڑھائی ہوتی تھی۔ ہمارے اس علاقے کوجب نظام سے آزادی ملی تو اس کے بعداس علاقے کو کرناٹک میں شامل کرلیاگیا۔ کرناٹک کی صورتحال یہ رہی کہ میسور کے راجا نے اپنے ہاں ڈگری کالج سوسال پہلے ہی قایم کرلیاتھا۔ جب کہ ہمارے علاقے کلیان کرناٹک میں میسور کے 100سال بعد 1960؁ء میں بی وی بی ڈگری کالج بیدر قائم ہوا۔ یہ اہل بیدر کی اور علاقہ کے افراد کی بدقسمتی ہے کہ ہم کرناٹک میں رہتے ہوئے بھی میسور والوں سے پیچھے رہے۔ 371(J)کی جدوجہد سے متعلق تفصیلی بات انھوں نے کی اور بتایاکہ چنچولی کے ویجناتھ پاٹل ہکیال کی قیادت میں جو مطالبہ اٹھا اس کاکسی بھی سیاسی پارٹی نے ساتھ نہیں دیا۔ تنہا انھوں نے کام کیا۔جو آہستہ آہستہ مختلف تعلیمی اداروں کے تعاون عمل سے جاری رہا۔ جن میں بیدر کاشاہین ادارہ بھی شامل ہے۔ جب یہ تحریک نے تیزی پکڑی تب 371(J)کا مطالبہ قبول کرلیاگیا۔ اس وقت کے رکن پارلیمنٹ دھرم سنگھ اور مرکزی وزیر ملیکارجن کھرگے کے تعاون عمل سے یوپی اے سکنڈ کے دورمیں 371(J)کاپروویژن ہمیں ملا۔ جس کی بناپر ہمارے پچھڑے علاقے کو تعلیم اور نوکریوں میں آسانیاں ہوئیں۔ آج ہمارے پاس ہمارے اپنے ڈاکٹر س اور انجینئرس ہیں۔ جب کہ افسوس کی بات ہے کہ جو رقم ہمارے علاقے کوآج 371(J)کے تحت مل رہی ہے اس کے خلاف جنوبی کرناٹک کے چند ناعاقبت اندیش افراد نے عدالت میں پٹیشن داخل کیاہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کلیان کرناٹک علاقے کواس قدر رقم نہ ملے یعنی یہ علاقہ ترقی سے محروم ہی رہے۔ انیل کمار بیلدار کی گفتگو کاماحصل یہی رہاکہ ہمارے علاقے کلیان کرناٹک کو ترقی کرنا ہے اس کے لئے سبھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاکر چلناہوگا۔ پروگرام کا آغاز محترمہ سریکھا وی کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بیدر کے ہاتھوں پودے کو پانی دے کر کیاگیا۔محترمہ سریکھا نے اپنے خطاب میں طلبہ وطالبات سے دریافت کیاکہ علاقہ کلیان کرناٹک کی آزادی کے بارے میں آپ پہلے سے جانتے تھے یانہیں۔ ایک آدھ طلبہ کے علاوہ سبھی نے کہا”نہیں جانتے تھے۔ لیکچر کے بعد ہی پتہ چلاکہ ہمیں آزادی 1948؁ء میں ملی ہے۔ محترمہ سریکھا وی کے نے تفصیل سے بتایاکہ جن لوگوں نے آزادی کی لڑائی لڑی ہے انہیں یاد رکھاجاناچاہیے۔ بعدازاں کثیرلسانی (5زبانوں پر مشتمل) مشاعرہ ہوا۔ جس میں کنڑا، ہندی، مراٹھی، اردو اور انگلش کے شعراء نے اپنااپنا کلام پیش کیا۔ شعرا ئے کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں۔ بھارتی وسترد، پنیاوتی وساجی، ڈاکٹر کرشناوینی بی پاٹل، منجوماروتی مالیکر، محترمہ وجراپاٹل، محترمہ پاروتی سونارے، جناب سید لطیف خلش ؔ،(اردو) ڈاکٹر مستقیم بیگم (اردو)، ڈاکٹر ساوتری ہباڑے، محترمہ جے شری سکھالے، ڈاکٹر پاٹل ششی کانت (انگریزی)، جناب سنیل آڑے (ہندی)، جناب امیرالدین امیرؔ(اردو)، کماری امولیہ ایس (ہندی)، محترمہ پشپا کنک، محترمہ سنیتا داڑگے، جناب ماروتی بھیمنا (ہندی)، جناب حامد سلیم حامد (اردو)، سینئر شاعر چندر شیکھرسندھے (مراٹھی)، محمدیوسف رحیم میرؔبیدری (اردو)، ڈاکٹر عرشیہ جبین (انگریزی)، محترمہ شیلجا جی ہوڈگے،محترمہ چنما ں وللے پورے،محترمہ شانتماں بلور، محترمہ ساریکا گنگا، محترمہ سریتا سندھے (مراٹھی)،جناب ایس بی کچباڑ،محترمہ سید ہ اسریٰ اطہر قادری (اردو)، اور بھومی نے اپنی بڑی بہن ارنی نوین کی انگریزی نظم پڑھی۔جن اسمائے گرامی کے سامنے کچھ نہیں لکھاہے انھوں نے کنڑی زبان میں نظمیں پیش کیں۔ محترمہ سنیتا داڑگے، محترمہ شیلجا، محترمہ شانتماں بلو ر، سنیل آڑے، ڈاکٹر ساوتری ہباڑے، منجوماروتی، پنیاوتی وساجی، حامد سلیم، سیدہ اسریٰ فاطمہ، ڈاکٹر پاٹل ششی کانت اور میرؔبیدری کاکلام متعلقہ موضوع یعنی”قومی بھائی چارہ“کے مطابق اور موثر رہا۔جس کو کافی پسند کیاگیا۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر سنیتا کوڈلیکر کے ذمہ تھی، انھوں نے خوبی کے ساتھ نظامت کی۔ ڈاکٹر راج کمار ہباڑے بھی ان کی نظامت میں کچھ دیر کے لئے شریک رہے۔ تمام شعراء کو ایک کتاب اور توصیفی سند سے نوازاگیا۔ اور شکریہ پر تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔ بعدازاں سبھی کے لئے طعام کانظم دیکھنے کوملا۔ 
 تصویر منسلک ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔