روزنامہ تعمیر: ایک اخبار جس نے نئی نسل کے قلم سنوارے - سید فاروق احمد قادری۔


روزنامہ تعمیر: ایک اخبار جس نے نئی نسل کے قلم سنوارے - 
سید فاروق احمد قادری۔

دنیا میں بادشاہوں کی بادشاہتیں بدل گئیں، شہنشاہوں کی شہنشاہیتیں ختم ہوگئیں، حکومتیں بدل گئیں اور سیاست کے انداز بھی بدل گئے، لیکن سچے مصنف کا قلم آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ یہی قلم عوام میں شعور پیدا کرتا ہے، ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ہر مذہب اور ملت کے لوگوں نے حصہ لیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے روزنامہ الہلال جاری کرکے صحافت کی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کی تحریروں نے عوام میں بیداری پیدا کی اور آزادی کی تحریک کو فکری قوت فراہم کی۔ آج بھی بدعنوانی کے خلاف عوامی مظاہروں، اخبارات کی خبروں اور قلم کاروں کی تحریروں میں اسی بیداری کی جھلک نظر آتی ہے۔
انسان کی کامیابی صرف اس کی اپنی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے اساتذہ، رہنما، ساتھی اور وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر راستہ دکھاتے اور حوصلہ دیتے ہیں۔ طالب علم ہو یا ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، تاجر، صحافی یا ادیب، ہر کامیاب انسان کے سفر میں کسی نہ کسی رہنما کا کردار ضرور ہوتا ہے۔
میری اپنی صحافتی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔ تقریباً تیرہ برس کی عمر سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور وقت کے ساتھ یہ شوق صحافت سے جڑتا گیا۔ دہلی سے شائع ہونے والے روزنامہ ملت سے نامہ نگاری کا تعلق رہا اور میری خبریں و تحریریں اردو ٹائمز سمیت مختلف اخبارات میں شائع ہوتی رہیں۔ اس سفر میں کئی اہلِ قلم نے اپنے اپنے انداز میں میری رہنمائی کی۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے قاضی مخدوم صاحب کا ذکر ضروری ہے، جو میرے ہم زلف اور سگے پھوپھی زاد بھائی بھی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد صحافت کا رخ کیا۔ روزنامہ انقلاب کے نامہ نگار رہے اور تقریباً 2000ء میں فخر ملت احمد بن عبود چاوش اور مبارک کاپڑی مشہور و معروف ماہر تعلیم ممبئی کی سرپرستی میں بیڑ سے روزنامہ تعمیر جاری کیا۔
تعمیر صرف ایک اخبار نہیں تھا؛ وہ بیڑ میں اردو صحافت کی ایک ایسی درس گاہ بن گیا جہاں بہت سے نوجوانوں نے بیٹھ کر صحافت سیکھی، خبر لکھنے کا سلیقہ حاصل کیا اور اپنے قلم کو آگے بڑھایا۔ قاضی مخدوم صاحب نے مقامی مسائل کو صحافت کے ذریعے نمایاں کیا اور کئی نئے قلم کاروں کو آگے آنے کا موقع دیا۔
روزنامہ تعمیر کے آغاز کا زمانہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے۔ اس وقت موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا آج جیسا دور نہیں تھا۔ مقامی اردو اخبارات کی کمی تھی اور باہر سے آنے والے اخبارات اکثر دوسرے دن قارئین تک پہنچتے تھے۔ ایسے ماحول میں بیڑ اور مراٹھواڑہ کے اردو داں عوام تک مقامی، قومی اور عالمی خبریں پہنچانا ایک اہم ضرورت تھی۔ تعمیر نے اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی اور اردو صحافت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
آج تعمیر سے سیکھ کر صحافت کے میدان میں آگے بڑھنے والے کئی نام مختلف اخبارات اور اداروں میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ اورنگ آباد ٹائمز کے م۔ناگ، ظفر خان ناز، عمیر سلیم، سراج صاحب آرزو، جاوید صاحب، اعتماد حیدرآباد سے وابستہ ساتھی، ندیم مرزا، قمر الایمان خان ، قمر ناز، واثق الاسلام قادری، ذوالفقار الاسلام رضوان قادری، مسیح الاسلام قادری، کلام صاحب، شرف الدین،قاضی شفیع، شفیع گڈو، عظیم ، اظہر، خلیل فرہاد، غلام ثاقب، آر۔ آر۔ پٹیل، عامر سلیم، رئیس فتح آبادی، فہد قاضی، رفیق یونک، عابد امان، ارشد صدیقی اسد قاضی اور حسین اختر، جو آج مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے چیئرمین ہیں، ان سب کا ذکر ضروری ہے۔
ان میں سے کئی لوگوں نے تعمیر کے دفتر میں بیٹھ کر صحافت کا ماحول دیکھا، خبروں کے انداز کو سمجھا اور اس میدان میں اپنے قدم آگے بڑھائے۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ بلند مقام پر ہیں۔ کچھ نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہے، لیکن تعمیر سے وابستہ ان تمام لوگوں کی صحافتی تاریخ میں اپنی جگہ ہے۔ ان سب کی کامیابی میں یقیناً ان کی اپنی محنت، صلاحیت اور جدوجہد شامل ہے، لیکن جس جگہ سے ابتدائی سبق ملا اور جس ماحول نے صحافت کی بنیاد مضبوط کی، اسے یاد رکھنا بھی احسان شناسی ہے۔
میرے صحافتی سفر میں م۔ ناگ صاحب کی رہنمائی بھی اہم رہی۔ وہ صحافت کے وسیع تجربے کے حامل تھے اور سہارا کے چیف ایڈیٹر، بمبئی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان سے صحافت کی باریکیوں، خبر کی اہمیت اور قلم کی ذمہ داری کو سمجھنے میں مدد ملی۔
اسی طرح قاضی مشیر صاحب نے ادب اور صحافت کے میدان میں میری حوصلہ افزائی کی۔ ان کی رہنمائی سے یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ ایک قلم کار کے لیے مطالعہ، مشاہدہ اور مسلسل سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔
غلام ثاقب صاحب عمر میں مجھ سے کم ہیں، لیکن صلاحیت عمر کی محتاج نہیں۔ وہ شاعر، ادیب اور مصنف ہیں اور ان کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی ادبی صلاحیت میرے لیے اس بات کی مثال ہے کہ انسان کو سیکھنے کے لیے عمر نہیں بلکہ قابلیت، فکر اور مطالعے کو دیکھنا چاہیے۔
ان تمام شخصیات کا کردار الگ الگ رہا، مگر سب نے میرے قلم کے سفر میں کسی نہ کسی انداز سے حوصلہ دیا۔ میری پہلی کتاب ’’سلگتا احساس‘‘ 2011ء میں شائع ہوئی، جس میں میرے سابقہ اخباری مضامین اور کالم شامل ہیں۔ اس کتاب میں سیاست کی اتھل پتھل، دینی موضوعات، اسلامی پیغام، ہندو مسلم فسادات، دہشت گردی، مسلم نوجوانوں کی بے جا گرفتاریاں، رشتوں کی اہمیت، فلسطین اور آج کی کربلا جیسے موضوعات شامل ہیں، جہاں بے گناہ معصوم بچوں کی چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ سماجی منظرنامے میں جونا بازار سے لے کر بشیر گنج تک اور بمبئی سے یو این اور واشنگٹن تک کے حالات و واقعات کو بھی قلم بند کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں میری صحافتی زندگی کے مختلف ادوار اور مشاہدات کی جھلک صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔ دوسری کتاب کی اشاعت کی کوشش بھی جاری ہے۔
یہ میری اپنی محنت کا نتیجہ ہے، لیکن ان لوگوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے میرے سفر میں روشنی دکھائی۔
افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کسی کی تحریر شائع ہو یا اسے کامیابی ملے تو خوش ہونے کے بجائے بعض لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’یہ کب شائع ہوا؟ کہاں شائع ہوا؟ کیسے شائع ہوا؟‘‘ شاید یہ انسانی کمزوری ہے، مگر ہمیں اس سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔
کسی کے قلم سے اچھی تحریر نکلے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ کسی نوجوان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے تو اسے روکنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ کیونکہ ایک اچھے قلم کار کی کامیابی صرف اس کی اپنی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ اس سے معاشرے میں شعور، فکر اور بیداری پیدا ہوتی ہے۔
رومی کا مفہوم ہے کہ حسد کرنے والا دوسرے کو جلانے کی کوشش میں خود اپنی آگ میں جلتا ہے۔ اس لیے دوسروں کی کامیابی سے پریشان ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیے اور دعا دینی چاہیے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ کسی دوسرے کی ترقی ہماری ناکامی نہیں۔ جس شخص نے محنت سے مقام حاصل کیا ہے، اس کی کامیابی کو تسلیم کرنا اور خوشی محسوس کرنا ہی بڑے دل کی نشانی ہے۔ اور جس استاد، ادارے یا ساتھی نے کبھی ہماری انگلی پکڑ کر راستہ دکھایا ہو، اسے زندگی بھر یاد رکھنا چاہیے۔
دوسروں کی کامیابی پر حسد نہیں، دعا کیجیے؛ کیونکہ ایک فرد کی کامیابی پورے معاشرے کی کامیابی بن سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔