اہل بھالکی اپنے بچوں کاداخلہ اردو اسکولوں میں کرائیں،نئے شعراء اور ادیب کی تربیت کااہتمام کرنے کی اپیل - کرناٹک اردو اکادمی کے کل ہندمشاعرہ کا صدارتی خطاب
بیدر۔ 27/ستمبر۔(راست) کرناٹک اردو اکادمی کے کل ہندمشاعرے میں شاعروادیب، افسانہ نگار، خاکہ نگار اور کئی کتابوں کے مصنف جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے صدارتی خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں بہت سے امور زیربحث آئے ہیں، جن کا تعلق اردو زبان کی ترقی، مولانا آزاد نیشنل اردو ینونیورسٹی (مانو) حیدرآباد کاسیٹلائٹ کیمپس،بھالکی کے اردو اسکول، شعراء اور بھالکی کی تاریخ سے ہے۔26/ستمبر 2026ء بروزہفتہ کو دیاگیا محمدیوسف رحیم میرؔبیدری کا صدارتی خطبہ ملاحظہ کیجئے۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ہمار ے ہردلعزیز سیاسی قائد جناب ایشور کھنڈرے صاحب،وزیر دیہی ترقیات اور پنچایت راج وضلع انچار ج وزیر،قومی صدر آل انڈیا ویرشیوالنگایت مہاسبھا، محترم مہمانان خصوصی مولانا جلال الدین صاحب قاسمی امام جامع مسجدبھالکی، مولانا عبدالغفور رضوی امام مسجد گڑھی بھالکی، جناب سلیم الدین چودھری صاحب صدرمدرسہ مفتاح العلوم بھالکی، جناب جے راج پترے صاحب صدر جرنلسٹ اسوسی ایشن بھالکی، جناب شیخ عبدالنصیر صاحب چیرمین عیدگاہ کمیٹی وصدرسٹی کانگریس بھالکی، جمیع شعرائے کرام،مقامی منتظمین، مشاعرے کے قابل فخر کنوینر جناب محمدامین الدین صاحب۔
یہ مسرت کی بات ہے کہ کرناٹک اردو اکادمی کے ارباب مجاز خصوصاً چیرمین مفتی محمد علی قاضی مصباحی صاحب اور رجسٹرار ایس اعجاز پاشاہ وجمیع اراکین خصوصاًمحمد امین الدین صاحب رکن کرناٹک اردو اکادمی نے بھالکی شہر میں کل ہند مشاعرہ کااہتمام کیا۔ لہٰذا مذکورہ تمام ذمہ داران ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ واقعی ایک یاد گار مشاعرہ اہل بھالکی نے سنا۔ جس کیلئے اہل بھالکی بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مشاعرہ سننے کے لئے اپناقیمتی وقت دِیا۔ خدا کرے یہ ذوق و شوق اور بڑھے، کل ہند مشاعرے بھالکی کی سرزمین پر آئندہ بھی ہوتے رہیں۔
اردو ہبا بنگلور میں:۔ کرناٹک اردو اکادمی کاتعلق حکومت کرناٹک کی وزارت اقلیتی بہبود سے ہے۔،محکمہ اقلیتی بہبودکے فاضل وزیر یوٹی قادر صاحب ہیں۔انھوں نے بنگلور میں 26/ستمبر 2026یعنی آج ہفتہ سے پانچ روزہ ”کرناٹک پروو2026-“شروع کیاہے۔ جس کامقصدیہ بھی بتایاجارہاہے کہ اس پروو کے ذریعہ اقلیتی برادری کے دستکاروں، ہنرمندوں اور فن کاروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ روایتی دستکار ی، فنون اور تہذیبی ورثے کو وسیع سطح پر متعارف کرانا ہے۔بنگلور کے پیالیس گراؤنڈ میں یہ ”پروو“ آج سے 30ستمبر تک جاری رہے گا۔ جناب یوٹی قادر نے بتایاکہ ودھان سودھا کے روبرو”اردو ہبا“منعقد کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اردو زبان، ادب، تہذیب اور ثقافت کو عوام کے سامنے پیش کرنے کاموقع فراہم کیاجائے گا۔ کرناٹک اردو اکادمی کے سالانہ ایوارڈ کے انتخاب کے لئے ماہرین پرمشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی ان کے ہاں زیر غور ہے۔
اکادمی کی واپسی:۔میں ریاست کرناٹک کا باشندہ اور اردو کا ادنیٰ شاعروادیب ہونے کے ناطے وزیر اقلیتی بہود،وقف و حج اور صحت وخاندانی بہبود جناب یوٹی قادر صاحب سے اپیل کرتاہوں کہ کرناٹک اردو اکادمی کو دوبارہ محکمہ کنڑا اینڈ کلچر میں شامل کرنے کیلئے بھی کمیٹی تشکیل دیں۔سابق میں کرناٹک اردو اکادمی محکمہ کنڑا اینڈ کلچر سے وابستہ رہی۔بی جے پی کے دور حکومت میں اس کو وزارت ِ اقلیتی بہبود میں شامل کیاگیاتھا۔ اس کو دوبارہ محکمہ کنڑا اینڈ کلچر میں واپس لے جانا بھی ہم تمام کی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً وزیر اقلیتی بہبود یوٹی قادر صاحب اس طرف توجہ دیں گے۔ یہ اسلئے کہاجارہاہے کہ اقلیتوں کی علیحدہ سے زبان ہوسکتی ہے مگر ریاست کرناٹک میں ہمارا کلچر مشترک کلچر ہے، ہم سب قطعہ ء دکن سے وابستہ ہیں اور کنڑیگاز ہیں۔اکادمی کی کنڑا اینڈ کلچر میں واپسی ضروری ہے۔
میراتعلق بھالکی سے:۔ میں ذراسااپنی بابت بتادوں کہ میرا تعلق اسی تعلقہ بھالکی سے ہے۔ الوائی میراآبائی وطن ہے جوبھالکی سے 42کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جب کہ یہاں سے 7.5کیلومیٹر پر واقع بھاتمبرہ میرا ننھیال ہے اور جس بیدرمستقر سے میں تعلق رکھتاہوں وہ میری کرم بھومی اورمیرا سسرال ہے۔اردو کے صحافی اور اردو شاعر جناب قیصر رحمن مرحوم کاتعلق بھی بھالکی کے موضع مہکر سے تھا۔شاہین ادارہ جات کے بانی عبدالقدیر کاتعلق بھی بھالکی کے ہپلہ سے ہے۔ اسی طرح ضلع کانگریس کمیٹی بیدر کے نونامزد سیاسی شخصیت عبدالمنان سیٹھ اور ہمارے شاعر عبدالحنان سیٹھ کاآبائی وطن بھالکی تعلقہ کاموضع ہپلہ ہی ہے۔
بھالکی کی تاریخ چند جملوں میں:۔ بھالکی کااپنا تاریخی رول 1857ء کی جنگ آزادی اور اس سے قبل بھی رہاہے۔یہاں کابھالکیشور مندر کافی مشہور ہے۔ 12/ویں صدی کی بھکتی تحریک کے ایک رہنما ”کمبارا گنڈیا‘‘ کاتعلق بھی اسی علاقے سے ہونے کی بات بتائی جاتی ہے۔
بھالکی کارنجہ ندی اور اس پر بنائے گئے ڈیم کی بناپر ہمیشہ سرخیوں میں رہاہے۔ بھالکی تعلیمی لحاظ سے ترقی کرنے والا قطعہ ہے۔ گروکل اور شانتی وردھک ایجوکیشن سوسائٹی کے سی بی کالج اور بھیمنا کھنڈرے انجینئرنگ کالج کی شہرت دور دور تک ہے جس کے ذمہ دار ضلع انچارج وزیر ایشور کھنڈرے اور رکن پارلیمان بیدر جناب ساگر کھنڈرے ہیں۔ جب کہ آنجہانی وزیر ٹرانسپورٹ جناب بھیمنا کھنڈرے (جناب ایشور کھنڈرے کے والد محترم) عثمانیہ یونیورسٹی سے اردو میں قانون کی ڈگری حاصل کئے ہوئے تھے۔بنگلور کے معتبراردو صحافی شرف الدین سید کے بموجب آنجہانی بھیمنا کھنڈرے کو اردو ہی نہیں بلکہ فارسی بھی آتی تھی۔ میری شد بدفارسی کی بدولت انھوں نے مجھ سے کئی دفعہ بات کی۔ گذشتہ دِنوں سی بی کالج بھالکی میں ایک ہمہ لسانی (بہوبھاشاکوی گوشٹھی) مشاعرہ کا انعقادعمل میں آیاتو اس مشاعرے میں اردو کے شعراء کو مدعو کیاگیاتھاجس میں بیجاپورسے مجیب احمد مجیبؔ، گلبرگہ سے قاضی انورؔ،اور ہمناآباد سے ابواشہر زہیر ؔ قادری شریک رہے۔ جب کہ خاکسار (میربیدری) کو شہ نشین پر مہمانان کے ساتھ عزت دی گئی جس کے لئے میں کالج انتظامیہ کاشکریہ اداکرتاہوں۔ آج کرناٹک اردو اکادمی نے بھی خاکسار کوکل ہند مشاعرے کا”صدر“ نامزد کرکے جو عزت بخشی ہے اس کے لئے کرناٹک اردواکادمی کے جمیع ارباب مجاز کا شکرگذار ہوں۔خدا کرے کہ اکادمی پھلے پھولے اور اردو ادب کے لئے اس کاکام ہزار گنابڑھے۔ آمین
بھالکی تعلقہ کے سرکاری اسکول:۔ بھالکی تعلقہ کے جملہ سرکاری اسکول 337ہیں۔ جن میں Dise Codeاسکول 265ہیں۔ کنڑامیڈیم سرکاری اسکولوں کی تعداد 173بتائی جاتی ہے۔ مراٹھی میڈیم کی تعداد 84، اردو میڈیم سرکاری اسکول 37بتائے جاتے ہیں جب کہ انگریزی میڈیم اسکول 43ہیں۔ ان میں 72اسکول مشترکہ Dise Codeرکھتے ہیں یعنی ایک ہی ڈائس کوڈ میں 2اور 3میڈیم کے اسکول ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یعنی اردو اسکولوں کے حوالے سے دیکھاجائے تو اس کی تعداد9.10%بنتی ہے۔ بھالکی تعلقہ میں 26ہائی اسکول ہیں۔ 15کنڑا میڈیم سرکاری ہائی اسکول ہیں۔ 8مراٹھی میڈیم سرکاری ہائی اسکول ہیں۔ اور 3اردو میڈیم سرکاری ہائی اسکول ہیں۔ جس کافیصد 8.6%بنتاہے۔ یعنی ایک اور سرکاری ہائی اسکول کی ضرورت بھالکی تعلقہ کے لئے ہے۔ جس کی طرف ہمارے ہر دلعزیزوزیر ایشور کھنڈرے جی توجہ دیں گے تو عین نوازش ہوگی۔ اہل بھالکی سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کاداخلہ اردو اسکولوں میں کرائیں۔ اور ممکن ہوسکے تو کانونٹ طرز کے خانگی اردو اسکول بھی شروع کریں۔ کیوں کہ جہاں جاگو وہاں سویرا والی بات روزقیامت تک صادق آئے گی۔ بھالکی کے دیگر طبقات سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کواردو بھی پڑھائیں۔ اسی طرح انگریزی میڈیم سے پڑھارہے طلبہ کے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کواردو بھی پڑھائیں کیوں کہ اردو زبان کے علاوہ ایک گنگاجمنی تہذیب بھی ہے۔
مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کابیدر سیٹلائٹ کیمپس:۔ اس موقع پر میں نوجوان اور ناکتخدا (Na-katkhuda)رکن پارلیمان جناب ساگرکھنڈرے صاحب سے کہنا چاہوں گاکہ بیدر میں 2013ء کو جناب قاضی ارشدعلی سابق MLCاور ایڈیٹر بیدرکی آواز اور اردو روزنامہ ”سرخ زمین“ کی کوششوں کے پیش نظر اس وقت کے رکن پارلیمان ڈاکٹر این دھرم سنگھ نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) حیدرآباد کا سیٹلائٹ کیمپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔جس کاسنگ بنیادیکم ڈسمبر 2013ء کو بیدرکے گنیش میدان میں ایک عظیم الشان تقریب میں رکھاگیا۔اس وقت کے یونین HRDمنسٹر ڈاکٹر ایم ایم پلم راجو، وزیراعلیٰ سدرامیا، وائس چانسلر مانو پروفیسر محمد میاں اور جناب ایشور کھنڈرے رکن اسمبلی بھالکی بھی اس تقریب میں موجودتھے۔ لیکن آج13/سال بعد بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کاسیٹلائٹ کیمپس کا ڈیولپمنٹ ورک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس وقت کے بیدر کے رکن پارلیمنٹ بھگونت کھوبا سے گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج بیدر کے مؤظف پرنسپل رؤف خوشتر کے ساتھ مل کراس تعلق سے ان کے گھریلو دفتر میں یادداشت بھی پیش کی گئی تھی لیکن کچھ نہ ہوسکا۔ جناب ساگر کھنڈرے اگر توجہ دیں تو مانوکے سیٹلائٹ کیمپس کے تعمیراتی کام کاآغاز عین ممکن ہے جس کی بدولت علاقے کے غریب خاندانوں کے بچوں کوکے جے تا پی جی تعلیم سے آراستہ ہونے کا سنہرا موقع مل سکے گا۔ 28سالہ رکن پارلیمان ساگر کھنڈرے سے توقع ہے کہ وہ مانو سیٹلائٹ کیمپس بیدر کے ترقیاتی کام کواپنی اسی معیاد میں شروع کرائیں گے۔
بھالکی کے اساتذہ،طلبہ اور شعراء:۔ میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتاکہ بھالکی کا سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول میرے منجھلے بھائی مرحوم محمد اسمعیل پٹیل کی خدمات سے مستفید رہاہے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ اسی اسکول میں ہوئی تھی جو حسینی مسجد سے متصل ہے۔ یہاں کے طلبہ وطالبات نے مختلف مقابلہ جات میں اپنی صلاحیتوں کابہترین مظاہر ہ کیاہے۔ سات آٹھ سال قبل بھالکی کے جمیل احمد صاحب کی دختر مدیحہ فاطمہ نے دہم جماعت میں اردو مضمون میں صد فیصد نشانات حاصل کئے تھے غالباًوہ طالبہ نے بھی اسی اسکول سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی ہو۔تب میں نے ایک قطعہ کہاتھا جومیرے شعری مجموعے ”سرخاب“ کے صفحہ 111پر ہے، جو کچھ اس طرح ہے ؎
جمیل آپ کا دیکھو جاگا نصیبہ
جو تہذیب ِ اردو کو تم نے بچایا
ہماراسلام آپ کو اس لئے ہے
نشانات 100لے کے آئی مدیحہ
اس کل ہند مشاعرے میں برہانپور سے افضل دانش ؔ تشریف لائے ہوئے ہیں۔ انھیں میں بتادوں کہ ان کے شہربرہانپوری کا تعلق بھالکی سے کچھ اس طرح ہے کہ مشاعرہ گاہ کے سامنے جوکافی بڑا قبرستان ہے اس میں برہانپور کی معروف ادبی شخصیت جناب قیسؔبرہانپوری(پورانام محمدیوسف قیسؔبرہانپوری) دفن ہیں۔ انھوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ کہاجاتاہے کہ قیسؔبرہانپوری نے بمبئی (موجودممبئی) فلمی نگری میں کئی ایک فلموں میں گیت لکھے تھے۔سخن فروش تھے مگر ان کی شاعری عمدہ تھی۔ آخری سانس تک شاعری کرتے رہے۔ ان کی غزل کا ایک مطلع اور مقطع سماعت کیجئے ؎
خالی دامن کب کچھ ہے
پیسہ ہے تو سب کچھ ہے
قیس ؔ نہ پوچھو حال ِ جہاں
چین نہیں ہے سب کچھ ہے
ایک اور شعر ؎
داد خواہی کی کیوں تمنا ہے
دشمنوں کے ہودرمیاں یوسف
حالیہ دِنوں میں جو شعراء بھالکی میں رہے لیکن منظر عام پر آنے سے گریز کرتے رہے ان میں سیدعبدالستارانجینئر اور خالد پروازؔ شامل رہے ہیں۔ دونوں کاتعلق جماعت اسلامی ہند جیسی دینی تنظیم سے ہے۔ خالد پروازؔآج کل گلبرگہ میں مقیم ہیں، بچوں کیلئے نظمیں لکھتے ہیں، ان کے تازہ ترین اشعار البتہ بڑوں کے لئے ہیں ؎
ٖٓفاصلوں نے بدل دِیا سب کچھ
ورنہ ہم آپ سے ملاکرتے
دل میں جوبات تھی چھپی برسوں
کاش!اک روز وہ سناکرتے
بھالکی کی اردو شاعرہ کے بارے میں میراتجسس کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکا۔ ہمیں بھالکی سے توقع ہے کہ وہ نئے شعراء اور ادیب فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔ نئے مصنفین اردو زبان اور اردو ادب کوملیں گے۔بھالکی تعلقہ کی لڑکیاں اور خواتین مصنفہ بننے کی طرف توجہ دیں گی۔
کرناٹک اردو اکادمی سے اپیل:۔ بیدر ضلع کے مختلف مقامات جیسے چٹگوپہ، بسواکلیان، ہلسور،ہمناآباد، اوراد،کمال نگر، منااکھیلی، منہلی، جنواڑہ، بیلکونی چودھری،ہلی کھیڑ(بی)،چٹہ، مرکندہ وغیرہ اردو بولنے والوں کے مراکز ہیں۔ لہٰذا یہاں اردو اکادمی کی دیگر سرگرمیاں جیسے سیمینار، حمد ونعت کے مقابلے، قوالی،شام ِ غزل، 30دنوں میں اردوسیکھئے اور فن خطاطی کی کلاسیس کاانعقاد عمل میں آنا چاہیے۔
آج کا کل ہند مشاعرہ:۔ اگر ہم مشاعرے کی بات کریں تو الحمد للہ، مشاعرہ شروع ہی سے خوبصورت اور سماعتوں کو فرحت بخشنے والا رہاہے۔ ناظم مشاعرہ مقیم ؔباگ نے مشاعرہ میں چارچاند لگادئے ہیں۔ ان کی مشاعرہ ذوقی نے انہیں آج ناظم مشاعرہ بنادیا۔ مشاعرے کی کامیابی کی مبارک باد انھیں پیش کرتاہوں۔ ان کے ذوق سخن کو میراسلام ہے۔ منتظمین مشاعرہ میں جناب عظیم بادشاہ اور ان کی ٹیم شامل رہی ہے۔ ان کی خدمات کو اللہ قبول کرے۔ اور عظیم بادشاہ کا بھالکی ہر لحاظ سے متمول ہو۔ یہاں کے باصلاحیت افراد اردو کیلئے، کنڑا کیلئے، مراٹھی کے لئے، ادب، سیاست، تعلیم اور زندگی کے دیگرمیدانوں کے لئے ہمیشہ سرگرم ِ عمل رہیں۔ ملت اورملک کی خدمت کرتے رہیں۔ اس شعر پر آج کے کل ہند مشاعرے کا صدارتی خطبہ ختم کیاجاتاہے ؎
دُعادی اس طرح آباد رہنے کی اے میرؔ
محبتوں کی سدا بھالکی رہے باقی
کرناٹک زندہ باد، ہندوستان زندہ باد،بھالکی کی زمین محبتوں اور اردوودیگر ادب سے رہے آباد
٭٭٭
Comments
Post a Comment