یومِ اساتذہ کے موقع پر حضرت شیخ الہند اردو پرائمری اسکول مہرون جلگاوں میں منفرد انداز میں تقریبات کا انعقاد
جلگاؤں(سعید پٹیل) مدرسہ انوارالعلوم کے زیر اہتمام حضرت شیخ الہند اردو پرائمری اسکول، مہرون ، جلگاؤں میں یومِ اساتذہ کے موقع پر مختلف تعلیمی، تہذیبی اور تفریحی سرگرمیوں پر مشتمل تقریبات کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ ان تقریبات کا مقصد طلبہ میں اساتذہ کے احترام، ذمہ داری کا احساس ، خود اعتمادی ، قائدانہ صلاحیتوں اور باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔
طلبہ نے سنبھالی تدریس کی ذمہ داری :
یومِ اساتذہ کی مناسبت سے جماعت ہفتم کے طلبہ نے ایک منفرد تعلیمی سرگرمی کے تحت اساتذہ کے فرائض انجام دیے۔ طلبہ نے باقاعدہ اساتذہ کی طرح جونیئر کے جی تا ششم جماعت تک کی تمام جماعتوں میں تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں، طلبہ کو اسباق پڑھائے اور جماعتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس سرگرمی کے ذریعے طلبہ کو تدریس کے عمل ، استاد کی ذمہ داریوں اور درس و تدریس میں پیش آنے والی مشکلات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اساتذہ نے طلبہ کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے انہیں رہنمائی اور حوصلہ افزائی فراہم کی۔
سبک دوش اساتذہ کا پرتپاک استقبال :
حضرت شیخ الہند اردو پرائمری اسکول کے اساتذہ و طلبہ نے مختلف اسکولوں کے سبکدوش اساتذہ کی آمد پر ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے جماعت چہارم کے طالب علم قاضی مذکّر نے کیا ۔حمد باری تعالی حمیرہ دیشمکھ نے مترنم آواز میں پڑھی ، نعت پاک کا نذرانہ ابرا دیشمکھ نے پیش کی۔نظامت کے فرائض قاضی ناطر الدین نے انجام دیں ۔اس موقع پر اسکول انتظامیہ سے عبدالحمید جناب ، مدرسہ انوارلعلوم کے استاد مولانا عبدالرحمن ملی صاحب ، مفتی خالد صاحب اور سلیم انعامدار صاحب نے سبکدوش اساتذہ کی تعلیمی و تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں خصوصی طور پرسبکدوش اساتذہ میں ڈاکٹر قربان تڑوی صاحب ، ناظم خان صاحب ، قاضی ضمیر اشرف صاحب ، انیس کیفیؔ صاحب ، وقار صدیقی ؔصاحب اور اخلاق نظامی ؔصاحب نے شرکت فرمائی۔معزز سابق اساتذہ کی آمد سے تقریب میں جذباتی اور یادگار ماحول پیدا ہوگیا۔تما م ہی سبکدوش اساتذہ نے اپنے خیالات میں طلبہ کو اپنی تدریسی اور غیر تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور پڑھائی پر توجہ دینے پر زور دیا ۔ تما م ہی سبکدوش اساتذہ کی خدمات میں گل وشال پیش کی گئی اور ان کی محنت اور نئی نسل کی تربیت میں ان کے کردار کو یاد کیا گیا۔
مینا بازار نے تقریب کو بنایا یادگار :
یومِ اساتذہ کی تقریب کے ساتھ ساتھ اسکول ہذا میں شاندار مینا بازار کا اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ نے مختلف اقسام کے لذیذ پکوان تیار کرکے پیش کیے۔ اسکول کا ماحول رنگا رنگ اسٹالز ، مختلف ذائقوں اور طلبہ کے جوش و خروش سے بھر گیا۔بازار کے ذریعے طلبہ کو نہ صرف پکوان کی اشیاء تیار کرنے اور پیش کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوا بلکہ ان میں منصوبہ بندی ، باہمی تعاون ، صفائی ستھرائی، نظم و ضبط اور کاروباری صلاحیتوں کو بھی فروغ ملا۔ اساتذہ ،مہمانان اور طلبہ نے بازارمیں بھرپور دلچسپی لی اور اس سرگرمی سے خوب لطف اندوز ہوئے۔یومِ اساتذہ کی تقریبات کا مقصد محض جشن نہیں بلکہ تربیت تھاحضرت شیخ الہند اردو پرائمری اسکول کی جانب سے منعقد کی جانے والی ان تینوں تقریبات میں تعلیم ، تربیت ، احترامِ اساتذہ ، عملی تجربے اور تفریح کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا۔ طلبہ نے جہاں استاد کے فرائض انجام دے کر استاد کی ذمہ داریوں کو سمجھا، وہیں سبکدوش اساتذہ کا استقبال کرکے اپنے بزرگ معلمین کے تئیں احترام و تشکر کا اظہار کیا اورمینا بازارکے ذریعے اپنی تخلیقی و عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر پروگرام کے صدر نے کہا کہ استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ وہ طلبہ کے کردار ، شخصیت اور مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یومِ اساتذہ کی یہ تقریبات اسی احساس کو طلبہ کے دلوں میں مزید مضبوط کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہیں۔تقریبات کے کامیاب انعقاد میں صد ر مدرس جانثار اختر ، ناظر الدین قاضی ، شیرین جاوید ، روبینہ قاضی ، ارشد نظرؔ ، اور وسیم خان نےاہم رول ادا کیا۔ اسکول انتظامیہ ، تمام ہی سبکدوش اساتذہ و مہمانان نے تمام اساتذہ اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔ مجموعی طور پر یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ یہ تقریبات تعلیمی ، تربیتی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت کامیاب اور یادگار ثابت ہوئیں۔
Comments
Post a Comment