دستک (افسانچہ)۔ ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنیفیہ اردوجونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر
دستک (افسانچہ)
ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنیفیہ اردوجونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر
ضلع پریشد اسکول کے کچے صحن میں کھڑے ماسٹر صاحب مائیک پر پوری قوت سے گرج رہے تھے:
"تعلیم عمارتوں کی محتاج نہیں ہوتی، خلوص سے پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے یہ سرکاری اسکول ہی اس دھرتی کا سچا مقدر ہیں!"
سامنے ٹاٹ کی پٹیوں پر آلتی پالتی مارے گرد آلود بچے اور غریب دیہاتی ہمہ تن گوش تھے۔
تالیوں کی گونج کے عین بیچ، استری شدہ نیلی پتلون، پالش سے چمکتے جوتوں اور گلے میں لٹکتی ٹائی والا ایک آٹھ سالہ بچہ ہجوم کو چیرتا ہوا ڈائس کے برابر آ رکا۔ اُس کی انگلیاں سینے پر لٹکے بیگ کے چوڑے پٹے پر کسی ہوئی تھیں۔
"بابا... پیلی وین چلی گئی۔"
ماسٹر صاحب کا ہاتھ فضا میں اٹھا، اور اشارے سے بچے کو مائیک کے دائرے سے باہر کر دیا۔ آواز میں رتی برابر لرزش نہ آئی:
"اپنے بچوں کو یہیں بھیجیں، یہی اصل تعلیم ہے!"
جلسہ نمٹا تو تالیوں کا شور استاد کے کانوں میں گونج رہا تھا۔ انھوں نے بچے کو اٹھا کر موٹر سائیکل کی پیٹرول ٹنکی پر آگے بٹھایا، کِک ماری اور اسکول کے گیٹ سے باہر نکل آئے۔
کچے راستے کے ہر جھٹکے کے ساتھ، باپ کے دونوں بازوؤں کے بیچ پھنسا بستہ اچھلتا، اور اس کے نائیلون کا چوڑا پٹا استاد کے اپنے ہی سینے پر بار بار دستک دیتا رہا۔
Comments
Post a Comment