خواتین کے بال عزت تجارت یا امانت - ایک اصلاحی و شعوری جائزہ - از قلم : شعیب احمد محمدی۔


خواتین کے بال عزت تجارت یا امانت - 
ایک اصلاحی و شعوری جائزہ - 
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
 9284434542

یہ زینت بھی ہے یہ عزت بھی ہے امانت بھی ہے
اے بہن تیرے بالوں میں عفت کی ضمانت بھی ہے

ہمارے اسلام میں ناخن کے تراشے اور بال جو کنگھی کرنے سے نکل جاتے ہیں ان کو کچرے میں یا گٹر میں بہانے کی ممانعت ہے اور حتی الامکان اس سے بچا بھی جاتا ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا حصہ ہے اس کی تکریم لازمی اور ضروری ہے
البتہ اکثر خواتین بالوں کو جمع کرکے بیچ دیتی ہیں اور منع کرو تو کہتی ہیں کہ ہم ان بالوں کا کیا کریں گھر کے آس پاس میدان یا ایسی جگہ نہیں ہے کہ اسے مٹی میں گاڑ دیا جائے
علماء کے نزدیک انسانی جسم کے اجزاء کی خرید و فروخت جائز نہیں بال بھی جسم کا حصہ ہیں اس لیے انہیں بیچنا درست نہیں
اسی لیے علماء نے احتیاطا قبرستان میں دفن کرنے کا کہا کہ خواتین اپنے کنگھے سے نکلے ہوئے بالوں کو قبرستان میں گاڑ دیں تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو یاد رہے اکثر خواتین اپنے بالوں کو گٹر یا کچرے میں پھینک دیتی ہیں ان کا یہ عمل بالکل درست نہیں ہے یہ آپ کے جسم کا ایک حصہ ہے اس طرح پھینکے ہوئے بال کو لوگ چن کر بھی فروخت کر رہے ہیں اسے آپ اپنے پاس جمع کریں
افسوس کہ قبرستان سے اب بالوں کی چوری بھی ہو رہی ہے ایسے افراد قبرستان میں ہر وقت موجود رہتے ہیں جب کوئی شخص تھیلی یا کیری بیگ لے کر قبرستان آتے ہیں تو یہ لوگ نظر رکھتے ہیں اور ان کے جاتے ہی وہ مٹی میں گاڑے ہوئے ان بالوں کو نکال لیتے ہیں اور ایک ہفتے میں کئی ہزار کے بال فروخت کرتے ہیں یہی ان کا پیشہ بن گیا ہے
آج مارکیٹ میں ہیومن ہیئر کا کاروبار عروج پر ہے غریب عورت کے چند روپے کے بال کئی ہزار کا ویگ بن کر بکتے ہیں
وہ خواتین جو ان بالوں کو بیچتی ہیں اور اس رقم کو کسی غریب کو دیتی ہیں ان کا یہ عمل سراسر غلط اور غیر شرعی ہے
اخلاق یہ نہیں کہ ہم اپنی عزت بیچ کر دوسرے کی مدد کریں غریب کی مدد کرنی ہے تو آپ اپنے جسم کے بال بیچ کر کیوں
یہ جسم اللہ کی امانت ہے اللہ نے آپ کو بالوں کے ذریعہ عزت اور خوبصورتی بخشی ہے اس عزت کو بازار میں نہ بیچیں اپنے شوہر کی نیک کمائی میں برکت مانگیں اور اللہ کی راہ میں حلال و پاکیزہ مال خرچ کریں
حدیث
ان اللہ نظیف یحب النظافۃ
ترجمہ بے شک اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے
عملی حل
تو اب سوال ہے کہ بالوں کا کیا جائے
میں خواتین سے گزارش کروں گا کہ کنگھی سے نکلے ہوئے اپنے بالوں کو قینچی سے ایک سے دو انچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیں پھر انہیں ایک گملے میں مٹی بھر کے جمع کر دیں یا کہیں ویران جگہ دفن کر دیں
اس سے دو فائدے ہیں
ایک بال کسی کے کام کے نہیں رہیں گے
دو بالوں کی چوری اور تجارت رک جائے گی
امید ہے کہ ہماری ماں بہنیں اس بات پر ضرور عمل کریں گی اور اللہ کی دی ہوئی امانت میں خیانت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی انشاء اللہ
آخر میں
اے میری بہنو تمہارے بال تمہاری زینت اور امانت ہیں انہیں پیسے کی خاطر نہ بیچو
اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہماری ماں بہنوں کو حلال پاکیزہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔