شاعر جدہ ، مہتاب قدر ----گلبن کا ایک مہکتا ہوا گلاب۔ بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار ----( انٹاریو ، کینیڈا )
شاعر جدہ ، مہتاب قدر ----گلبن کا ایک مہکتا ہوا گلاب۔
بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار
----( انٹاریو ، کینیڈا )----
ابتدائی کلمات :
زبان و ادب کی کوئی جغرافیائی حدود و قیود نہیں ہوا کرتیں ، اپنی مادری زبان سے محبت ہر انسان کا فطری حق ہے اور اس سے محبت کا اظہار کسی بھی ملک میں رہ کر وہ آزادی سے کر سکتا ہے ، ایسے ہی ایک جیالے محب اردو کا تذکرہ آج آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے -
بات جدہ، سعودی عرب کی ہے ، بیشک یہ کہنا ہر گز مبالغہ نہیں ہوگا کہ دنیائے علم و ادب میں بعض شخصیات محض ادبی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ خود اپنی ذات میں ایک انجمن بن جاتی ہیں ، مرحوم عالی جناب سرفراز علی معروف بنام مہتاب قدرؔ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ اردو زبان وو ادب سے والہانہ محبت، فنِ شاعری سے رغبت ، صحافت سے شغف اور مشاعروں و ادبی نشستوں کے ذریعے اردو کے فروغ کو اپنا مشن بنا لینا ان کی شخصیت کا گویا ایک خاصہ تھا ۔
وہ کسی بھی ادبی سرگرمی میں محض شریک نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر اس کے روحِ رواں کی حیثیت سے اپنا رول بھی ادا کرتے تھے ، عزم و حوصلہ ، جوش و ولولہ اور جہد مسلسل کے ساتھ وہ جدہ کی ادبی فضا میں ہر دم سرگرم عمل اور رواں دواں نظر آتے تھے-
اردو سے محبت اور ادبی کاوشیں :
مہتاب قدرؔ نے مستقل کئی دہائیوں تک اپنی ادبی و صحافتی سرگرمیوں کے توسط سے دیارِ غیر میں اردو کے چراغ کو روشن و منور کئے رکھا ۔ مشاعرے ہوں یا شعری مجالس ، ادبی تحریکیں ہوں یا صحافتی سرگرمیاں ، موصوف نے ہر آن اردو زبان کے فروغ و بقا اور تہذیبی و ثقافتی روایات کے برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ہی ادا کیا ہے -
مہتاب صاحب کی شخصیت میں اردو دوستی، شعری ذوق و شوق ، صحافتی مزاج اور ادبی تگ و دو کا ایک ایسا حسین امتزاج پایا جاتا تھا کہ جدہ کی تاریخ رقم کرتے وقت زبان و ادب کے عنوان پر مورخ جب کچھ قلمبند کرے گا تو یقینا" اس میں مرحوم کا ایک منفرد مقام رقم کیا جائے گا -
حرمِ مکی سے جدہ تک ، موصوف سے گہرے روابط :
الحمدللہ، راقم الحروف کو حرمِ مکی شریف میں مستقل سترہ برس، 1997ء تا 2014ء تک طبی خدمات انجام دینے اور جدہ میں قیام کے باعث متعدد ادبی مجالس میں شرکت و خطابات کے مواقع حاصل ہوتے رہے ۔ انہی موقعوں پر مہتاب بھائی سے بھی گاہے بگاہے ملاقاتیں اور گفت و شنید ہوتی رہیں۔
تاہم ان سے باقاعدہ تعارف کا ذریعہ ہمارے بزرگوار محترم سید فصیح الدین اطہر صاحب المعروف فصیح بھائی بنے، جو مہتاب قدرؔ کے خسرِ محترم بھی تھے۔
فصیح بھائی کے ہمراہ مہتاب قدر سے ایک ملاقات :
فصیح بھائی اکثر بعد نماز مغرب حرمِ مکی شریف میں موجود ناچیز کے مطب " حرم کلینک " پر تشریف لاتے اور فرماتے کہ نماز عشاء اور طواف سے فراغت کے بعد حرم پارکنگ میں
ان شاءاللہ میں پہنچ جاؤں گا اور آج آپ ہی کے ساتھ مجھے جدہ کا سفر طے کرنا ہے
ایک روز مکہ مکرمہ سے جدہ جاتے ہوئے فصیح بھائی کے ہمراہ جناب مہتاب قدر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور موصوف پرجب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان کے خسر محترم فصیح صاحب سے ناچیز کے حرم شریف کی نسبت دیرینہ روابط رہے ہیں ³ تو موصوف کے لئے یہ امر باعث حیرت بھی تھا اور موجب مسرت بھی -
یوں فصیح بھائی کے ہمراہ ایک مختصر سی ملاقات ناچیز اور مہتاب بھائی کے درمیان گویا دیرینہ تعلق کا نقطۂ آغاز بن گیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔
مہتاب قدر --عزم و حوصلہ کا پیکر :
مہتاب قدرؔ مضبوط قوتِ ارادی کے مالک تھے۔ ان کا عملی کردار اس حقیقت کا برملا اعتراف و اظہار بھی کرتا تھا کہ مستقل عزم گر حیات میں ہے تو ناممکن بھی ممکنات میں ہے
ان کی مختلف ادبی کاوشیں کبھی ’’چھاؤں صحرا کی‘‘ اور ’’تھوڑی سی آوارگی‘‘ کی صورت میں جلوہ گر ہوئیں اور کبھی ’’ایک شام علامہ اقبال کے نام‘‘، ’’ادبی نشست‘‘، ’’صبحِ ادب‘‘ اور ’’شبِ سخن‘‘ اور " قلم قافلہ " جیسے عنوانات سے مختلف ادبی محفلوں اور سرگرمیوں کو رونق بخشتی رہیں، اور کبھی جدید ذرائعِ ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے ہند و پاک ، کینڈا و امریکہ اور دوبئی و امارات وغیرہ جیسے کئی ممالک کے شعراء کو ایک ہی وقت میں یکجا کرنے والے صوتی مشاعروں کا بھی اہتمام کرکے انہوں نے ہزاروں کلومیٹر کی دوریوں اور فاصلوں کو سمیٹ دیا
گلبن — ایک قیمتی ادبی ورثہ:
طنز و مزاح سے بھرپور مضامین لکھنے کا بھی شوق انہیں مدتوں سے تھا۔ ان کی ادبی میراث میں ان کی مختلف تصانیف، مشاعروں کی یادیں، ادبی نشستوں کے نقوش اور بالخصوص پندرہ روزہ ’’گلبن‘‘ ایک اہم اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اب یہ ذمہ داری نئی نسل کے اہلِ قلم، ادب نوازوں اور متعلقین و مخلصین کی ہے کہ مہتاب قدرؔ کی اس ادبی میراث کو محض ماضی کی یادگار نہ بننے دیں بلکہ اسے جاری، زندہ اور متحرک رکھنے کی حتی المقدور کوشش کریں
مہتاب قدرؔ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ، لیکن ان کی ادبی سرگرمیوں کی بازگشت، ان کی قائم کردہ محفلوں کی یادیں، ان کے رشحات قلم اور اردو سے ان کی بے لوث محبت مدتوں تک اہلِ علم و ادب کے دلوں میں زندہ رہیں گی
وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ :
بیشک کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کس زمین پر مرے گی کے مصداق مہتاب قدر کی حیات مستعار کی کتنی دہائیاں حجاز مقدس میں مکہ مکرمہ کی وادیوں اور مدینہ منورہ کے کوچوں میں گزری ہوں گی لیکن کسے خبر تھی کہ حیدرآباد ہند میں ان کی روح قفس عنصری سے آزاد ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے گی ، مرحوم مہتاب قدر کے حیدرآباد ہند میں مقیم صاحبزادے ڈاکٹر سید سہیل کے پیغام کے توسط سے علم ہوا کہ مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر 26 ستمبر 2026 ء کو مسجد معراج ، مقابل چنچل گوڑہ ، سینٹرل جیل ، حیدرآباد میں ادا کی گئی اور تدفین اسی مسجد سے متصل سلطان دائرہ قبرستان میں عمل میں آئی
انا للہ وانا الیہ راجعون عظم اللہ اجرکم و غفر لمیتکم
اللہ رب العزت مرحوم مہتاب قدرؔ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے نیز ان کی دینی، ملی، علمی، ادبی و صحافتی خدمات کو ذخیرۂ آخرت بھی بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
دعاگو :
ڈاکٹر خلیل تماندار
سابق فزیشن ، حرم مکی شریف ، مکہ مکرمہ
مقیم : انٹاریو ، کینیڈا
email : khaliltumandar123@gmail.com
Comments
Post a Comment