آپ کا کچھ بھی نہیں ہے- از قلم : ظفر ھاشمی ندوی۔سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
آپ کا کچھ بھی نہیں ہے-
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی۔
سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
ابھی حال میں ایک بڑے عربی عالم صاحب کا بیان سنا- کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب کے ایک کروڑپتی سے ان کا گہرا دوست ملنے گیا- گفتگو کے دوران مالدار دوست نے اس دوست کو بڑے فخر سے بتایا کہ وہ بہت بڑی جائیداد کا مالک بن گیا ہے اور اچھی خاصی ضیافت اور مہمان نوازی کے بعد وہ اپنے دوست کو لے کر اسے اپنی مختلف کمپنیاں اور دوسری جائیداد دکھانے گیا- سب کچھ دکھانے اور بتانے کے بعد اس نے اپنے دوست سے پوچھا تمہارا اس سب کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ دوست نے جواب دیا یہ سب ٹھیک ہے مگر اس میں سے تمہارا کچھ بھی نہیں ہے- مالدار دوست کو بڑا تعجب ہوا اور اس نے بیزارگی کے ساتھ پوچھا کیا مطلب اور کیوں میرا کچھ بھی نہیں ہے اور پھر کس کا ہے-
دوست نے جواب دیا آپ برا مت مانیے جو کچھ آپ نے بتایا ہے ان سب کے مالک آپ کی موت کے بعد آپ کی اولاد بنے والی ہے - آپ نے یہ بالکل نہیں بتایا کہ اللہ کے راستہ میں آپ نے کیا خرچ کیا - اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس جائے گا وہ باقی رہے گا- کیا تم نے اب تک کوئی مسجد بنائی ہے - کسی یتیم کی ذمہ داری لی ہے ؟ کیا کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کی ہے؟ کسی مجبور بیمار مسلمان کا علاج کیا ہے ؟ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد کی ہے ؟ کیا دینی تعلیم کا کہیں انتظام کیا ہے ؟ اگر تم یہ سب کرو تو وہ تمہارا ہے ورنہ سب کچھ دوسروں کا ہوگا-
اس سعودی مالدار کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور اس نے بڑی تیزی سے ہر نیک کام میں حصہ لینا شروع کر دیا- اور بے تحاشہ خرچ کر ڈالا- کچھ ہی عرصہ بعد اس کا انتقال بھی ہو گیا -
اب بتائیے آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ حضرت عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے: أتَيتُ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم وهو يَقرَأُ: {ألهاكُمُ التَّكاثُرُ}، قال: يقولُ ابنُ آدَمَ: مالي، مالي، قال: وهل لَكَ -يا ابنَ آدَمَ- مِن مالِكَ إلَّا ما أكَلتَ فأفنَيتَ، أو لَبِستَ فأبلَيتَ، أو تَصَدَّقتَ فأمضَيتَ؟! فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ سورۃ تکاثر ( الھاکم التکاثر ) تلاوت فرما رہے ہیں پھر فرمایا آدم کی اولاد کہتی ہے میرا مال میرا مال - جب کہ اے آدم کے بیٹے تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھایا اور ختم کیا یا کپڑا پہنا اور پرانا کر دیایا پھر صدقہ کیا تو تیرے نصیب میں چلا گیا- ( مسلم شریف)-
أم المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک دفعہ کسی صحابی نے پورا بکرا ذبح کرکے ہمارے گھر بھیج دیا - آپ نے حکم دیا سب ضرورت مندوں میں تقسیم کردو- تھوڑی دیر کے بعد گھر تشریف لائے تو پوچھا سب تقسیم کر دیا؟ میں نے عرض کیا جی ، بس یہ ہاتھ کا حصہ بچ گیا - فرمایا نہیں جو کچھ تم نے تقسیم کردیا وہ بچ گیا اور جو رہ گیا وہ کھا کر ختم ہو جائے گا- اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے-
کیا ہم سب اسی نبی کے امتی ہیں؟ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ قربانی کی عید میں کس طرح سے گوشت تقسیم کرتے ہیں -
فارسی کی کتابوں میں لکھا ہے کہ دو غریب دوست تھے - ایک دوست بڑے شہر کمانے چلا گیا اور کچھ ہی عرصہ میں محنت کرکے مالدار بن گیا- غریب دوست کو اس کی خبریں ملتی رہیں - لمبہ عرصہ کے بعد وہ غریب دوست اپنے مالدار دوست سے ملنے گیا تو مالدار دوست نے اسے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا اور پوچھا تم کون ہو میں تمہیں نہیں پہچانتا- غریب دوست نے جواب دیا میں تمہارا فلاں دوست ہوں میں نے سنا تھا کہ تم اندھے ہو چکے ہو تو مجھے یقین نہیں آیا مگر آج اس کی تصدیق ہو گئی ہے-
اللہ ہر مسلمان کی ہر زمانے میں
ایسے اندھے پن سے حفاظت فرمائے - آمین ثم آمین-
Comments
Post a Comment