تھابلاوا اک اسدالدین کا -(عزیز دوست محمد اسدالدین کے سانحہ ء ارتحال پر) - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
تھابلاوا اک اسدالدین کا -
(عزیز دوست محمد اسدالدین کے سانحہ ء ارتحال پر) -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
تھابلاوا اک اسدالدین کا
جانا بھی فرمان ہے جب دین کا
چھوڑکر وہ چل پڑے رب کے حضور
پاس رب کے جانے کا ہوگا سرور
کچھ سماجی کام اسدالدیں کے ہیں
کچھ سیاسی شوق بھی فرمائے ہیں
تھی صحافت سے انھیں دلچسپی بھی
کام ادب کے بھی کئے ہیں دل سے ہی
جتنا بھی تھا اجتماعی تھا شعور
سامنے ملت کے رہتے تھے ضرور
جب کہا جو بھی کہا اچھا کہا
ہاں سیاسی نقد بھی عمدہ کیا
تھے سیاست میں مگر شرفاء سے تھے
وہ برے سب کام سے توبہ سے تھے
شعر کہنے پر کہیں ارشاد وہ
عطیہ خوں کرنے کی تھے بنیادوہ
درس مذہب کا بھی ان کو یاد تھا
رب و احمد سے بھی دِل آباد تھا
لینے دینے زیست تھی لیکن کھری
فکر بچوں کی بہت تھی،سو رہی
راستے پر چلتے تھے آباء کے وہ
سنگ رہتے تھے سدا غرباء کے وہ
تواسد کی مغفرت فرمادے رب
جنتی بنوانے کو بخشادے رب
روشنی میں دن کی تھے، شب بھر بھی تھے
میر ؔ کے وہ دوست تھے، دلبر بھی تھے
Comments
Post a Comment