اردو کوکرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنانے اقلیتی وزراء، اقلیتی اراکین اسمبلی وکونسل کے علاوہ محبان ِ اردو اور مذہبی جماعتوں کو آگے آنا ہوگا- تلنگانہ کے اردو طلبہ ڈاکٹر بن رہے ہیں، اسرومیں زیرتربیت ہیں کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کی تقریب میں شرکاء کا اظہار ِ خیال۔
بیدر۔ 20/ستمبر (راست) اردوزبان دراصل ملکی اور ریاستی سطح پر ناانصافی کا شکار ہے۔ اردوکو شیریں اور لشکری زبان مانتے ہیں لیکن اس بات پر عمل نہیں کرتے جو کہ ایک خطرناک رویہ ہے۔ دوسری طرف بی جے پی مانتی ہے کہ زبانیں مادری زبان میں پڑھائی جائیں تو اس کے اثرات دیرپاہوتے ہیں۔ تلنگانہ کے سابق وزیراعلیٰ جناب کے سی آر نے دورہ ء جاپان کے موقع پر اہل جاپان سے ان کی ترقی کی وجہ پوچھی تو جواب ملاکہ مادری زبان میں تعلیم کی وجہ سے ہمیں ترقی نصیب ہوئی ہے کے سی آرنے اپنی معیاد میں اردوزبان کی ترقی کے لئے ریاست تلنگانہ میں کوشش کی تاکہ اردو والے ان کی اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کرسکیں۔اتنا ہی نہیں انھوں نے تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان اردوکو بنانے کاحکم جاری کیا۔ کلکٹر کے ذریعہ سرکاری اردو مترجم متعین ہوئے۔ اردو زبان کے اقامتی اسکول قائم کئے گئے۔ جس کانتیجہ یہ رہاکہ کئی ایک اردوطلبہ آج ڈاکٹرہیں، انجینئرہیں۔ مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی (مانو)کا اثر بھی تلنگانہ میں ہے۔ مانو سے پڑھ کر لندن گئے ہیں اور اردو ذریعہ تعلیم سے پڑھ کر اسروتک پہنچے ہیں۔ یہ باتیں ظہیرآباد سے بطور ِ مہمان تشریف لائے مولوی محمد نصیر الدین نے اپنے خصوصی خطاب میں کہیں۔ وہ آج اتوار کی سہ پہر کو اسلامی لائبریری، رٹکل پورہ بیدر میں کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کی جانب سے منعقد ہ ایک تقریب میں خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزیدکہاکہ صرف ظہیرآباد سے اِمسال طالبات نے سرکاری اقامتی اردو اسکول سے پڑھ کر نیٹ کا امتحان دیااور اب جملہ 19طالبات میڈیکل میں مفت داخلہ لے رہی ہیں۔ جب کہ لڑکوں میں 10لڑکے میڈیکل تعلیم کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اردو والوں کی۔ جناب نصیرالدین نے بتایاکہ حکومتوں میں ہماری نمائندگی بوجوہ کمزور ہے۔ جب کہ دوسری جانب ہرمقام سے اردو پڑھنے والے طلبہ کو روزگار مل رہا ہے، کمپنیاں انھیں روزگار کے لئے آفر دے رہی ہیں۔ انھوں نے افسوس کااظہار کیاکہ ملت چمک دھمک کو پسند کررہی ہے۔ ہمارا ہر بچہ پروجیکٹ ورک کے لیے 100 روپئے مانگ رہا ہے،غریب والدین کہاں سے لائیں اتنی رقم۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے مسلم طلبہ انگریزی پڑھ کر بھی اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ رہے ہیں۔ جب کہ اردوزبان سے نہ پیشہ میں رکاوٹ ہے اور نہ صلاحیتوں میں یہ زبان حائل ہوتی ہے۔ مادری زبان ہونے کی بناپر اس کے ذریعے بازی ماری جاسکتی ہے۔انھوں نے اہل بیدر سے اپیل کی کہ وہ کرناٹک میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے لئے مؤثر نمائندگی کریں کیوں کہ بیدر وہ علاقہ ہے جہاں پہلی مثنوی ”کدم راؤ پدم راؤ“ فخردین نظامی نے لکھی۔
اردو کے نوجوان صحافی جناب عبدالقدیر لشکری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو زبان کے بارے میں بزرگوں نے بھی تنظیم بناکر کام کیا ہے۔ سیاست دانوں سے مددلی ہے۔ تلو زبان کے حامیوں نے یوٹی قادر کے ذریعہ کوشش کی اور تلو زبان کوکرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ جناب یوٹی قادر مینارٹی، وقف حج اور ہیلتھ جیسی وزارتوں کے وزیر ہیں، ان سے سوال ہے کہ کنڑی زبان کے بعد ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو کو کس وجہ سے دوسری سرکاری زبان بنانے سے دور رکھا گیا۔ ریاستی اقلیتی وزراء نے تلو زبان کوادوسری سرکاری زبان بناتے وقت اردو کودوسری سرکاری زبان بنانے کی مانگ کیوں نہیں کی؟اقلیتی ایم ایل ایز، ایم ایل سی، اور دیگر قائدین کافرض ہے کہ وہ اردو کودوسری سرکاری زبان بنانے کے لئے آگے آئیں۔ میں قدیرلشکری ریاست کرناٹک کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار بھی گذارش کرتاہوں کہ وہ اردو کوریاست کرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنانے کااعلان کریں۔ انھوں نے جمیعتہ العلماء ہند،اورجماعت اسلامی سے بھی اس ضمن میں اپیل کی ہے۔ اور کنڑاتنظیموں سے بھی کہاہے کہ کنڑا تنظیمیں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کیلئے سپورٹ کریں کیوں کہ اردو سبھی کی زبان ہے، پہلے کنڑابولنے والوں کے دادانانا اور والدین اردو بولتے اور لکھتے پڑھتے تھے۔ علاقہ کلیان کرناٹک میں جمیعتہ العلماء پہل کرتے ہوئے اقلیتی وزراء اوردیگر وزراء سے مل کراردو کا مطالبہ سامنے رکھیں۔تاکہ اگلے کابینہ اجلاس میں اردو کودوسری سرکاری زبان بنانے کااعلان کیاجاسکے۔
مولانا افسر علی نعیمی ندوی نے تلو زبان اور اردو والوں کی بابت کہاکہ تقریباتین فیصد تلو کی تعدادرکھنے والوں نے حکومت کو منوالیاا ور 11فیصد ی والے اردوحامی حکومت سے اردو کو نہیں منواسکے یہ افسوس ناک صورتحال ہے۔ مولانا نے کہاکہ کانگریس حکومت پر دباؤ بنایا جاسکتا ہے، اس کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ انھوں نے بہار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ بہار میں اردو اخبارات ہیں اور اردو اسکول ہیں۔ لیکن الحمدللہ اردو اسکول بندہونے کی صورتحال ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہندی میڈیم سرکاری اسکولوں میں بھی اردو پڑھائی جاتی ہے۔ غیرمسلم طلبہ اردو کے بجائے سنسکرت لیتے ہیں۔ البتہ بھوج پوری بولی جاتی ہے لکھی ہوئی زبان نہیں ہے۔ جناب حیدر علی سوداگرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کامطالبہ سرکاری کے سامنے رکھیں۔سرکاری عہدیداروں، ایم ایل اے، ایم پی، وزیر کویادداشتیں پیش کریں۔ کیوں کہ اردو ہندوستانی زبان ہے۔ علمی خزانے اردو میں ہیں۔ پہلے بھی سائنسدان، ریاضی دان اردو پڑھتے تھے۔ انگریزی آج بھی غالب نہیں ہے۔ اردو زبان کے لئے آگے آئیں، اپنے سے جو ہوتا ہے وہ کریں،ہم بھی کوشش کرتے ہیں۔ تعصب کو محبت میں بدلیں۔ بیدریاپھر گلبرگہ سے مہم شروع ہوسکتی ہے
اسلامی لائبریری کے لائبریرین جناب سراج الحسن شادمان نے کہاکہ اردو ٹیچرس طلبہ کی تعداد بڑھانے پر توجہ دیں۔ اردو سے محبت کرنے والے بھی اپنے بچوں کو اردو میں پڑھائیں۔ جناب محمد سلطان نے مختصر بات یہ کہی کہ ہمیں اسکول جاکر طلبہ کو دیکھنا چاہئے، تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوسکے۔ اورپھر اردو والے متحد ہوکراردو کے لیے کام کریں تو تبدیلی عین ممکن ہے۔ تقریب کی صدارت جناب محمدیوسف رحیم بیدری صدر کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر نے کی۔ اور اپنے صدارتی کلمات میں اردو کے جائزحق کے لئے کوشاں رہنے کی ارد وصحافیوں کوتلقین کی۔ بعدازاں ممتاز سماجی کارکن جناب محمد اسدالدین مینجنگ ٹرسٹی محمد علیم الدین فاؤنڈیشن بیدر کے سانحہ ء ارتحال پر دعائے مغفرت کی گئی۔ اسی طرح بی ای او بیدر جناب مدارخان پٹھان کے سانحہ ء ارتحال پر بھی دعائے مغفرت کی گئی۔ شکریہ پر تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
Comments
Post a Comment