آج کا مسلمان خوف زدہ کیوں ہے؟ - ماضی کے حوصلے سے حال کے خوف تک - سید فاروق احمد قادری۔
آج کا مسلمان خوف زدہ کیوں ہے؟ -
ماضی کے حوصلے سے حال کے خوف تک -
سید فاروق احمد قادری۔
سہارنپور کی ایک قدیم مسجد کے انہدام کی خبر نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے: آخر آج کا مسلمان اپنے مذہبی اور تاریخی ورثے کے بارے میں اتنا خوف زدہ کیوں ہے؟ یہ سوال صرف ایک مسجد کا نہیں، ہماری اجتماعی سوچ، ہماری بے حسی اور ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مذہبی تشخص، مساجد اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ انگریزوں کے دور میں حالات آج سے کہیں زیادہ سخت تھے، لیکن اس زمانے کے علماء اور اہلِ قلم نے خوف کو اپنے ضمیر پر غالب نہیں آنے دیا۔
شاہ عبدالعزیز دہلوی ہوں، شاہ اسماعیل شہید ہوں یا مولانا محمود حسن، ان بزرگوں نے اپنے دور کے حالات کا سامنا علم، فکر، قربانی اور جدوجہد کے ذریعے کیا۔ ان کی جدوجہد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہر مسئلے کا جواب طاقت یا تشدد ہے؛ بلکہ انہوں نے قلم، علم، دلیل، تنظیم اور قربانی کو اپنا ذریعہ بنایا۔
کانپور کی مسجد کا واقعہ ہو، شاہی مسجد سے متعلق تنازعات ہوں یا شاہد گنج مسجد کا مسئلہ، اس دور کے علماء اور اہلِ قلم نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے موقف کو واضح کیا۔ علامہ شبلی نعمانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان اور دوسرے اہلِ قلم نے مسلمانوں کے اندر سیاسی اور سماجی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سوال یہ ہے کہ جب مسلمان غلامی کے دور میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتا تھا تو آج، جب ملک کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق دیتا ہے، ہم اتنے خوف زدہ کیوں ہیں؟
کیا 2014 کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور سماجی ماحول نے مسلمانوں کے اندر خوف کو بڑھایا ہے؟ مسجد، مدرسہ، حجاب، اذان، لاؤڈ اسپیکر، شہریت اور شناخت جیسے مسائل پر ہونے والی بحثوں نے بہت سے لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا ہے کہ کہیں آواز اٹھانے سے کوئی نیا مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔
لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ صرف حالات کو ذمہ دار قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے۔ ہماری کمزوری کا ایک سبب ہماری اندرونی تقسیم بھی ہے۔ ہم معمولی فقہی اور مسلکی اختلافات میں ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ ہمارے بنیادی عقائد ایک ہیں۔ ہمارا اللہ ایک ہے، قرآن ایک ہے، رسولِ اکرم ﷺ ایک ہیں، کلمہ ایک ہے اور قبلہ ایک ہے۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ رہ سکتا ہے، لیکن جب بات مشترکہ دینی، آئینی، تعلیمی اور شہری حقوق کی ہو تو ہمیں کم از کم مشترکہ مقاصد پر متحد ہونا چاہیے۔ اتحاد کا مطلب کسی دوسرے مذہب کے خلاف کھڑا ہونا نہیں، بلکہ اپنے جائز حقوق، اپنی شناخت اور اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے آئینی اور پُرامن طریقے سے متحد ہونا ہے۔
بابری مسجد کا واقعہ ہماری اجتماعی یادداشت کا ایک بڑا زخم ہے۔ 1992 میں مسجد کا انہدام قانون کی خلاف ورزی کے طور پر سامنے آیا، اور بعد میں 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس تنازع کو ایک نئے قانونی مرحلے تک پہنچایا۔ اس پورے واقعے سے ہمیں ایک سبق ضرور ملتا ہے کہ تاریخی اور مذہبی معاملات میں جذبات کے ساتھ ساتھ قانونی تیاری، دستاویزات اور مضبوط ادارہ جاتی جدوجہد بھی ضروری ہے۔
سہارنپور کی قدیم مسجد کے بارے میں اگر واقعی 1896ء کے سرکاری یا تاریخی دستاویزات موجود ہیں تو ان کی حفاظت، تصدیق اور قانونی ریکارڈ میں شمولیت انتہائی اہم ہے۔ صرف جذباتی دعویٰ کافی نہیں؛ اصل دستاویزات، سرکاری ریکارڈ، تاریخی شواہد اور قانونی ماہرین کی مدد سے حقیقت کو سامنے لانا ہوگا۔
اصل المیہ صرف ایک عمارت کا گرنا نہیں؛ اصل المیہ یہ ہے کہ کہیں ہمارے اندر احساسِ زیاں ہی نہ مر جائے۔ اگر آج ہم اپنی تاریخ کے آثار کو مٹتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہیں گے تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال ضرور کریں گی۔
وہ پوچھیں گی: جب تمہارے سامنے تمہاری تاریخ کے آثار مٹ رہے تھے تو تم کیا کر رہے تھے؟ جب تمہارے بزرگ غلامی کے زمانے میں اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو تم آزادی کے زمانے میں کیوں ڈرے؟
یہ سوال کسی ایک فرقے یا جماعت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
آج کے زمانے میں بہادری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی سے لڑیں یا قانون ہاتھ میں لیں۔ آج کی اصل بہادری یہ ہے کہ ہم اپنے حقوق اور آئین کو سمجھیں، تعلیم حاصل کریں، اپنی تاریخی دستاویزات محفوظ رکھیں، قانونی راستہ اختیار کریں، عدالتوں سے رجوع کریں، صحافت کے ذریعے اپنی بات کہیں اور جمہوری عمل میں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ماضی کے واقعات سنانے کے بجائے یہ بھی بتانا ہوگا کہ مستقبل کیسے محفوظ کیا جاتا ہے۔ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں بچتی؛ تاریخ دستاویزات، اداروں، تعلیم، شعور اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی محفوظ رہتی ہے۔
آج ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں، خوف ختم کرنے کی ہے۔ ضرورت نفرت کی نہیں، شعور کی ہے۔ ضرورت تصادم کی نہیں، اتحاد، علم، آئینی جدوجہد اور پُرامن اجتماعی عمل کی ہے۔
مسلمان اگر اپنے بنیادی مشترکات پر متحد ہو جائیں، اپنے اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے مشترکہ قومی اور شہری مسائل پر ایک آواز بن جائیں، تو بہت سے مسائل کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
ماضی کے بزرگوں نے ہمیں صرف ایک تاریخ نہیں دی، بلکہ ایک زندہ ضمیر بھی دیا تھا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس ضمیر کو زندہ رکھیں۔
کیونکہ آنے والی نسلیں صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہمارے دور میں کیا ہوا تھا؛ وہ یہ بھی پوچھیں گی کہ جب ہمارے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا، تب ہم نے کیا کیا تھا؟
Comments
Post a Comment