آزاد نظم - وہ معصوم تھی - ازقلم: رہبر تماپوری
آزاد نظم -
وہ معصوم تھی -
ازقلم: رہبر تماپوری.
وہ ننھے ہاتھوں میں
اپنی چھوٹی سی دنیا سمیٹے،
دانتوں میں انگلی دبائے،
آنکھوں میں ستاروں کی چمک لیے
مسکراتی تھی۔
وہ ہنستی
تو یوں لگتا،
جیسے ڈوبتے ہوئے دن کے دامن میں
اچانک کوئی روشنی
ٹھہر گئی ہو۔
شاید وہ نہیں جانتی تھی
کہ دنیا
اس کی معصوم آنکھوں سے
کہیں زیادہ وسیع ہے،
اور بند دروازوں کے پیچھے
کتنے چہرے
اپنے اپنے راز چھپائے بیٹھے ہیں۔
وہ سب میں نیکی دیکھتی تھی؛
ہر چہرہ
اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا،
ہر لفظ
ایک سچی دعا۔
پھر زمانے نے
اس کے ہاتھ میں
زندگی کا پہلا سبق رکھا—
ہر لمس
محبت نہیں ہوتا،
کچھ ہاتھ
سہارا بن کر بڑھتے ہیں،
اور کچھ
زخم دے کر لوٹ جاتے ہیں۔
وہ آہستہ آہستہ
بدلتی گئی۔
غربت نے
آنگن کی وسعت چھین لی،
خوابوں کے پر سمیٹ دیے،
اور اپنوں کی بے اعتنائی نے
اسے وقت سے پہلے
بڑا کر دیا۔
اس نے سیکھا
کہ خاموشی
ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی؛
کبھی خاموش رہنا
اپنے اندر کے شور کو
سنبھالنے کا ہنر بھی ہے۔
دکھ گہرا ہوتا گیا
تو وہ بھی
اندر سے گہری ہوتی گئی۔
اپنے ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑوں سے
دوسروں کے زخم ڈھانپتی رہی،
خود زخمی تھی،
مگر مرہم بانٹتی رہی۔
وقت گزرا—
بچپن
جوانی کی دہلیز سے گزر گیا،
اور وہ سمجھ گئی
کہ زندگی
صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں،
خوابوں کو بچانے کی جنگ بھی ہے۔
آج جب وہ
آئینے میں خود کو دیکھتی ہے
تو چہرے پر
بچپن کی وہی روشنی ہے،
مگر آنکھوں میں
تجربے کی ایک خاموش تحریر بھی۔
وہ ہنستی ہے
تو ہنسی وہی ہے،
مگر اب وہ جانتی ہے
کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے
ایک رات بھی سو سکتی ہے۔
وہ معصوم تھی۔
وہ معصوم ہے—
فرق صرف اتنا ہے
کہ اب اس کی معصومیت
بے خبری نہیں رہی؛
اس میں
زخموں کی آگ بھی ہے،
تجربے کی روشنی بھی،
اور حکمت کی وہ چمک بھی
جو وقت
انہی دلوں کو عطا کرتا ہے
جو ٹوٹ کر بھی
محبت کرنا نہیں چھوڑتے۔
وہ معصوم تھی—
اور شاید
اس کی سب سے بڑی جیت یہی ہے
کہ زمانے نے
اسے بہت کچھ سکھایا،
اس کے خواب چھینے،
اسے زخم دیے،
مگر—
اس کے دل سے
انسانیت نہیں چھین سکا۔
Comments
Post a Comment