تبصرہ بر کتاب - تذکرہ حضرت مولانا فضل رحماں گنج مرادآبادی۔ ازقلم : افضال احمد ملّی، پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک۔


تبصرہ بر کتاب - 
تذکرہ حضرت مولانا فضل رحماں گنج مرادآبادی۔ 
ازقلم : افضال احمد ملّی، پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک۔ 

     مطالعۂ کتب کے سفر میں میں نے حالیہ دنوں ’’ماذا تقرأ‘‘ کی ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایک کرکے کتابوں کے مطالعے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
 اسی ترتیب کے تحت جب ’’تذکرہ مولانا فضل رحماں گنج مرادآبادی‘‘ کا نمبر آیا تو بحمد اللہ اس کتاب کو پڑھنے اور مکمل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

یہ کتاب مجھے PDF کی صورت میں دستیاب ہوئی۔ اگرچہ کتاب کاغذی صورت میں ہاتھ میں نہ تھی، لیکن اس کے صفحات میں محفوظ ایک اہلِ دل کی زندگی اور حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے قلم کی تاثیر نے مطالعے کو ایسا لطف عطا کیا کہ محسوس ہوا، اصل اہمیت کتاب کی ظاہری صورت سے زیادہ اس کے اندر محفوظ علمی و روحانی سرمایہ کی ہے۔

گزشتہ اگست 2026ء میں اس کتاب کے مطالعے کا آغاز کیا اور پھر آہستہ آہستہ اس کے صفحات ایک ایسے عہد کی روحانی فضا سے آشنا کرتے چلے گئے، جہاں علم کے ساتھ عمل، شریعت کے ساتھ طریقت، اور ظاہری سادگی کے ساتھ باطنی عظمت نمایاں نظر آتی ہے۔

کتاب کا عنوان ہے: ’’تذکرہ مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی‘‘، جسے عظیم عالمِ دین، مفکرِ اسلام اور صاحبِ طرز ادیب حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ نے اپنے دل آویز قلم سے رقم کیا ہے۔

مولانا علی میاں ندویؒ کے اسلوبِ نگارش کی اپنی ایک الگ دل کشی ہے۔ 
وہ محض واقعات کو ترتیب دے کر پیش نہیں کرتے، بلکہ شخصیت کے باطن، اس کے روحانی احوال، فکری اثرات اور سیرت کے ان پوشیدہ گوشوں کو بھی سامنے لاتے ہیں جو عام تذکروں میں نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ ان کی تحریر میں تحقیق کی مضبوطی، اسلوب کی دل نشینی اور عقیدت و احترام کی خوشبو ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔

اس کتاب کے صفحات ہمیں چودھویں صدی ہجری کے اوائل کے ایک عظیم عالمِ ربانی، حضرت شاہ فضل رحماں گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سے آشنا کرتے ہیں؛ وہ بزرگ جن کی شخصیت علم و عمل، تقویٰ و طہارت، اتباعِ شریعت و سنت اور عشقِ قرآن کا حسین امتزاج تھی۔

آپ کی زندگی کا ایک نمایاں وصف سادگی تھا۔ کھانے پینے سے لے کر رہن سہن تک، زندگی کے ہر گوشے میں سادگی اور بے تکلفی نمایاں تھی۔ سنتِ مبارکہ کی پابندی آپ کی زندگی کا لازمی حصہ تھی، جبکہ تقویٰ و طہارت نے آپ کی شخصیت کو ایک خاص روحانی وقار عطا کر رکھا تھا۔

کتاب میں آپ کے روحانی کمالات، اخلاق و عادات، اقوال، دینی خدمات کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے حالات پڑھتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقی عظمت شور و نمود میں نہیں، بلکہ اخلاص، تقویٰ، اتباعِ سنت، سادگی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق میں پوشیدہ ہے۔

ماذا تقرأ کی ترتیب سے جاری یہ مطالعۂ کتب کا سفر میرے لئے محض کتابیں ختم کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ اپنے فکر و عمل میں قوت پیدا کرنے، بزرگوں کی زندگیوں سے سبق لینے اور کتابوں کے ذریعے اپنے اندر کے انسان سے ملاقات کی ایک کوشش ہے۔

اور شاید اچھی کتاب کی یہی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنے آخری صفحے پر پہنچ کر ختم نہیں ہوتی، بلکہ قاری کے اندر ایک نیا سوال، ایک نیا احساس اور آگے بڑھنے کی ایک نئی طلب چھوڑ جاتی ہے۔

الحمدللہ، اس کتاب ( تذکرہ مولانا فضل رحماں گنج مرادآبادی) کے مطالعے نے ایک بزرگ عالمِ دین کی زندگی سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی تازہ کیا کہ ہمارے اسلاف کی زندگیاں آج بھی ہمارے لئے اصلاح، اخلاص اور عمل کا روشن چراغ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔