چالیس سالہ تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین - محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی تہنیتی و سبکدوشی تقریب تماپور میں پُروقار انداز میں منعقد


نامہ نگار: رہبر تماپوری : 
تماپور / شوراپور / یادگیر: محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی تقریباً چار دہائیوں پر محیط 39 سالہ تعلیمی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں تہنیتی و سبکدوشی تقریب 31 اگست 2026ء، بروز پیر مسلم شادی محل، جامع مسجد تماپور میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا اہتمام الامین اردو ہائیر پرائمری اسکول، تماپور، تعلقہ شوراپور کی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا۔
تقریب میں اسکول کے اساتذہ، طلبہ، والدین، سابق طلبہ، معززینِ شہر، تعلیمی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی طویل، مخلصانہ اور قابلِ قدر تعلیمی و تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تلاوت، حمد، نعت اور ثقافتی پروگرام
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ نے حمدِ باری تعالیٰ اور نعتِ رسولِ اکرم ﷺ پیش کیں۔ بعد ازاں بچوں نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کیے، جن میں ان کی صلاحیتوں، خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافتی اظہار کی خوب صورت جھلک نمایاں ہوئی۔ طلبہ کی پیش کشوں کو حاضرین نے خوب سراہا۔

طلبہ کے چالیس تاثرات
ثقافتی پروگرام کے بعد تقریب کا ایک نہایت جذباتی اور یادگار مرحلہ آیا، جب طلبہ نے محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کے اعزاز میں چالیس تاثرات پیش کیے۔ طلبہ نے اپنی معلمہ کی شفقت، محبت، رہنمائی، حوصلہ افزائی اور تربیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں صرف کتابی علم ہی نہیں دیا بلکہ وقت کی قدر، محنت، سچائی، بڑوں کا احترام اور اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دی۔

طلبہ نے جذباتی انداز میں اپنی استاد کے لیے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

’’سلام ہو تجھ کو، اے استادِ محترم!‘‘
طلبہ کے ان تاثرات نے تقریب کے ماحول کو جذباتی بنا دیا اور حاضرین نے استاد و شاگرد کے اس خوب صورت رشتے کو بے حد سراہا۔

مہمانانِ گرامی اور ذمہ داران کی شال پوشی و گلپوشی
طلبہ کے تاثرات کے بعد مہمانِ خصوصی سمیت معزز مہمانانِ گرامی اور ادارے کے ذمہ داران کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ منتظمین کی جانب سے ان کی شال پوشی و گلپوشی کرکے عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر مہمانان کی شرکت اور تعاون پر اظہارِ تشکر بھی کیا گیا۔

نمایاں کامیاب چار سابق طلبہ کی تہنیت
اسی دوران الامین اردو ہائیر پرائمری اسکول میں جماعت اول تا ہفتم تک تعلیم حاصل کرنے والے چار سابق طلبہ کو بھی خصوصی طور پر تہنیت پیش کی گئی، جنہوں نے دسویں جماعت میں بہترین نمبرات حاصل کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی گلپوشی کرکے حوصلہ افزائی کی گئی اور ان کی کامیابی کو والدین، اساتذہ اور ادارے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا گیا۔

مفتی ضمیر احمد کا خطاب
اس کے بعد مفتی ضمیر احمد صاحب، خطیب و امام جامع مسجد تماپور نے محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی شخصیت اور طویل تعلیمی و تدریسی خدمات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے محترمہ جمیلہ بیگم کی دیانت داری، وقت کی پابندی، عاجزی، انکساری اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سینئر معلمہ ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ دیگر اساتذہ کی آراء کو اہمیت دیتی تھیں۔ انہوں نے اسکول کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ان کی مخلصانہ کوششوں، محنت اور احساسِ ذمہ داری کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔

محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کا خطاب
مفتی ضمیر احمد صاحب کے خطاب کے بعد محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ نے اپنے تاثرات اور خطاب پیش کیا۔ انہوں نے اپنے 39 سالہ تدریسی سفر کی مختلف یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1987ء میں اسکول سے وابستہ ہوئی تھیں، جب ادارہ محدود وسائل کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں تعلیمی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ اسکول نے ترقی کے مختلف مراحل طے کیے، اسکول کے لیے زمین حاصل ہوئی، جماعتوں میں اضافہ ہوا اور اردو میڈیم میں تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھا۔ اس پورے سفر میں انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور دیگر معاونین کا تعاون حاصل رہا۔
محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ نے بتایا کہ 3 جولائی 2021ء کو انہیں صدرِ معلمہ کی ذمہ داری سونپی گئی اور 2021ء سے 2026ء تک تقریباً پانچ سال انہوں نے یہ ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیم و تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کی صلاحیت یکساں نہیں ہوتی، اس لیے کمزور طلبہ پر خصوصی توجہ، حوصلہ افزائی اور رہنمائی ضروری ہے۔

انہوں نے اسکول کے صدر، سیکریٹری، انتظامی کمیٹی، ساتھی اساتذہ، والدین، طلبہ اور تمام معاونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی گلپوشی
محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کے خطاب کے بعد ان کی باقاعدہ گلپوشی کی گئی۔ اس موقع پر ان کی 39 سالہ تعلیمی و تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور شرکائے تقریب نے ان کے لیے اپنی محبت، عقیدت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وارث سر کا خطاب
محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی گلپوشی کے بعد وارث سر نے خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین اساتذہ کی محنت، قربانیوں اور تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود سہولیات کے باوجود نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے خود کو وقف کرنا ایک بڑی خدمت ہے۔
انہوں نے خواتین اساتذہ کی کامیابی میں خاندان، خصوصاً شوہر کے تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ اردو زبان اور تہذیبی اقدار سے بھی جوڑے رکھیں۔
وارث سر نے حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے سبکدوش ہونے والے اساتذہ کے بقایا جات اور دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔

اختتام پر توشیحی نظم
وارث سر کے خطاب کے بعد تقریب کے اختتامی مرحلے میں رہبر تماپوری نے محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کے اعزاز میں ’’جمیلہ بیگم‘‘ کی توشیح پر مبنی خصوصی نظم پیش کی۔ نظم میں ان کی جدوجہد، شرافت، اخلاص، دیانت، شفقت، علمی خدمات اور طلبہ کی تربیت کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
نظم کے اختتامی اشعار میں کہا گیا:
م — مبارک ہو یہ اعزاز، یہ منزل آپ کو
لبِ رہبرؔ پہ ہمیشہ آپ کی عزت رہی ہے
توشیحی نظم کی پیش کش پر حاضرین نے خوب پسندیدگی کا اظہار کیا اور محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
توشیحی نظم کی پیش کش کے بعد تقریب کا باقاعدہ اختتام ہوا۔ آخر میں شرکائے تقریب نے محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی آئندہ زندگی کے لیے صحت، عافیت، خوش حالی، سکون اور کامیابی کی دعائیں کیں۔
محترمہ جمیلہ بیگم صاحبہ کی یہ تہنیتی و سبکدوشی تقریب محض ملازمت کے اختتام کی رسمی تقریب نہیں تھی، بلکہ ان کے 39 سالہ تعلیمی، تدریسی اور تربیتی سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک یادگار موقع تھی۔ ان کی خدمات، شفقت اور تربیتی نقوش ان کے شاگردوں، ساتھی اساتذہ، والدین اور ادارے سے وابستہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

نامہ نگار: رہبر تماپوری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔