اذان اور مؤذن؟از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


اذان اور مؤذن؟
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

ہر اذان اپنی حقیقت میں مکمل اسلام کی بھر پور دعوت ہے - اس میں سب سے پہلے اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری نبی ہیں- اس کے بعد اللہ تعالیٰ ہی کی مقرر کی ہوئی سب سے اہم عبادت نماز کا اعلان ہے - یہ اعلان اللہ ہی کے حکم کے مطابق پانچ وقت ہوتا ہے- یہ بھی بڑی بد نصیبی کی بات ہے کہ اتنا عظیم تحفہ صدیوں سے نا قدرے مسلمانوں کی وجہ سے برباد ہو رہا ہے- ایک انتہائی تلخ اور کڑوی حقیقت  یہ ہے کہ ہر ملک کے مسلمان مٹی پتھر کی صرف مسجد بنانا جانتے ہیں مگر اس مسجد میں نماز پڑھنے کے ذریعہ اسے آباد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں - بھر حال ہم بات کر رہے ہیں اذان کی-
یہی اذان پانچ وقت بیوقوف مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کمانا نہیں ہے - بلکہ اصل کامیابی اللہ کی عبادت ہے جس کی سب سے بہتر شکل نماز ہے- 
اتنی ساری سچائیوں کا پانچ پانچ وقت اعلان کرنے والے کو مؤذن کہتے ہیں - اسلام میں اس عظیم الشان اعلان کرنے کا اعزاز سب سے پہلے ایک افریقن مسلمان کو ملا جسے ساری دنیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے-
اس عظیم عمل کی اسلام میں کیا حیثیت ہے وہ حدیثوں سے سمجھ میں آئے گا- اے کاش ہر مسلمان مؤذن ہو جائے-
پارہ نمبر 24 سورہ فصلت کی آیت نمبر 33 ومن احسن قولا ممن دعا إلى الله وعمل صالحا وقال انني من المسلمين کا ترجمه ( اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو “ لوگوں” کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی عمل کرے اور کہے کہ میں بھی ایک مسلمان ہوں) میں اللہ کی طرف بلانے کا مطلب اذان دینے کی بات بھی کہی گئی ہے - صحیح مسلم میں روایت ہے المؤذنون أطول الناس اعناقا یوم القیامه قیامت میں سب سے لمبی گردنیں مؤذنوں کی ہوں گی مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے تھے سھام المؤذنین عنداللہ تعالی یوم القیامۃ کسھام المجاھدین وھو بین الاذان و الاقامۃ کالمتشحط فی سبیل اللہ تعالی فی دمہ قیامت کے دن مؤذنوں کا  نیزہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسا ہوگا جیسے مجاھدوں کا اور ایک مؤذن اذان اور اقامت کہنے کے درمیان ایسا ہے جیسے کہ اللہ کے راستہ میں ایک زخمی مجاھد  کا خون اللہ کے راستہ میں بہہ رہا ہو - 
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اگر میں مؤذن بن جاؤں تو پھر مجھے کوئی پروا نہیں ہے کہ حج نہ کروں یا عمرہ اور جہاد نہ کروں- حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر میں مؤذن بن گیا تو میرا دین مکمل ہو گیا اور پھر مجھے پروا نہیں کہ راتوں کی عبادت نہ کروں اور دنوں میں روزہ نہ رکھوں- میں نے ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا  اللہم اغفر للمؤذنین ، یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا- کہتے ہیں میں نے فورا عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے ہمیں چھوڑ دیا جبکہ ہم تو  اذان کے لئے تلواروں سے لڑتے ہیں - آپ نے فرمایا ہرگز نہیں اے عمر ( یعنی تم اپنے مرتبہ  پر ہو ) ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ لوگ کئی گنا ہونے کے باوجود اذان چھوڑ بیٹھیں گے-اور مؤذنوں کے جسم جہنم پر حرام ہوں گے- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت کے بارہ میں فرمایا اس میں مؤذن کا ذکر ہے جب وہ حی علی الصلاۃ کہتا ہے - یہی بات حضرت عبد اللہ ابن عمر اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہما نے بھی فرمائی ہے-
اسلام میں ایک مؤذن کا مقام کتنا اونچا ہے  مگر بیچارہ یہی مؤذن انڈیا پاکستان بنگلا دیش اور دوسرے ملکوں میں رٹائرڈ بوڑھے مسلمانوں کی کمائی کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے- عموما دیکھا گیا ہے کہ محلہ کا کوئی شخص رٹائرڈ ہوتے ہی پانچ وقت کی نماز پڑھنا شروع کرتا ہے جبکہ اس سے پہلے یا تو بالکل بے نمازی تھا یا کبھی کبھار پڑھتا تھا- نماز شروع کرنے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی وہ چھوٹی سی ڈاڑھی بھی رکھ لیتا ہے- جب کبھی بھی پرانا مؤذن کسی وجہ سے موجود نہ ہو تو یہ رٹائرڈ نمازی صاحب اپنی بے ڈھنگی آواز کے ساتھ اذان کے عربی الفاظ کی صحیح ادائیگی سیکھے بغیر اذان دینا شروع کر دیتے ہیں- کچھ عرصہ بعد پرانے مؤذن کو ہٹا دیا جاتا ہے اور اب یہ صاحب مؤذن بن جاتے ہیں- ہمارے موجودہ معاشرہ کی مختلف بیماریوں میں سے ایک یہ بھی ہے-
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مؤذن دین کی ضروری معلومات رکھے- تجوید سے واقف ہو اور اذان کی اہمیت سمجھ کر اچھی آواز میں اذان دے - اذان ایسی دلکش ہو کہ بے نمازی کو بھی نماز پڑھنے کی رغبت ہو جائے-
حیدرآباد کے بہت مشھور عالم دین اور واعظ حضرت مولانا محمد حمید الدین حسامی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بتایا کہ لندن میں موجود مسلمانوں نے انھیں وہاں بلایا - اس دوران لوگوں نے مولانا کو بتایا کہ ایک دفعہ کسی نے فجر کی نماز کے وقت مقرر مؤذن موجود نہ ہونے کی وجہ سے اذان دے دی- اذان ختم ہونے پر ایک عیسائی مسجد میں آیا اور ان سے پوچھا اذان کس نے دی ان صاحب نے بتایا میں نے دی- اس عیسائی نے فورا ۱۰۰ ڈالر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا- وجہ پوچھنے پر بتایا کہ اس کی عیسائی بیوی اسلام کی اسٹڈی کر رہی تھی اور مسلمان بننے کا ارادہ بڑه گیا تھا- مگر آج آپ کی آواز میں اس نے اذان سنا تو اس کا ارادہ بدل گیا کیونکہ آپ کی آواز اتنی خراب ہے کہ سننا مشکل ہے-
میرے بھائیو یہ واقعہ صحیح ہو ہا غلط مگر اس کی روح بالکل صحیح ہے -
کاش ہر مؤذن کی آواز اسقدر دلکش اور عربی حروف کی ادائیگی اتنی اچھی ہو کہ اطراف میں رہنے والے غیر مسلم بھی اذان کے الفاظ گنگنانے لگ جا ئیں  اور محلہ کا ہر بے نمازی دلکش اذان سن کر نمازی بن جائے -
اللہم آمین-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔