حیدرآبادشہر شعر و ادب کا ایک عظیم گہوارہ - تلنگانہ اردو تحریک کی تہنیتی تقریب و شعری نشست سے پروفیسر ستار ساحر کا خطاب
حیدرآباد 29/ ستمبر (پریس نوٹ) تلنگانہ اردو تحریک (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام کل شب سالارجنگ کالونی ٹولی حیدرآباد میں نامور شاعرڈاکٹر طیب پاشاہ قادری اور معروف صحافی جناب محمدحسام الدین ریاض کے محکمہ تعلیمات سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوشی کے سلسلے میں ایک شاندار تہنیتی تقریب و شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔پروفیسر ستار ساحر سابق رجسٹرار عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول نے صدارت کی۔معروف شاعر وصحافی جناب سعداللہ خان سبیل نے نہایت سلیقہ کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئیے۔تقریب کا آغاز ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری کی قرات کلام پاک سے ہوا.صدر محفل نے اپنے خطاب میں کہا کہ حیدرآبادشہر شعر و ادب کا ایک عظیم گہوارہ ہے اور آج کی یہ محفل محض ایک تقریب نہیں، بلکہ محبت، احترام، اعترافِ خدمات اور خراجِ تحسین کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ہم آج یہاں ان شخصیات کی طویل علمی، ادبی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں جمع ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قوم و ملت کی خدمت، تعلیم و تربیت اور معاشرے کی تعمیر میں صرف کیا۔ریٹائرمنٹ یا سبکدوشی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ زندگی کے ایک نئے اور بامقصد دور کا آغاز ہے۔ سرکاری ملازمت سے سبکدوشی تو ایک ضابطے کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کبھی ریٹائر نہیں ہوتیں۔ عہدہ ختم ہو سکتا ہے، دفتر سے تعلق منقطع ہو سکتا ہے، مگر کردار کی خوشبو، علم کی روشنی اور خدمت کے نقوش ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
آج ہم جن محترم شخصیات کی تہنیت کے لیے جمع ہوئے ہیں، ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ محنت، دیانت، خلوص اور لگن سے انجام دی جانے والی خدمات کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کا تدریس محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ استاد وہ معمار ہے جو قوموں کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف کتابوں کا علم نہیں دیتا بلکہ زندگی گزارنے کا شعور، کردار کی پختگی اور فکر و نظر کی وسعت بھی عطا کرتا ہے۔آپ نے اپنی تدریسی زندگی میں یقیناً بے شمار طلبہ کی رہنمائی کی، ان کے ذہنوں کو علم کی روشنی سے منور کیا اور ان کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کیا۔ داعی محفل ڈاکٹر محسن جلگانوی ممتاز شاعر ادیب و صحافی نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ آج کی اس تقریب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنی تہذیب و روایت کے مطابق اپنے محسنوں کی خدمات کو یاد کر رہے ہیں۔ ہماری معاشرتی اور ادبی روایات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ جو لوگ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے کئی سال خدمت میں صرف کرتے ہیں، ان کی قدر کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔
آج کی یہ تہنیتی تقریب اسی جذبے کی ترجمان ہے۔ڈاکٹر محسن جلگانوی نےحسام الدن ریاض پر اور سمیع اللہ سمیع نے ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری پر اپنا تہنتی کلام پیش کیا۔اس موقع پر منتظمینِ تقریب کی جانب سے ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری اور جناب محمدحسام الدین ریاض کو سبکدوشی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے تہنیت بھی پیش کی گئی۔ بعد ازاں ایک معیاری محفل شعر کا انعقاد عمل میں آیا۔ جناب سمیع اللہ سمیع , جناب سیف نظامی , جناب شریف اطہر، جناب معالے اچل پوری ,ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری ,جناب ظفر فاروقی ,ڈاکٹر نعیم سلیم ,جناب شکیل حیدر,جناب سعداللہ خان سبیل , جناب بصیر خالد اور طنز ومزاح کے معروف شاعر بیلن نظام آبادی نے اپنا مرصع کلام پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی۔اس خوشگوار محفل اور پر تکلف عشائیہ کے انتظام و انصرام میں جناب واجد علی خان اور جناب راشد رضا خان ,جناب فرزان علی خان اور ماسٹر نعمان رضا نے انتظامات میں بھر پور حصہ لیا۔ داعی محفل ڈاکٹر محسن جلگانوی کے شکریہ پر اس تقریب کا نصف شب کے بعد اختتام ہوا۔جناب سیف نظامی اور جناب بصیر خالد نے بھی ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری اور جناب محمد حسام الدین ریاض کو تحائف پیش کیے۔
ڈاکٹر محسن جلگانوی کی مایہ ناز تصانیف شجر ثمر بار ,بین السطور اور روشن دان حاضرین میں بطور تحفہ تقسیم کی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment