کہانی - ’’بددعا‘‘ - ازقلم : رہبر تماپوری


 کہانی - 
 ’’بددعا‘‘ - 
ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141


گاؤں کے بیچ اقبال کی پختہ حویلی اپنی اونچی دیواروں سے امارت کا اعلان کرتی تھی۔ وہ اپنے خاندانی وقار پر نازاں تھا۔ اسی گاؤں کے کنارے عظمت کی کچی جھونپڑی تھی، جہاں لو اور سرد ہوا درزوں سے اندر آتی تھی۔ وہاں ایک خوددار مزدور رہتا تھا، جو حلال کمائی پر یقین رکھتا تھا۔

زینب، اقبال کی بیوی اور عظمت کی بہن تھی۔ اس کے لیے بھائی کی جھونپڑی اور شوہر کی حویلی کے درمیان چند گلیوں کا فاصلہ تھا، مگر وہ دو دنیاؤں کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ دونوں کو جوڑنا چاہتی تھی، مگر اقبال کی انا ہر بار دیوار بن جاتی۔

اقبال کو عظمت کی غربت کھٹکتی تھی۔ وہ اسے اپنی شان پر داغ سمجھتا اور اکثر اس کی محنت کا مذاق اڑاتا۔

ایک دوپہر سورج آگ برسا رہا تھا۔ عظمت کئی دن کی مسلسل مزدوری کے بعد پسینے میں شرابور اور بھوک سے نڈھال اپنی بہن کے گھر پہنچا۔ زینب نے اسے پانی دیا اور محبت سے گرم کھانا لا کر سامنے رکھ دیا۔ عظمت نے پہلا لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ اقبال آ گیا۔

عظمت کو دیکھتے ہی اقبال طنزیہ انداز میں بولا:

’’پھر آ گئے؟ کب تک تم جیسے مزدور ہمارے دسترخوان پر بوجھ بنو گے؟ اپنی حیثیت دیکھا کرو۔ یہ مفت خانہ نہیں ہے۔‘‘

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ عظمت کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ اس نے اپنے مٹی بھرے ہاتھوں کو دیکھا؛ وہی ہاتھ جو سارا دن اینٹیں ڈھوتے اور حلال رزق کماتے تھے۔

زینب نے بے بسی سے کہا:

’’اقبال! بھائی کئی گھنٹوں سے بھوکا ہے۔‘‘

مگر عظمت خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی خاموشی میں چیخ سے زیادہ وزن تھا۔ بہن کی طرف دیکھ کر صرف اتنا بولا:

’’باجی! آج بھوک نہیں۔‘‘

اور باہر نکل گیا۔

نیم کے درخت کے نیچے پہنچ کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ دل میں طوفان برپا تھا؛ ایک طرف بہن کی محبت تھی اور دوسری طرف توہین کا زخم۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:

’’اے اللہ! میں نے کسی کا حق نہیں مارا۔ اگر میرا دل ٹوٹا ہے تو تُو ہی انصاف کر۔‘‘

یہ انتقام نہیں تھا، ایک زخمی دل کی فریاد تھی۔

اس دن کے بعد عظمت نے اقبال کی دہلیز سے فاصلہ رکھ لیا۔ وقت گزرتا گیا، موسم بدلتے گئے۔ عظمت کے بالوں میں سفیدی اتر آئی، مگر اس کی محنت اور خودداری قائم رہی۔

ادھر اقبال کی حویلی کی رونق بھی ماند پڑنے لگی۔ اس کا اکلوتا بیٹا بری صحبت میں پڑ کر جوئے کا عادی ہو گیا۔ زمینیں بکیں، زیورات فروخت ہوئے اور دولت ریت کی طرح ہاتھ سے نکلتی گئی۔ پریشانی، پچھتاوے اور ذہنی اذیت کے عالم میں اقبال دنیا سے رخصت ہو گیا۔

کچھ دن بعد زینب اپنے بھائی کے پاس آئی۔ چہرہ زرد اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ وہ بھائی کے سامنے بیٹھ کر روتے ہوئے بولی:

’’بھائی! کبھی کبھی لگتا ہے شاید میری ہی آہ لگ گئی۔ میرا شوہر دنیا سے چلا گیا، میرا بیٹا سب کچھ برباد کر چکا ہے اور اب میری دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ مجھے معاف کر دو اور میرے شوہر کو بھی دل سے معاف کر دو۔ میرے لیے دعا کرو کہ اللہ میرے بیٹے کو ہدایت دے، اسے اس بری عادت سے نجات دے اور وہ دوبارہ میرا سہارا بن جائے۔‘‘

عظمت نے بہن کے ہاتھ تھام لیے۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

’’باجی! آپ سے میری محبت کبھی کم نہیں ہوئی۔ جو درد تھا، وہ اللہ کے سامنے رکھ دیا تھا۔ میں اقبال کو دل سے معاف کرتا ہوں۔ اللہ آپ کے بیٹے کو ہدایت دے، اسے اس بری عادت سے نجات دے اور اسے آپ کا سہارا بنائے۔‘‘

زینب پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

عظمت خاموش کھڑا آسمان کی طرف دیکھتا رہا۔ اسے محسوس ہوا کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ انسان کو اس کا اخلاق بڑا بناتا ہے۔

اس دن اسے یہ حقیقت بھی سمجھ آئی کہ مظلوم کی سب سے بڑی فتح بدلہ نہیں، معافی ہے؛ کیونکہ بددعا دل کا بوجھ بڑھاتی ہے، مگر دعا اور معافی انسان کو اندر سے آزاد کر دیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔