آئیں ایک ’’کاش‘‘ کو ختم کریں - ازقلم: رہبر تماپوری
آئیں ایک ’’کاش‘‘ کو ختم کریں -
ازقلم: رہبر تماپوری مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
کاش! میں نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا ہوتا کہ اچھا انسان بننا اور ہر ایک کے لیے خود کو مٹا دینا، دونوں ایک بات نہیں۔ میں نے ہمیشہ نرمی کو اپنا ہتھیار اور برداشت کو اپنی طاقت سمجھا۔ رشتوں کو جوڑنے میں لگا رہا، ہر دل کو منانے کی کوشش کی اور کئی بار صرف اس لیے اپنے حق سے دستبردار ہوگیا کہ کہیں کوئی رشتہ ٹوٹ نہ جائے۔ جب میرا حق مارا گیا تو میں خاموش رہا، یہ سوچ کر کہ وقت گزر جائے گا اور رشتے قائم رہیں گے؛ مگر دیر سے احساس ہوا کہ بعض خاموشیاں رشتے نہیں بچاتیں، انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔
میں اپنوں سے دل کا رشتہ نبھاتا رہا، سب کو ساتھ رکھنے اور سب کے دل رکھنے کی کوشش میں نہ جانے کب خود ہی سب سے پیچھے رہ گیا۔ ایک دن آئینے میں اپنی زندگی کو دیکھا تو دل سے ایک سوال اٹھا: میں نے سب کے لیے اتنا کچھ کیا، مگر اپنے لیے کیا کیا؟
اب میرا ’’کاش‘‘ محض ایک افسوس نہیں، ایک سبق ہے۔ میں محبت بھی بانٹوں گا، رشتوں کی قدر بھی کروں گا اور جہاں ممکن ہو، معاف بھی کروں گا؛ مگر اپنی عزت، اپنے حق اور اپنی حدود کی قیمت پر نہیں۔ کیونکہ انسان دوسروں کے دل جیتتے جیتتے اگر خود ہی اپنے دل سے ہار جائے، تو یہ جیت بھی ایک خاموش شکست بن جاتی ہے۔
خدا سے دعا ہے کہ میرے مخلص عملوں کا بہترین صلہ عطا فرمائے اور مجھے اپنی حدود کی حفاظت کا شعور دے۔
آج سے میرا عہد ہے کہ ’’کاش! میں نے اپنے لیے بھی کچھ کیا ہوتا‘‘ کو ختم کرکے اسے ’’الحمدللہ! میں نے خود کو بھی جینا سیکھ لیا‘‘ میں بدل دوں گا۔
Comments
Post a Comment