مکند شرما غازی آبادی کو گرو ونے ساگر جیسوال سمان سے نوازا گا۔
مکند شرما غازی آبادی کو گرو ونے ساگر جیسوال سمان سے نوازا گا۔
یوں سجا کے بزمِ اردو میرے ہم نواؤ سچ مچ
جو چراغ بجھ رہا ہے اسے تیل دے رہے ہو
فراز اکیڈمی پیپل سانہ ضلع مرادآباد، اتر پردیش میں 30 اگست 2026 بروز اتوار کو ایک آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف شاعر *انجینئر فرید عالم قادری صاحب* کے شعری مجموعے *”اجالے اور بھی ہیں“* کی رسمِ اجراء انتہائی شان و شوکت کے ساتھ ادا کی گئی۔
پہلے دور کی صدارت الور (راجستھان) سے تشریف لائے مدھوسودن جی نے کی اور نظامت کے فرائض ارشاد دھامپوری جی نے بخوبی انجام دیے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر آفتاب نعمانی نجیب آبادی، مہمانِ ذی وقار شمیم افسر صاحب کالپی بندیل کھنڈ اور الیاس پرتاپ گڑھی رہے، جبکہ نظام حسین فدا کالپی بندیل کھنڈ نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔ محفل کا آغاز *انجینئر فرید عالم قادری* نے نعتِ رسول سے کیا، جبکہ فرحت علی فرحت پیپل ثانوی نے بھی نعتِ پاک پیش کی۔
غزل کا دور نفیس پاشا صاحب نے شروع کیا اور سماں باندھ دیا۔ دوسرے دور کی صدارت ارشاد دھامپوری صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض سید شیبان قادری امروہوی نے انجام دیے۔
اس موقع پر فراز اکیڈمی کی جانب سے:
سید شیوان قادری کو انور جلال پوری ایوارڈ
ارشاد دھامپوری کو قمر مرادآبادی ایوارڈ
انجینئر فرید عالم قادری کو طائرِ سخن ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی ساتھ نظام حسین فدا کالپوی، الیاس پرتاپ گڑھی، شمیم افسر بندیل کھنڈی، فرید احمد کالپوی اور یعقوب راج افضل پوری کو طائرِ سخن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سیوان (بہار) سے آئے کوی آدتیہ اویرل، برج بھوشن بریلوی اور مدھوسودن الوریا (راجستھان) کو ستیش فگار ایوارڈ سے نوازا گیا مکند شرما غازی آبادی کو گرو ونے ساگر جیسوال ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
شعراء کا منتخب کلام:
ان تمام حضرات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے زبیر مرادآبادی نے کہا:
مدتوں ہم نے زمانے کو دیا درسِ حیات
مدتوں تک ہمیں روئیں گے زمانے والے
انجینئر فرید عالم قادری:
طوفان و تلاطم وہی، دریا بھی وہی ہے
کشتی پہ مگر اپنا بھروسہ بھی وہی ہے
اشوک صاحب گلاوٹھی:
بدحالیوں کو میری نہ ہنس ہنس کے دیکھیے
ہوں وقت کا شکار تماشا نہیں ہوں میں
صابر مائل بھوجپوری:
میں بے وفا کہوں یا کہوں با وفا تجھے
الجھن میں پڑ گیا ہوں کہوں اور کیا تجھے
فرحت علی فرحت پیپل ثانوی:
آپ کے آنے سے آئی ہے وفا کی خوشبو
گل کھلے اور بہاروں نے غضب ڈھایا ہے
ڈاکٹر اعظم براق:
دو دلوں کا فاصلہ مٹنے نہیں دیتے ہیں جو
ایسے لوگوں سے ہمیشہ فاصلہ رکھتا ہوں میں
استاد شاعر اکیم الدین اکیم منڈاواری بجنور:
مٹی کی ہر اک پیشانی پر چاندی کا کرم کب دیکھا ہے
مزدور کے ہاتھوں میں تم نے سونے کا قلم کب دیکھا ہے
نفیس پاشا:
ظلموں کو مٹانے کو بھی تیار رہو تم
مظلوم کے ہر لمحہ طرف دار رہو تم
سرفراز حسین فراز پیپل ثانوی:
یوں سجا کے بزمِ اردو میرے ہم نواؤ سچ مچ
جو چراغ بجھ رہا ہے اسے تیل دے رہے ہو
ان کے علاوہ کوی سمیلن و مشاعرے میں عقیل بریلوی، ذیشان نعمانی میر گنجوی، فرقان انڈین نگینوی، غفران راشد گلوٹھی، نسیم اختر بھوجپوری اور محمد مکرم دھامپوری نے بھی شرکت کی۔
اس مبارک موقع پر مشاعرے کے سرپرست حاجی امیر حسین صاحب نے تمام شعراء کو دعاؤں سے نوازا۔ تقریب میں ریاض انصاری، ناطق سلطان، ماسٹر انتخاب، شاہد حسین، محمد عمر، انتظار، صدام حسین، افسر علی، محمد شاہنواز حسین، کشش، شمی، رہنما، عالمہ، ماسٹر فرقان، حافظ ذیشان، شفیع، رئیس جہاں، محمد نظام، خالد ہاپوڑی، محمد فیض، عصمت، رضوانہ، گلشیر، دلنواز وغیرہ نے شعراء کے کلام کو خوب سراہا اور محفل کو رونق بخشی۔
آخر میں مشاعرہ کنوینر رضوانہ نرگس نے کامیاب پروگرام پر تمام شرکاء کو دلی مبارکباد پیش کی اور شکریہ ادا کیا۔
Comments
Post a Comment