کامیابی کا جدید مادی تصور اور اسوۂ رسول ﷺ - از قلم : عالمہ مبین پالیگار۔


کامیابی کا جدید مادی تصور اور اسوۂ رسول ﷺ - 
از قلم : عالمہ مبین پالیگار۔
Principal، Mount Sinai PU College, Belagavi (Karnataka)
M.A., M.Ed. 8904317986

محترم صدرِ محفل، معزز اراکینِ جج صاحبان، قابلِ احترام اساتذۂ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج مجھے جس فکر انگیز، اہم اور عصرِ حاضر کی ایک نہایت ضروری موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع ملا ہے، وہ ہے:
"کامیابی کا جدید مادی تصور اور اسوۂ رسول ﷺ"
محترم حاضرین!
آئیے، ایک لمحے کے لیے اپنے دل سے سوال کریں:
کامیاب انسان کون ہے؟
اگر آج ہم یہی سوال اپنے معاشرے میں کریں تو شاید فوراً جواب ملے:
جس کے پاس شاندار بنگلہ ہو، مہنگی گاڑی ہو، کروڑوں کا بینک بیلنس ہو، بلند عہدہ ہو، سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز ہوں، یا امتحان کی مارک شیٹ پر 99 فیصد نمبر درج ہوں!
گویا آج کامیابی کو چند ظاہری چیزوں تک محدود کر دیا گیا ہے:
دولت، شہرت، عہدہ، نمبرات اور ظاہری آسائش!
لیکن محترم حاضرین!
کیا یہی حقیقی کامیابی ہے؟
اگر کسی انسان کے پاس کروڑوں روپے ہوں، لیکن اس کا دل بے سکون ہو، راتوں کی نیند حرام ہو، رشتوں میں محبت باقی نہ رہے اور ضمیر اسے ملامت کرتا رہے—
تو کیا ہم اسے کامیاب کہیں گے؟
اگر ایک طالب علم 98 فیصد نمبر حاصل کرے، لیکن والدین کا احترام نہ کرے، استاد کی عزت نہ کرے، جھوٹ بولے، دھوکا دے اور کمزوروں کا مذاق اڑائے—
تو کیا وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہے؟
معزز حاضرین!
میں ترقی، تعلیم، دولت، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی نفی نہیں کرتی۔دولت زندگی کی ضرورت ہے، تعلیم وقت کی ضرورت ہے، ترقی معاشرے کی ضرورت ہے، اور سائنس و ٹیکنالوجی عصرِ حاضر کی اہم ضرورتیں ہیں۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کو ذریعہ سمجھتے ہیں یا مقصد؟
یہی اصل فرق ہے!
دولت ہماری ضرورت ہو سکتی ہے، مگر ہماری زندگی کا مقصد نہیں۔تعلیم ہماری طاقت ہو سکتی ہے، مگر کردار کے بغیر وہ ادھوری ہے۔ترقی ہماری منزل ہو سکتی ہے، مگر اخلاق کی قیمت پر حاصل کی گئی ترقی حقیقی کامیابی نہیں۔
دولت کی چمک آنکھ کو خیرہ تو کرے گی
دل کا سکون دے نہ سکے گی، یہ سمجھ لو
حاصل نہ ہو اخلاق تو یہ کچھ بھی نہیں ہے
دنیا کی بلندی بھی ہے پست، یہ سمجھ لو
محترم جج صاحبان!
آج کی دنیا نے ہمارے نوجوانوں کو ایک ایسی اندھی دوڑ میں شامل کر دیا ہے جس میں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے کے پاس گاڑی ہے، مجھے اس سے بڑی گاڑی چاہیے۔دوسرے کے پاس بڑا گھر ہے، مجھے اس سے بڑا گھر چاہیے۔دوسرے کے نمبر زیادہ ہیں، مجھے اس سے زیادہ نمبر چاہیے۔دوسرے کے فالوورز زیادہ ہیں، مجھے اس سے زیادہ فالوورز چاہیے!
نتیجہ کیا نکلا؟
مقابلہ بڑھا، مگر سکون کم ہو گیا۔
سہولتیں بڑھیں، مگر قناعت ختم ہو گئی۔
معلومات بڑھیں، مگر حکمت کم ہو گئی۔
رابطے بڑھے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے۔
زمانے بھر کی دولت بھی ملی تو کیا حاصل
اگر سکونِ دل و راحتِ ضمیر نہ ہو
عزیز ساتھیو!
خصوصاً ہمارے تعلیمی نظام میں کامیابی کو نمبرات اور گریڈز سے جانچنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ڈاکٹر بنیں، انجینئر بنیں، سائنس دان بنیں، افسر بنیں، بڑے عہدوں تک پہنچیں۔یہ خواہش بالکل درست ہے۔لیکن ایک سوال ہمیں اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے:کیا ہم ان کے ساتھ ایک اچھا انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟ہم تیز ذہن تو پیدا کر رہے ہیں، مگر کیا ہم مضبوط کردار کے حامل افراد بھی تیار کر رہے ہیں؟ہم ڈگریاں دے رہے ہیں، مگر کیا ہم امانت، دیانت، احترام، صبر اور خدمت کا شعور بھی منتقل کر رہے ہیں؟اگر ایک طالب علم اعلیٰ نمبر حاصل کرے، لیکن اپنے والدین کو تکلیف دے، استاد کی بے عزتی کرے، کمزور کو حقیر سمجھے اور کامیابی کے لیے جھوٹ اور بے ایمانی کا راستہ اختیار کرے—تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا:ہم نے ایک ذہین انسان تیار کیا ہے یا ایک باکردار انسان؟
علم سے بڑھ کے ہے کردار کی عظمت اے دوست
علم تو مل ہی جائے، مگر انسان کہاں؟ڈگریاں علم کا معیار نہیں ہو سکتیں پھول کھلتے ہیں تو خوشبو بھی ہوا کرتی ہے
جنابِ صدر!
اب آئیے اُس عظیم ہستی کی سیرت کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو پوری انسانیت کے لیے کامیابی کا کامل معیار لے کر تشریف لائے:
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ!
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ کامیابی محض مال کی کثرت، شہرت یا ظاہری شان و شوکت کا نام نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اصل مال داری مال کی کثرت نہیں، بلکہ اصل مال داری دل کا غنی ہونا ہے۔"
یعنی حقیقی دولت صرف وہ نہیں جو بینک اکاؤنٹ میں ہو؛
حقیقی دولت وہ بھی ہے جو دل کے اندر ہو۔
دل میں اطمینان ہو، رزق حلال ہو، ضمیر مطمئن ہو، انسان دوسروں کے حقوق ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو—
تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔
محترم حاضرین!
اسلام ہمیں قناعت سکھاتا ہے، لیکن قناعت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان محنت چھوڑ دے۔
اسلام یہ نہیں کہتا کہ آگے نہ بڑھو۔
اسلام کہتا ہے:
محنت کرو!
علم حاصل کرو!
ترقی کرو!
دنیا میں آگے بڑھو!
لیکن—
حلال راستے سے!
ایمان کے ساتھ!
اخلاق کے ساتھ!
اور انسانیت کے ساتھ!
اسلام یہ نہیں کہتا کہ کامیاب نہ بنو؛
اسلام یہ سکھاتا ہے:کامیاب ضرور بنو، مگر کامیابی کی قیمت اپنا ایمان اور اپنا کردار نہ بناؤ!قناعت اختیار کر، یہی دل کی دولت ہےنہ ہو محل تو بھی انسان کی عزت ہے
خودی کو نہ بیچ اس جہاں کے عوض میں
جو قائم رہے حق پہ، وہی با مروت ہے
معزز حاضرین!
سیرتِ رسول ﷺ ہمیں کامیابی کا ایک ایسا جامع معیار عطا کرتی ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی شامل ہے۔
آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا:
بلندی ملے تو عاجزی اختیار کرو۔
طاقت ملے تو ظلم نہ کرو۔
دولت ملے تو غرور نہ کرو۔
علم ملے تو دوسروں کو فائدہ پہنچاؤ۔
عہدہ ملے تو عدل کرو۔
اور سب سے بڑھ کر—
انسان بنو!یہی نبوی کامیابی ہے!
بلندیوں پہ پہنچ کر بھی جھکا رہے جو سر
اسی کے نام سے روشن ہے زندگی کا سفر
میرے عزیز ساتھیوں!
آپ ڈاکٹر بنیں—مگر مریض کے درد کو سمجھیں۔
انجینئر بنیں—مگر اپنی صلاحیتیں انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
تاجر بنیں—مگر تجارت میں دیانت کو مقدم رکھیں۔
افسر بنیں—مگر اختیار کو ظلم کا ذریعہ نہ بنائیں۔
استاد بنیں—مگر علم کے ساتھ کردار بھی منتقل کریں۔
اور طالب علم بنیں—مگر اپنے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے حقوق کو فراموش نہ کریں۔
یہی کامیابی کا نبوی تصور ہے!
محترم حاضرین!
آج ہمیں کامیابی کی تعریف ازسرِنو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنے بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیں:
"کتنے نمبر آئے؟"
یہ بھی پوچھیں:
"آج تم نے کسی کی مدد کی؟"
صرف یہ نہ پوچھیں:
"کتنے پیسے کمائے؟"
یہ بھی پوچھیں:
"کیا یہ پیسہ حلال طریقے سے کمایا؟"
صرف یہ نہ دیکھیں کہ بچہ کتنا آگے بڑھا؛
یہ بھی دیکھیں کہ آگے بڑھتے ہوئے اس نے کس کا ہاتھ تھاما اور کس کو پیچھے دھکیلا؟
کیونکہ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا کو پیچھے چھوڑ دے؛
بلکہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کی برائیوں کو پیچھے چھوڑ دے۔
چراغ بن کے جلا، روشنی بانٹتا چل
یہی ہے جیت کہ دنیا کو بھی سنوارتا چل
نبی ﷺ کے راستے پر زندگی گزارتا چل
جہاں ملے تجھے موقع، کسی کے کام آتا چل
محترم سامعین!
آئیے، آج ہم عہد کریں:نمبر حاصل کریں گے، مگر نمبرات کو اپنی شناخت نہیں بنائیں گے۔دولت کمائیں گے، مگر دولت کو مقصدِ زندگی نہیں بنائیں گے۔عہدہ حاصل کریں گے، مگر تکبر اختیار نہیں کریں گے۔ترقی کریں گے، مگر اخلاق کو قربان نہیں کریں گے۔اور سب سے بڑھ کر—اپنی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔کیونکہ دنیاوی کامیابی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیابی دائمی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا
"یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا
۔"پس کامیاب وہ نہیں جس کے پاس سب کچھ ہو؛کامیاب وہ ہے جس کے کردار میں پاکیزگی ہو،
دل میں اللہ کا خوف ہو،زبان پر سچائی ہو،معاملات میں دیانت ہو،والدین کے لیے احترام ہو،اساتذہ کے لیے ادب ہو،اور زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع ہو۔
#دنیا کی چمک دمک میں نہ کھو دینا اپنا وقار
کردار سے روشن ہو تو زندگی ہے شاہکار
نہ مال پہ ناز ہو، نہ شہرت کا ہو غرور
اسوۂ رسول ﷺ ہو تو کامیابی ہے ضرور!
محترم حاضرین!
آخر میں صرف ایک بات یاد رکھیے:
دنیا آپ کو کامیاب قرار دے، یہ ضروری نہیں؛
ضروری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب قرار دے۔اور یہی وہ کامیابی ہے جس کے لیے ہمیں جینا ہے، محنت کرنی ہے، اپنے کردار کو سنوارنا ہے اور اپنی نئی نسل کو تیار کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں باعزت، باکردار اور مفید انسان بنائے، اور آخرت میں حقیقی کامیابی عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسوۂ رسول ﷺ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔