اسکرین کو قابو میں رکھیں، اس سے پہلے کہ وہ آپ کو قابو کر لےڈاکٹر اسد اللہ خان جونیئر کالج میں طلبہ کو اسکرین کی لت سے بچانے کے لیے خصوصی آگاہی نشست۔
ممبرا (نامہ نگار) : موبائل فون، سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نوجوانوں میں اسکرین کی لت کے سنگین مسئلے کے پیش نظر ڈاکٹر اسد اللہ خان انگلش ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، ممبرا کے نعمان امام آڈیٹوریم میں جماعت گیارہویں سائنس کے طلبہ کے لیے ’’اسکرین کی لت سے نجات‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی آگاہی نشست منعقد کی گئی۔
’’اسکرین کو کنٹرول کریں، اس سے پہلے کہ اسکرین آپ کو کنٹرول کرنے لگے‘‘ کے مؤثر پیغام کے تحت منعقدہ اس پروگرام کےماہرِ معاون محمد مصعب تھے۔ یہ نشست ادارے کی پرنسپل محترمہ رضوانہ سید اور نائب پرنسپل محترمہ عالیہ قاضی کی رہنمائی میں منعقد ہوئی۔
پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو ٹیکنالوجی ترک کرنے کی تلقین کرنا نہیں، بلکہ انہیں اس کے متوازن، منظم اور بامقصد استعمال کی جانب راغب کرنا تھا۔ نشست کے دوران طلبہ کو موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن گیمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے ذہنی، جسمانی، تعلیمی اور سماجی نقصانات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
پروگرام کےماہرِ معاون آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے رکن محمد مصعب نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اسکرین کا بے جا اور غیر ضروری استعمال توجہ اور تعلیمی کارکردگی میں کمی، نیند میں خلل، آنکھوں کی تھکن، جسمانی سرگرمیوں سے دوری، ذہنی دباؤ اور خاندانی و سماجی تعلقات میں کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو متنبہ کیا کہ اگر اسکرین کے استعمال کو بروقت منظم نہ کیا جائے تو یہ محض ایک عادت نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ انسان کی روزمرہ زندگی، ترجیحات اور رویّوں کو اپنے قابو میں لے لیتی ہے۔
اس موقع پر طلبہ کو اسکرین ٹائم محدود کرنے، غیر ضروری نوٹیفکیشن بند رکھنے، دورانِ مطالعہ موبائل فون سے فاصلہ رکھنے اور کھیل کود، مطالعۂ کتب، تخلیقی سرگرمیوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کی عملی تجاویز دی گئیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کو صرف تفریح کے بجائے تعلیم، تحقیق، معلومات اور شخصیت سازی کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی گئی۔
نشست میں بالخصوص اس امر پر زور دیا گیا کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کی مصروفیات نماز، بالخصوص نمازِ فجر، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات میں رکاوٹ نہ بنیں۔ طلبہ کو سمجھایا گیا کہ ٹیکنالوجی انسان کی سہولت کے لیے ہے؛ اسے انسان کے وقت، ذہن اور زندگی پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
پروگرام کو سوال و جواب کے ذریعے دلچسپ اور تعاملی بنایا گیا، جس میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا اور اسکرین کے استعمال سے متعلق اپنے سوالات اور تجربات پیش کیے۔ شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں خصوصی بیجز دیے گئے، جبکہ اختتام پر طلبہ میں ڈی ایڈکشن اسٹیکرز بھی تقسیم کیے گئے۔
پرنسپل محترمہ رضوانہ سید اور نائب پرنسپل محترمہ عالیہ قاضی نے طلبہ کی متوازن ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما کے لیے ایسی آگاہی نشستوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے نوجوان نسل کو ڈیجیٹل ذرائع کے ذمہ دارانہ اور مثبت استعمال کی تربیت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
Comments
Post a Comment