علم و عمل کی جامع شخصیت - حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر) کا اجمالی تعارفی خاکہ از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - (جنرل سیکرٹری دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)
علم و عمل کی جامع شخصیت -
حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر) کا اجمالی تعارفی خاکہ
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی -
(جنرل سیکرٹری دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)
پیش کش قاری اخلاق احمد جمالی صاحب -
(صدر دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)
اہلِ علم میں بعض شخصِیَّات اپنی علمی و فکری جولانی، سحر بیانی، سلاستِ لسانی، جوانمردی، علمی و قلمی پختگی، اعلیٰ کردار، بلند اوصاف، عمدہ اخلاق، بلند ہمتی اور کام کی دُھن سے، ہمیشہ دل و دماغ پر مرتسم ہوتی ہیں ان کی عظمت و رفعت کا سکہ اکثر تصورات و خیالات کی دنیا پر رائج رہتا ہے حالاں کہ وہ گوشہ نشینی اور گم نامی کے خواہاں و دلدادہ ہوتے ہیں مگر مشیتِ ایزدی ثُمَّ یُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فی الأرضِ کے قاعدہ سے قبولیتِ عامہ حاصل ہوتی ہے، اور ان کے معاصرین اور بعد کی نسل کے لے ان کی پاکیزہ زندگی کے اطوار اور خیر کی روش، عمل پیرا ہونے کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے ان ہی بافیض اور باکمال شخصّیات میں ایک منفرد نام حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی کا بھی ہے
تاریخ پیدائش :
آپ اس عالمِ رنگ و بو میں 12 جولائی 1967 دو شنبہ کو تولد ہوئے، کنجرہ تحصیل مرتضیٰ پور ضلع اکولہ مقامِ پیدائش ہے والدِ بزرگوار پر دینی رنگ چڑھا تھا اسی لیے ان کی دلی خواہش و تمنا تھی کہ حضرت مفتی صاحب نسبتِ علمی سے سرشار ہو اور خود آپ کا ذوق و مزاج بھی یہی تھا کہ حصولِ علمی سے متصف ہوں چناں چہ خالقِ کائنات نے ایسے اسباب مہیّا فرمائے جو حصول علم کی دشوار گزار راہوں میں معین و مددگار ثابت ہوئے ، نشوونما اور اثر پزیری کے سب سے اہم لمحات اور حروف لکھنے پڑھنے اور بولنے کی شُد بُد والدِ محترم حضرت دلبر شاہ صاحب کے زیر تربیت اور گھر و مکتب کے دینی ماحول میں ہوئی، عصری تعلیم کے حصول کے لیے عمر کے آٹھویں سال میں 29 جولائی 1975 میں اسکول میں داخل ہوئے اول تا چہارم تک عصری تعلیم حاصل کیں اسکولی تعلیم کے بعد مدرسہ میں داخل ہوئے
دینی تعلیم کا حصول :
1979میں والد صاحب نے ضلع اکولہ کے ایک معروف مدرسہ دارالعلوم امان الاسلام میں داخل کیا اور یہاں درجہ ہفتم تک کی تعلیم حاصل کی، چوں کہ مبداء فیاض نے علمی و ذوق سے خوب نوازا تھا البتہ ذوق و شوقِ مطالعہ میں جہاں خاندانی اور تعلیمی ماحول کا دخل ہوتا ہے وہی اندرونی جذبہ اور علمی پیاس کا زیادہ دخل ہوتا ہے، جو غالباً فطرت میں بنیادی طور پر موجود ہوتا ہے لیکن اگر اُسے پروان چڑھانے کا موقع نہ ملے تو وہ مضمحل ہوجاتا ہے حضرت مفتی صاحب نے اپنے اسی فطری ذوقِ مطالعہ کو بروئے کار لا کر اپنے جوہرِ استعداد کو خوب نمایاں کیا تھا یہاں گیارہ سال تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے
اعلیٰ علمی حصول :
1991 میں منبع رشد و ہدایت، اخلاص کا تاج محل دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور دورۂ حدیث میں داخلہ لیا یہاں کے علمی ماحول کی صحیح تصویر حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب رح نے احاطہ دارالعلوم دیوبند میں بیتے ہوئے دن،، کے عنوان سے کھینچی ہے (حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی رح نے اس کو مرتب کرکے شائع بھی کیا ہے) حضرت مفتی صاحب نے بھی اس علمی ماحول میں اپنی استعداد کو خوب پروان چڑھایا جس کا اثر عملی زندگی میں خوب نمایاں ہوا 1991 کے اواخر میں سندِ عالمیت سے بہرہ مند ہوئے،
اساتذۂ دارالعلوم دیوبند :
آپ نے علوم دینیہ اور فنون ادبیہ کی پیاس جن بحرِ ذخار کے آبِ دہن سے بجھائی ان میں مندرجہ ذیل حضرات خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحب رح، حضرت مولانا عبدالحق صاحب رح حضرت مولانا قمر الدين صاحب رح، حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب مدظلہ العالی، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رح، حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ العالی، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی رح، حضرت مولانا ریاست علی بجنوری رح حضرت مولانا عبدالخالق صاحب مدارسی مدظلہ العالی، حضرت مولانا حُسین احمد صاحب بہاری رح حضرت مفتی صاحب کی خوش نصیبی تھی کہ ان کو اپنے وقت کی بلند پایہ اور گراں مایہ علمی شخصیتوں کے خرمنِ علم سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی، اور جن اصحابِ فضل و کمال کے دامنِ فضل سے وابستگی اور سرچشمہ علم و فن سے کسبِ فیض اور اکتساب علم کا شرف حاصل ہوا ان میں کئی ایک اس وقت کی عبقری اور علم و فن کی آبرو تھے اور ہیں ، بل کہ ان میں چند ایسے بھی تھے اور ہیں کہ ان جیسے صدیوں میں بہ مشکل پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کردہ نام سے ظاہر ہوتا ہے
تخصص فی الافتاء میں داخلہ :
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد تخصص فی الافتاء کے لیے جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد کا رخ کیا اور یہاں پر حضرت مولانا مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا مفتی سید سلمان منصور پوری صاحب مدظلہ العالی کی نگرانی میں افتاء کی تکمیل کی اور 21 دسمبر 1992 سندِ افتاء سے بہرہ ور ہوئے،
تجوید و قرات میں داخلہ :
تکمیلِ افتاء کے بعد تجوید و قرات کے لیے دوبارہ دارالعلوم دیوبند میں 15 شوال المکرم 1313 کو داخلہ لیا اور یہاں بھی ذوق و شوق کے ساتھ اس فن میں مہارتِ تامّہ حاصل کیں،
جاری.............................
Comments
Post a Comment