اقبال فہمی - (قسط یازدہم) - گل رنگیں خاموشی کا راز اور جستجو کی تڑپ ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
اقبال فہمی -
(قسط یازدہم) -
گل رنگیں خاموشی کا راز اور جستجو کی تڑپ ہے -
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
گزشتہ اشعار میں علامہ اقبال نے گل رنگیں کے حسن کو محض ظاہری حسن کی حیثیت سے قبول کرنے کے بجائے اس کے اندر پوشیدہ ایک ایسی معنوی کیفیت کو تلاش کیا تھا جو نگاہ کو صورت سے حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔ شاعر نے پھول کو توڑنے سے اس لیے انکار کیا کہ اس کی نگاہ صرف صورت بین نگاہ نہیں بلکہ حسن کے اندر کارفرما قدرت کی حکمت کو محسوس کرنے والی نگاہ ہے اور اسی لیے وہ پھول کو بلبل کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اب اس مقام پر اقبال کی گفتگو مزید گہری ہوجاتی ہے۔ وہ پھول کی خاموشی کو دیکھ کر اس کے سینے میں پوشیدہ راز کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پھر اسی خاموش پھول کو اپنے حال کا آئینہ بنا کر انسان اور فطرت کے درمیان ایک عجیب معنوی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ یہاں گل رنگیں ایک ایسا وجود بن جاتا ہے جو زبان نہ رکھتے ہوئے بھی ایک راز اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے اور شاعر ایسا انسان ہے جو زبان رکھنے کے باوجود اسی راز کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف پھول کا سکون ہے اور دوسری طرف انسان کی بے قراری۔ ایک طرف فطرت کی خاموش تکمیل ہے اور دوسری طرف انسان کی مسلسل جستجو۔ اقبال اسی تقابل کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ انسانی زندگی کا امتیاز اس کی بے قراری اور طلب میں ہے کیونکہ انسان کو اپنی منزل کا شعور تو دیا گیا ہے مگر اس کی طرف بڑھنے کے لیے اسے مسلسل تلاش اور جدوجہد کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
پھول کے پاس زبان نہیں مگر شاعر اس کی خاموشی میں بھی ایک گفتگو محسوس کرتا ہے اور یہی اقبال کی شاعری کا وہ امتیاز ہے جس کے سبب فطرت کے بے زبان مظاہر ان کے یہاں زندہ کردار بن جاتے ہیں۔ وہ پھول سے پوچھتے ہیں کہ اے گل رنگیں تمہارے پاس اگرچہ زبان نہیں مگر تمہاری خاموشی بھی ایسی ہے جیسے تمہارے اندر کوئی گہرا راز محفوظ ہے جسے تم ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں اقبال محض پھول کی خاموشی کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ خاموشی کو ایک معنوی علامت بنا رہے ہیں۔ فطرت بظاہر خاموش ہے مگر اس خاموشی کے اندر تخلیق کا ایک پورا نظام جاری ہے۔ پھول کچھ کہتا نہیں لیکن اس کا وجود اپنے خالق کی قدرت کی شہادت دیتا ہے۔ اس کی رنگینی کسی مصور کے ہاتھ کی یاد دلاتی ہے۔ اس کی خوشبو ایک ایسی حکمت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے تمام اسرار انسانی عقل کے احاطے میں نہیں آسکتے اور اس کی زندگی اور موت انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ کائنات میں ہر شے اپنے ایک مقررہ نظام کے تحت وجود میں آتی ہے اور پھر اپنے انجام کی طرف بڑھتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا تصور فطرت محض جمالیاتی نہیں رہتا بلکہ معرفت کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ فطرت ان کے نزدیک ایک خاموش کتاب ہے جس کا ہر ورق کسی نہ کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آسمان بولتا نہیں مگر اس کی وسعت انسان کے اندر وسعت فکر پیدا کرتی ہے۔ پہاڑ زبان نہیں رکھتے مگر ان کی استقامت انسان کو ثبات کا سبق دیتی ہے۔ دریا کوئی وعظ نہیں کرتا مگر اس کی روانی زندگی کی حرکت کا راز بتاتی ہے اور پھول کوئی فلسفہ بیان نہیں کرتا مگر اس کا وجود انسان کو حسن اور تخلیق کے اس تعلق پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کے پیچھے ایک حکیمانہ نظام کارفرما ہے۔ اس اعتبار سے گل رنگیں کی خاموشی دراصل بے معنی خاموشی نہیں بلکہ ایسی خاموشی ہے جسے صاحبِ دل انسان پڑھ سکتا ہے۔ عام نگاہ پھول کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر اقبال کی نگاہ اس خاموشی کے اندر چھپے ہوئے سوال کو محسوس کرتی ہے اور اسی لیے وہ پوچھتے ہیں کہ تیرے سینے میں آخر وہ کون سا راز ہے جسے تو سو زبانیں ملنے کے باوجود بھی ظاہر نہ کرے گا۔
پھر اقبال اچانک گل رنگیں کو اپنے وجود کے ساتھ وابستہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
میری صورت تو بھی اک برگِ ریاضِ طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
یہاں نظم ایک نہایت لطیف روحانی معنی اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر پھول سے کہتا ہے کہ میری صورت بھی تیری طرح ایک برگ ریاض طور ہے۔ طور کا حوالہ محض شاعرانہ حسن پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس پورے روحانی پس منظر کے ساتھ آیا ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تجلیٔ الٰہی کا واقعہ انسانی تصور میں ایک عظیم علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال کے ہاں طور محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ اس مقام کی علامت ہے جہاں انسان کی نگاہ کو ایک ایسی حقیقت کا سامنا ہوتا ہے جو اس کے معمول کے ادراک سے بلند ہے۔ گزشتہ نظم ہمالہ میں بھی اقبال نے طور کے اسی استعارے سے فطرت اور تجلی کے تعلق کو واضح کیا تھا اور یہاں گل رنگیں کے ذریعے وہ اسی فکری سلسلے کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔
برگِ ریاضِ طور کہنا بھی نہایت معنی خیز ہے۔ پھول اپنی ظاہری صورت میں ایک معمولی سی شے ہے لیکن شاعر اسے طور کے ریاض کا برگ قرار دے کر اس کے اندر ایک روحانی نسبت پیدا کرتا ہے۔ گویا کائنات کی یہ چھوٹی سی شے بھی اسی قدرت کی تخلیق ہے جس نے طور کو عظمت عطا کی اور جس کی نشانیاں پوری فطرت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس طرح پھول اور انسان دونوں ایک ہی باغ کے برگ بن جاتے ہیں۔ دونوں کا وجود مستقل اور خود کفیل نہیں بلکہ ایک بڑے نظام کا حصہ ہے اور دونوں کے اندر اپنے خالق کی صناعی کی نشانیاں موجود ہیں۔
اس کے بعد میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے میں اقبال ایک عجیب قسم کی مشترک تنہائی بیان کرتے ہیں۔ شاعر اپنے آپ کو چمن سے دور محسوس کرتا ہے اور پھول بھی اپنی اصل چمن سے جدا ہونے کی کیفیت میں ہے۔ یہاں چمن محض باغ نہیں بلکہ ایک وسیع تر وطن اور اصل مقام کی علامت بن جاتا ہے۔ انسان بھی اس دنیا میں مکمل اطمینان نہیں پاتا کیونکہ اس کے اندر ایک ایسی طلب رکھی گئی ہے جو اسے کسی بلند تر حقیقت کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کی محدودیت سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ اسے کسی ایسی منزل کی جستجو رہتی ہے جہاں اس کی آرزو کو قرار مل سکے۔ یہی کیفیت گل رنگیں کے ساتھ بھی پیدا کی گئی ہے۔ پھول اگر اپنے اصل چمن سے جدا ہو تو اس کی تازگی اور زندگی کا مفہوم بدل جاتا ہے اور انسان بھی جب اپنی اصل نسبت یعنی اپنے رب کے تعلق سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کی زندگی اپنی حقیقی معنویت سے محروم ہوجاتی ہے۔
یہاں اقبال کے تصور انسان کا ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ انسان کی بے قراری دراصل اس کے اندر موجود ایک بلند نسبت کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ وہ صرف زمین کا رہنے والا نہیں بلکہ اس کے اندر آسمان کی طلب بھی رکھی گئی ہے۔ وہ دنیا میں ہے مگر دنیا اس کی آخری منزل نہیں۔ اسی لیے وہ ہر حاصل کے بعد ایک نئی جستجو محسوس کرتا ہے اور ہر منزل کے بعد اسے ایک اور منزل کا احساس ہوتا ہے۔ اگر اس کیفیت کو صرف دنیاوی خواہش سمجھا جائے تو انسان کبھی مطمئن نہیں ہوگا لیکن اگر اسے معرفت اور کمال کی طلب سمجھا جائے تو یہی بے قراری انسان کے ارتقا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسی حقیقت کو اقبال اگلے شعر میں نہایت فیصلہ کن انداز میں بیان کرتے ہیں
مطمئن ہے تو پریشاں مثلِ بو رہتا ہوں میں
زخمیٔ شمشیرِ ذوقِ جستجو رہتا ہوں میں
یہاں گل اور شاعر کا فرق اپنی آخری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ پھول اپنی حالت پر مطمئن ہے جبکہ شاعر اپنی جستجو کے سبب پریشان ہے۔ لیکن یہ پریشانی کسی کمزوری یا مایوسی کی علامت نہیں بلکہ وہی ذوق جستجو ہے جسے اقبال انسانی زندگی کی اصل قوت سمجھتے ہیں۔ پھول اپنی جگہ کھلا ہوا ہے اور اسے اپنی تکمیل کا احساس ہے مگر انسان کے اندر ایسا شعور ہے جو اسے مسلسل یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔ ابھی اپنی ذات کے اندر بہت کچھ دریافت کرنا باقی ہے۔ یہی احساس انسان کو حرکت دیتا ہے اور یہی اسے جامد اطمینان سے بچاتا ہے۔
پریشاں مثل بو میں اقبال نے ایک نہایت لطیف تشبیہ استعمال کی ہے۔ خوشبو کسی ایک جگہ بند نہیں رہتی۔ وہ پھول سے نکلتی ہے اور فضا میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اسے کسی ایک سمت میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ شاعر بھی اسی طرح اپنی جستجو میں ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں۔ اس کا ذہن سوال سے سوال کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کی نگاہ ایک حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف منتقل ہوتی ہے اور اس کا دل کسی ایک محدود حاصل پر قانع نہیں ہوتا۔ مگر یہ پریشانی بے مقصد نہیں۔ خوشبو کی طرح اس کی حرکت بھی اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے اور اس کی جستجو اسے کسی بلند تر حقیقت کی طرف لے جارہی ہے۔
پھر زخمیٔ شمشیرِ ذوقِ جستجو اقبال کی فکر کا نہایت گہرا استعارہ ہے۔ جستجو صرف ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایسی تلوار ہے جو انسان کو زخمی بھی کرتی ہے اور زندہ بھی رکھتی ہے۔ حقیقت کی تلاش میں انسان کو اپنے سابقہ تصورات توڑنے پڑتے ہیں۔ اسے اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے اپنی جہالت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اسے ناکامی ملتی ہے اور کبھی وہ ایسے سوالات سے دوچار ہوتا ہے جن کا فوری جواب اس کے پاس نہیں ہوتا۔ لیکن یہی زخم اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ جس انسان کے اندر حقیقت کی تلاش کا ذوق پیدا ہوجائے وہ اپنی لاعلمی کو آخری حالت نہیں سمجھتا بلکہ اسے علم کی طرف بڑھنے کا سبب بناتا ہے۔
یہی اقبال کے فلسفۂ خودی میں حرکت اور ارتقا کا بنیادی اصول ہے۔ خودی کوئی جامد شے نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کرکے انسان ہمیشہ کے لیے مطمئن ہوجائے بلکہ خودی کی تعمیر مسلسل عمل کا نام ہے۔ انسان اپنے ارادے کو مضبوط کرتا ہے۔ اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے۔ اپنے نفس پر قابو پاتا ہے۔ علم حاصل کرتا ہے۔ عمل کرتا ہے اور اپنے اندر موجود امکانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سفر میں جستجو لازمی ہے کیونکہ جس دن جستجو ختم ہوجاتی ہے اسی دن ترقی کا سفر بھی رک جاتا ہے۔
یہاں اقبال کا تصوف بھی اپنی حقیقی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ وہ تصوف نہیں جو انسان کو دنیا اور عمل سے کاٹ کر بے مقصد گوشہ نشینی میں لے جائے بلکہ وہ تصوف ہے جو دل کو بیدار کرتا ہے اور انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے رب کی معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں طلب اور جستجو کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سالک اپنے موجود مقام کو آخری منزل نہیں سمجھتا بلکہ سلوک کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اقبال اسی روحانی حرکت کو اپنی شاعری میں خودی اور عشق کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا کی معرفت انسان کو بے عمل نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر ایک نئی قوت پیدا کرتی ہے۔ وہ اپنی ذات کو سنوارتا ہے اور پھر اسی قوت کو دنیا کی تعمیر اور انسانیت کی خدمت میں صرف کرتا ہے۔
یوں ان اشعار میں گل رنگیں اور شاعر کے درمیان جو فرق قائم کیا گیا ہے وہ دراصل دو مختلف طرزِ زندگی کا فرق ہے۔ ایک زندگی وہ ہے جو اپنی موجود صورت پر مطمئن ہوکر رک جاتی ہے اور دوسری وہ ہے جو اپنی تکمیل کی تلاش میں مسلسل سفر کرتی رہتی ہے۔ ایک وجود کے پاس حسن ہے مگر جستجو نہیں اور دوسرے کے پاس جستجو ہے جس کی وجہ سے اس کے اندر بے قراری بھی ہے۔ اقبال اس بے قراری کو عیب نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانی شرف کی علامت بناتے ہیں کیونکہ یہی ذوق جستجو انسان کو اپنی حدود سے آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس مقام پر گل رنگیں ایک بار پھر انسان کے لیے آئینہ بن جاتا ہے۔ پھول کی خاموشی انسان سے سوال کرتی ہے اور انسان کی بے قراری پھول کے سکون کے مقابل اپنا جواب تلاش کرتی ہے۔ فطرت اپنی خاموش زبان میں اپنے راز کی طرف اشارہ کرتی ہے اور انسان اپنے دل کی زبان میں اس راز کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی تعلق اقبال کی شاعری میں فطرت کو محض منظر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے انسان کی روحانی تربیت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ گل رنگیں کے سامنے کھڑا اقبال دراصل ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اگر دل میں جستجو زندہ ہو تو بے قراری بھی نعمت بن جاتی ہے اور اگر جستجو مر جائے تو اطمینان بھی جمود میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس لیے انسان کا کمال یہ نہیں کہ وہ ہر سوال کا جواب پا کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائے بلکہ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ حق کی تلاش میں اپنے دل کی روشنی کو زندہ رکھے اور ہر نئی معرفت کے بعد اپنے لیے ایک نئی بلندی کا دروازہ کھولتا چلا جائے۔
Comments
Post a Comment