بزم جاوید کی نمایاں خدمات کی روداد - مضمون نگار - ستار فیضی، (صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ آندھرا پردیش انڈیا)
بزم جاوید کی نمایاں خدمات کی روداد -
مضمون نگار - ستار فیضی،
(صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ آندھرا پردیش انڈیا)
آج بروز منگل یکم ستمبر 2026 ایک یادگار دن ہے. ایک روزہ قومی سیمینار و مشاعرہ اور تہنیتی تقریب ضلع چتور پلمنیر میں گورنمنٹ ڈگری کالج اور بزمِ جاوید کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے. سب سے پہلے میں ڈاکٹر آر۔یس۔ رحمت اللہ ، معتمد ، انجمن ترقی اردو ، پلمنیر ، کالج کے پرنسپل ، شعبہ اردو کے اساتذہ ، طلبہ و طالبات اور بزم جاوید کے عہدے داران اور اراکین کی خدمت میں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں. اردو کا کوئی سچا محقق یا ادب کا تاریخ دان رایلسیما کی ادبی تاریخ رقم کریگا تو بزمِ جاوید کی سماجی علمی اور ادبی خدمات کو فراموش نہیں کرسکتا۔
ریاست آندھرا پردیش میں خطۂ رایلسیما کی جان ضلع کڈپہ ہے. جسے اردو ادب کا مرکز کہا جاتا ہے. کڈپہ کی ادبی سرسبز و شاداب سر زمین میں اردو کی ترقی ترویح بقا اورتحفظ کے لئے کئی ادارے اپنی اپنی بساط وطاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کررہے ہیں. جس میں قابل ذکر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ ، بزم جاوید ، اردو والے ، دبستان ، بزمِ زکی ، کاروان اردو ، رایلسیما اردو رائٹرس فیڈریشن ، اردو کلچرل اینڈ لٹریری اسوسیشن ، ودیانگر ایجوکیشنل ٹرسٹ، قومی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، مکتب محبوبیہ ، امیرالنسا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، عبدالمجید ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، کچھ آستانے ، خانقاہیں اورکچھ خانوادے وغیرہ بھی شامل ہیں.
بزمِ جاوید کا قیام 2020 میں جذبہ خدمت کی بنیاد پر عمل میں آیا. ایک عالمی شہرت یافتہ بہترین استاد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ کے فرمانبردار و اطاعت گزار شاگرد رشید ڈاکٹر سید عبدالستار ساحر نے جاوید صاحب اور انکے شاگردوں کے تعاون سے بزمِ جاوید تشکیل دی ہے. جس کے چھ سال مکمل ہوگئے ہیں. مسلسل ادبی خدمات قابل تحسین ہیں. خلوص و محبت اور عقیدت کی بنیاد پر یہ بزم کام کررہی ہے. میں ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ بزم ہمیشہ فعال اور چست رہی ہے میرا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ بزم واقعی زندہ ہے دوسروں کو متاثر کر رہی ہے. . کسی نے ماں کے نام پر کسی نے باپ کے نام سے ادارے قائم کئے ہیں. دراصل ڈاکٹر ستار ساحر نے ایک سچے شاگرد ہونے کا ثبوت دیا ہے. استاذ محترم سلیمان اطہر جاوید کے نام سے یہ بزم منسوب ہے سماج میں کوئی بھی علمی ، تعلیمی ادبی ، لسانی ، ثقافتی ، سماجی خدمت اور ترقی نیز فلاح و بہبود کی غرض سے ہی ادارہ یا بزم یا سوسائٹی کا قیام عمل میں آتاہے. عہدیداروں اور اراکین کا ہم خیال ہونا ضروری ہے نہ کہ ہم عمر. سوسائٹی یا انجمن وغیرہ میں بزرگوں ، جوانوں اور نوجوانوں کا ہونا ضروری ہے سب مل کر ادارے کے اغراض و مقاصد کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں . اردو زبان وادب کے مسائل حل کرنے کے لئے حکام و سیاست دانوں سے ملاقاتیں کرنا درخواستیں پیش کرنا جلسے منعقد کرنا سیمینار و مشاعروں کا اہتمام کرنا نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے لئے مختلف قسم کے پروگرام کرنا ہے. ہمارے یہاں
کچھ نام کے کچھ کام کےادارے دیکھے جاسکتے ہیں. کچھ مشاعروں تک محدود ہیں. چند اداروں میں نظریاتی اختلاف اور برتری کے احساس کی بنا پر دراڈ ، پھوٹ اور نا اتفاقی بھی دیکھی جاسکتی ہے. اوربھی کئی اسباب ہیں. کچھ ادارے برائے نام ہیں تو کچھ ادارے بدنام اور کچھ ادارے زمانے کی تیز ہواؤں سے اکھڑ بھی گئے ہیں اور کچھ زور دار سیلابوں میں بہہ گئے ہیں. لیکن بزم جاوید ہر سال کوئی نہ کوئی کاروائی انجام دیتی ہے. اپنی حرکت سے برکت پیدا کرتی ہے اس لئے جس کی خدمت ہے اس کی عظمت ہے. کبھی کڈپہ میں تو کبھی کرنول وچتور میں ہلچل برپا کرتی اور اردو کی خوشبو بکھیرتے ہوئے پیش پیش ہے. یہ بزم فعالیت کا بہترین نمونہ ہے. بزم جاوید ہائی اسکول سطح سے یونیورسٹی کی سطح تک کے طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی اور پزیرائی کے لئے واقعی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے. یہی نہیں بلکہ شعراء و ادباء جن کی خدمات قابل تحسین ہیں جو ایوارڈ یافتہ ہیں ان کے اعزاز میں تہنیتی تقریبوں کا اہتمام کرتی ہے. انکی گل پوشی ، شال پوشی کرتی ہے انھیں انعامات و مومنٹوز نیز اسناد سے نوازتی آرہی ہے. عظیم مشہور مرحوم شعراء و ادباء کی یومِ ولادت اور وفات کے موقعوں پر یاد رفتگاں منعقد کرکے یہ ثابت کررہی ہے کہ اردو ابھی زندہ ہے اردو والے بھی زندہ ہیں. اس بزم کے زیرِ اہتمام کئی سیمینار و مشاعرے ، طلبہ میں کوئز اور تحریری وتقریری مقابلے منعقد کے گئے ہیں شعراء و ادباء کی کتابوں کی رسم اجراء کی مجلسیں سجائی گئی ہیں.
بزم جاوید کے عہدیداروں و اراکین
کی فہرست میں صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر سید عبدالستار ساحر ، نائب صدور کی حیثیت سے ڈاکٹر اے محی الدین باشاہ چتور اور ڈاکٹر سید امجد علی ، کڈپہ ، معتمد عمومی ڈاکٹر کے امتیاز ، کدری ، شریک معتمد ڈاکٹر سید سلطان معین الدین کرنول ، نائب معتمد ڈاکٹر خواجہ پیر اور خازن کی حیثیت سے ڈاکٹر آر سید رحمت اللہ اخلاص سے خدمات انجام دے رہے ہیں.
بزم کے اراکین میں سید امتیاز احمد ، سید جعفر حسین ، ڈی نظام الدین اور ریحانہ پروین وغیرہ نمایاں خدمات میں مُنہمک ہیں. بزم جاوید کا آسمان ادب شمس وقمر اور ستاروں سے آباد ہے. جس کی چمک دمک نے بزمِ جاوید کو ریاست آندھرا پردیش میں ممتاز اور منفرد بنادیا ہے. چھ سال سے مسلسل اردو علم و ادب کی ترقی و ترویج اور تحفظ کےلئے کوشاں ہے. میں بزم کی خدمت میں دلی مبارک باد پیش کرنا میرا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں. بزم جاوید میں عہدے داروں اور اراکین میں اتحاد و اتفاق ہے. ہر ایک کی رائے کا احترام کرتے ہیں مفید مشوروں اور منصوبوں سے منزل کی طرف رواں دواں ہیں.
بزم جاوید کی گراں قدر خدمات کی روداد یہ ہے
* یکم اکتوبر 2020 میں اردو ادب پر آن لائن کوئز
*9 نومبر 2020 کو علامہ اقبال پر سیمینار ، تین زبانوں میں مقالے پیش کئے گئے
*14 نومبر 2020 کو ایک روزہ قومی سیمینار جاوید صاحب پر منعقد کیا گیا
*دسمبر 2020 میں یومِ غالب کا اہتمام کیا گیا.
*11 اپریل 2021 کو جاوید صاحب کا 85 واں یومِ پیدائش مناتے ہوئے شعری نششت کا اہتمام
*22 آگست 2021 کڈپہ شاہی دربار بینکٹ ہال میں پندرہ شخصیات کی تہنیت گزاری
*. دسمبر 2022 کو ایک شعری نشست کا اہتمام
*14 اکتوبر 2023 میں مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر ستار ساحر نے کی. مہمانان خصوصی کی حیثیت سےڈاکٹر امام قاسم ساقی اور جیمس نیشنل ہائی اسکول کے ڈائریکٹر کے۔ مظہر علی خان نے شرکت کی. نظامت کے فرائض ڈاکٹر خواجہ پیر نے حسن وخوبی سے انجام دئے
*27 جولائی 2024 کی شب بزم جاوید کی زیر نگرانی حج سے واپسی پر پروفیسر قاسم علی خان اور ستار فیضی کی تہنیتی تقریب اور شعری نشست کا شاندار اہتمام کیا گیا.
*29 نومبر 2025 کی شام کو شام غزل کا اہتمام ہوا. جس کی صدارت سعید خان سعید نے فرمائی مہمان خصوصی کی حیثیت سے ستار فیضی اور مہمان اعزازی کے طورپر ڈاکٹر سردار ساحل نے شرکت کی. نظامت محبوب خان یوسف زئی نے کی.
*12 اپریل 2026 کو پروفیسر سلیمان اطہر جاوید صاحب کی نوے ویں پیدائشی سالگرہ کا اہتمام کیا گیا. دو کتابوں کی رسم اجراء ہوئی ایک ڈاکٹر راہی فدائی کے مقالات کا مجموعہ ثوابت اور دوسری ڈاکٹر آر۔ یس ۔ رحمت اللہ کا شعری مجموعہ دل کی آواز.۔ دس اردو خدمت گزاروں کو ایوارڈ اور تہنیت پیش کی گئی.
جاوید صاحب کے خاص شاگردوں میں ڈاکٹر ستار ساحر کے علاوہ پروفیسر مظفر علی شہ میری، سید محمد حسینی باشا شہ میری ، ڈاکٹر سید سلطان معین الدین حسینی ، ڈاکٹر سید امجد علی ، ڈاکٹر اے محی الدین باشاہ ، ڈاکٹر سید حیدر علی وغیرہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور انھوں نے اپنی بہترین کارکردگی سے اپنے استاذ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید صاحب کا نام روشن کیا ہے. دعاگو ہوں کہ بزمِ جاوید کی سرگرمیوں کا سلسلہ برسوں جاری رہے دنیا میں استاذ اور شاگردوں کے مقدس رشتے ہمیشہ قائم رہیں
Comments
Post a Comment