برباد کرنے والی دینداری - از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔


برباد کرنے والی دینداری - 
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، 
سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔

جی ہاں دینداری کی کچھ نئی قسمیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء راشدین کے زمانے میں بالکل نہیں تھیں لیکن بعد کے آنے والے زمانوں میں ہر دور کے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کچھ شکلی دینداریاں ایجاد کر رکھی ہیں اور آج تک کر رہے ہیں جبکہ قرآن و حدیث میں ان سے منع کیا گیا ہے- وہ کیا ہیں؟
سب سے پہلے ایک مسلم کسی حالت میں شرک نہ کرے یعنی ہر حال میں صرف اللہ کی عبادت کرے کسی زندہ مردہ کو اس کے برابر نہ سمجھے - کوئی انسان اللہ کی طرف سے نبی یا رسول بھی بنا دیا جائے تو اسے اللہ کا درجہ نہ دے - اس ضمن میں خاص بات یہ ہے کہ علم غیب صرف اللہ کو ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لا یعلم الغیب الا ھو- غیب کی ہر بات صرف وہی جانتا ہے - اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا قل لو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء اگر مجھے غیب کی بات معلوم رہتی تو میں ہر طرح کا خیر زیادہ سے زیادہ اپنے لئے رکھ لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہونچتی - مگر ہمارے معاشرہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح غلط غلط عقیدے اپنے نبی کے بارے میں پھیل گئے ہیں-
اب نماز کو لیجیے - ہمارے نبی کے زمانے میں مسجد نبوی کیسی تھی ؟ یعنی اس کی دیواریں اس کی چھت وغیرہ کس چیز کے بنے ہوئے تھے؟ وہ کھجور کے شاخوں اور پتوں کی چھت تھی اور اس کے نچلے حصے ستوں کی طرح لگائے گئے تھے - زمین وہی سادہ سی تھی کسی بھی طرح کے پتھروں سے بنی ہوئی نہیں تھی - لیکن ان میں سے ہر ایک کی نماز اصلی اور حقیقی نماز تھی - جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا ویسے ویسے مسجد کی تعمیر خوبصورت ہوتی گئی اور نماز کی حالت کھوکھلی ہوتی چلی گئی - اور اب تو مسجدوں کی خوبصورتی کے مقابلے ہو رہے ہیں خصوصا عرب ملکوں میں ایک سے بڑھ کر ایک مسجد بنتی ہے مگر نمازیں؟
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی اب گویا کسی کے مرنے پر جس طرح غم کا اظہار کیا جاتا ہے مسجدیں بھی نمازیوں سے خالی ہوکر غم زدہ ہیں-
ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے- اذازخرفتم مساجدکم و حلیتم مصاحفکم فالدمار علیکم جب تم مسجدوں کو سونے چاندی کی طرح خوبصورت نقش ونگار بنانے لگو گے اور قرآن مجید کی چھپائی اور بھترین کاغذ اور طباعت کرنے لگو گے تو بربادی تمہارا نصیب ہوگی( صحیح الجامع حدیث نمبر 585)-
اب آپ ہی دیکھ لیجئے ہر جگہ کے مسلمان قرآن مجید تو اعلی سے اعلی درجہ کا چھپاتے ہیں مگر اس کے پڑھنے والے کم سے کم اور اس کے سمجھنے والے اس سے بھی کم اور اس پر عمل کرنے والے اس سے بھی کم اور اسکے پیغام کو ہر انسان تک پہونچانے والے اس سے بھی کم ہو چکے ہیں - اب پھر مسلمان تباہ نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوں گے؟
ماضی قریب میں علامہ اقبال کی زندگی میں الہ آباد کی ایک مسجد کو شھید کر دیا گیا تھا- اطراف کے مسلمانوں نے ایمانی طاقت کے ساتھ راتوں رات اس کو دوبارہ بنا دیا - اس پر علامہ اقبال نے فرمایا: مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے 
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں بھی نمازی بن نہ سکے
ہم سب کو اس دینداری کی ضرورت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اور آپ کی تربیت میں صحابہ رضی اللہ عنھم کی تھی - ہماری توجہ نماز کو خوبصورت بنانے پر ہو نہ کہ مسجد کی عمارت کو خوبصورت بنانے پر- ہمارا دھیان قرآن مجید کو صحیح پڑھنے اور روزانہ پڑھنے اس کو سمجھنے پھر عمل کرنے اور ہر انسان تک اس کا پیغام پہونچانے پر ہو نہ کہ اس کی اعلی سے اعلی چھپائی اور خوبصورت سے خوبصورت جزدان کے بنانے پر-
اے اللہ ہر مسلمان کو ہر زمانے میں اس کی توفیق عطا فرما- آمین ثم آمین-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔