مدرسہ تحتانیہ ذکور مدینتہ العلوم لال باڑہ کی فعال معلمہ محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ وظیفۂ حسن خدمات پر سبکدوش۔


مدرسہ تحتانیہ ذکور مدینتہ العلوم لال باڑہ کی فعال معلمہ محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ وظیفۂ حسن خدمات پر سبکدوش۔

تعلیمی نظام کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اس نظام کی روح استاد ہوتا ہے۔ کتابیں، عمارتیں اور نصاب سب ثانوی ہیں، اصل قوت استاد کی شخصیت، اس کی محنت اور اس کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ نے 37 سال تک اسی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے
آج بتاریخ 30 سپٹمبر 2026 کو ایک ایسی عظیم اور مخلص شخصیت کو الوداع کہنے کے لیے مدرسہ تحتانیہ ذکور مدینتہ العلوم لال باڑہ میں الوداعی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا جن کی خدمات اس ادارے کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ انتہائی محترم اور شفیق محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ آج مدرسہ تحتانیہ ذکور مدینتہ العلوم لال باڑہ سے اپنی ملازمت کی باوقار اور بے داغ مدت مکمل کر کے سبکدوش ہو رہی ہیں۔
پرائمری سطح پر استاد کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بچے حروف، اعداد اور بنیادی اخلاق سیکھتے ہیں۔ دردانہ بیگم نے برسوں تک چھوٹے بچوں کو نہ صرف پڑھنا لکھنا سکھایا بلکہ ان میں نظم، محنت اور انسانیت کی بنیاد بھی رکھی۔ ان کی محنت نے کئی نسلوں کو تعلیم کی روشنی دی۔
تعلیمی نظام صرف علم منتقل کرنے کا نام نہیں۔ استاد بچوں کے کردار کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ جو استاد خود اچھا اخلاق رکھتا ہو، وقت کا پابند ہو اور طلبہ سے محبت کرتا ہو، وہ نظام کو بہتر بناتا ہے۔ دردانہ بیگم کی شخصیت میں یہ صفات موجود تھیں جن کی وجہ سے طلبہ ان سے نہ صرف علم سیکھتے تھے بلکہ اچھے انسان بننے کی تحریک بھی پاتے تھے۔
ایک اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ غریب گھرانوں کے بچے جب تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھتے ہیں تو پورا معاشرہ بدل جاتا ہے۔ دردانہ بیگم نے 37 سال تک اسی مشن کو جاری رکھا۔ ان کی خدمات نے بہت سے بچوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لایا۔
تجربہ کار اساتذہ تعلیمی نظام کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کا تجربہ نوجوان اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ بنتا ہے۔ دردانہ بیگم صاحبہ نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، صبر اور خلوص سے کام کرنے والا استاد نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
دردانہ بیگم صاحبہ نے اس ادارے میں صرف ایک معلمہ کے فرائض ہی انجام نہیں دیے، بلکہ بحیثیت انچارج انہوں نے جس تدبر، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ایک بہترین انچارج وہ ہوتا ہے جو صرف دفتری احکامات نہیں چلاتا، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ محترمہ نے ہمیشہ ایک شفیق رہنما کی طرح پورے عملے اور طالب علموں کی سرپرستی کی ہے۔
محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے جونئیرز کے ساتھ ہمیشہ مدبرانہ، شائستہ اور پرخلوص سلوک کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ محض ایک افسر یا سینئر نہیں بلکہ ایک حقیقی رہنما اور مربی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو نرم، صبر آزما اور حوصلہ افزا ہوتا ہے جس سے ماتحتوں میں خوداعتمادی اور کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
وہ غلطیوں کو سخت الفاظ میں نہیں بلکہ حکمت اور سمجھداری سے اصلاح کرتی ہیں تاکہ فرد کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ ہر جونئیر کی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی کمزوریوں کو دور کرنا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ ان کی رہنمائی میں کام کرنے والے نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر ترقی کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر بہتر انسان بھی بنتے ہیں۔
محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ کے مدبرانہ سلوک کی وجہ سے ادارے کی برانچ مدینہ نگر میں باہمی احترام، تعاون اور خوشگوار ماحول قائم رہا ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے جو انہیں ایک مثالی معلمہ بناتی ہے
مدرسہ تحتانیہ ذکور مدینتہ العلوم لال باڑہ کے تعلیمی اور انتظامی معیار کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آیا، محترمہ نے اپنے ٹھنڈے مزاج، گہری بصیرت اور مخلصانہ فیصلوں سے ہر الجھن کو سلجھایا۔ ان کا وقت کا پابند ہونا، بچوں سے محبت اور ہر ایک کے ساتھ انصاف کا اصول ہمیشہ اس مدرسے کی فضاؤں میں یاد رکھا جائے گا۔
محترمہ دردانہ بیگم صاحبہ! آپ کی سبکدوشی سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے، اسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دفتری کاغذات میں تو آج آپ کا سفر مکمل ہو رہا ہے، لیکن ہمارے دلوں میں آپ کا احترام اور مقام ہمیشہ قائم رہے گا۔
ہم ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ انہیں صحت، سکون اور عزت والی زندگی عطا فرمائے آپ کی ان بے لوث تعلیمی و انتظامی خدمات کو قبول فرمائے، آپ کو صحتِ کاملہ، تندرستی اور خوشیوں سے بھرپور لمبی زندگی عطا فرمائے۔ *آمین یارب العالمین*
سبھی ساتھی ٹیچرس اور صدر معلمہ مدرسۂ ہٰذا کی جانب سے دردانہ بیگم صاحبہ کی گلپوشی کی گئی نیز نیک تمناؤں اور دعاؤں سے نوازا گیا ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔