چشمہ - ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنفیہ جونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر۔


چشمہ - 
ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنفیہ جونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر۔ 

سیٹی کی تیز گونج ابھی فضا میں لٹک ہی رہی تھی کہ دو لڑکے ہانپتے ہوئے چلتی گاڑی کے جنرل ڈبے میں آ گرے۔
"ٹکٹ؟" ایک نے سانس درست کرتے ہوئے پوچھا۔
دوسرے نے کندھے اچکا کر نفی میں سر ہلا دیا۔
سامنے کی نشست پر کلف لگے اجلے کرتے میں ایک صاحب براجمان تھے۔ گود میں چمڑے کا بریف کیس، ناک پر موٹا چشمہ اور نگاہیں کھلی کتاب پر جمی ہوئی۔ چشمے کی کمان سرکی، تو انہوں نے کتاب سے آنکھیں اٹھائے بغیر انگلی کے پور سے اسے پیچھے دھکیلا اور ایک سپاٹ، ٹھنڈے لہجے میں کہا:
"اس ملک کا المیہ یہی مفت خوری ہے۔ جب تک عبرتناک سزائیں نہ ہوں، یہ نسل راہ پر نہیں آئے گی۔"
ڈبے میں گھورتی نگاہوں کا دائرہ لڑکوں کے گرد تنگ ہو گیا۔ کسی نے تائید میں ہونٹ بھینچے، تو کسی نے طنزیہ کھنکار کے ساتھ سر جھٹک دیا۔ دونوں کی گردنیں جھک گئیں۔
کچھ دیر بعد ملحقہ کوچ کا لوہے کا پٹ کھڑکھڑایا اور سیاہ کوٹ میں ملبوس ٹی سی اندر داخل ہوا:
"ٹکٹ… سبھی لوگ ٹکٹ نکالیں!"
ہاتھ جیبوں کی طرف بڑھے۔ ٹی سی جیسے ہی قطار تک پہنچا، دونوں لڑکے بغیر جھجھک کے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک نے فوراً بٹوا کھولا:
"سر، بھاگ کر چڑھے تھے، رسید بنا دیجیے۔"
ٹی سی نے جرمانہ کاٹا، رسید تھمائی اور اگلی قطار کی طرف مڑ گیا۔
سامنے والی نشست بالکل خالی تھی۔
دوسرے دروازے کے پائیدان پر، ہجوم کے بیچ، وہ صاحب سمٹے کھڑے تھے۔ کتاب بغل میں دبی تھی، چمڑے کا بریف کیس سینے سے جکڑا ہوا، اور ایک ہاتھ ناک پر کانپتے چشمے کو سنبھالنے میں الجھا تھا۔
گاڑی نے ایک تیز جھٹکے سے بریک ماری۔ ہجوم باہر لپکا۔
ایک زور دار دھکا لگا۔ صاحب کے ہاتھ سے گرفت پھسلی، چشمہ لوہے کے فرش پر جا گرا، اور اگلے ہی لمحے ایک گرد آلود بوٹ کا تلا اس کے شیشے پر آن پڑا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔