سوشل میڈیا کے دور میں ہماری ذمہ داریاں - کلیم اللہ امداد تیمی، مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی
سوشل میڈیا کے دور میں ہماری ذمہ داریاں -
کلیم اللہ امداد تیمی،
مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی
موجودہ دور کو ابلاغ اور رابطے کا دور کہا جاتا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسانی رابطوں کو غیر معمولی وسعت دے دی ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر ذرائع کے ذریعے آج ایک شخص چند لمحوں میں اپنی بات ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں علم، معلومات اور خیالات کی ترسیل کو آسان بنایا ہے، وہیں جھوٹی خبروں، افواہوں، غیبت، بہتان، تضحیک، بدگمانی، گالم گلوچ اور بے مقصد بحث و مباحثے کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ افسوس کہ بہت سے لوگ یہ سوچے بغیر کہ ان کے ایک جملے، ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک شیئر سے کسی کی عزت مجروح ہوسکتی ہے، اسے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔
اسلام نے انسان کو صرف زبان کے استعمال میں نہیں بلکہ ہر طرح کے اظہار میں ذمہ دار بنایا ہے۔ آج ہماری انگلیاں بھی وہ کام کررہی ہیں جو پہلے زبان کیا کرتی تھی۔ اس لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں اسلامی اخلاق اور شرعی حدود کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔
غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ :
سوشل میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ جھوٹی اور غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ ہے۔ کوئی خبر یا پیغام موصول ہوا اور بغیر تحقیق کیے فوراً آگے بڑھا دیا گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ بات سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ کبھی کسی فرد کی عزت متاثر ہوتی ہے، کبھی خاندانوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور کبھی معاشرے میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔
اسلام نے خبر کے معاملے میں واضح اصول دیا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو۔"
(الحجرات: 6)
یہ حکم آج کے سوشل میڈیا کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی خبر کو صرف اس لیے درست نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بہت سے لوگوں نے شیئر کی ہے۔ خبر کا ماخذ کیا ہے؟ کیا وہ معتبر ہے؟ کیا پوری بات سامنے آئی ہے؟ ان سوالات کے جواب معلوم کیے بغیر اسے آگے بڑھانے سے بچنا چاہیے۔
غیبت، بہتان اور کردار کشی :
سوشل میڈیا پر دوسروں کی غیبت اور کردار کشی بھی عام ہوگئی ہے۔ کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے عیوب بیان کرنا، اس کی ذاتی زندگی کو موضوعِ گفتگو بنانا یا اس کی کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لانا معمولی بات نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے، غیبت ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اگر وہ بات واقعی اس میں موجود ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے بہتان لگایا۔
(صحیح مسلم: 2589)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف سچ ہونا کسی بات کو غیبت سے خارج نہیں کرتا۔ اگر کسی کی غیر موجودگی میں اس کا ایسا ذکر کیا جائے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو یہ غیبت ہوسکتی ہے، اور اگر جھوٹی بات ہو تو بہتان ہے۔
اس کا اسلامی حل یہ ہے کہ کسی کی عزت کو اپنی تفریح یا مقبولیت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اگر کسی کی اصلاح مقصود ہو تو مناسب اور حکیمانہ طریقہ اختیار کیا جائے، نہ کہ اس کی غلطی کو عام کرکے اسے رسوا کیا جائے۔
مذاق اور تضحیک کا بڑھتا ہوا رجحان :
آج میمز، طنزیہ ویڈیوز، تصاویر اور تبصروں کے ذریعے لوگوں کی شکل و صورت، لباس، لہجے، غربت یا ذاتی کمزوریوں کا مذاق اڑانا عام ہے۔ بعض اوقات اسے محض "مزاح" کہہ کر جائز سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ کسی کی عزت مجروح کرنا مزاح نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ﴾
"کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔"
(الحجرات: 11)
اسلامی حل یہ ہے کہ خوش مزاجی ضرور ہو، لیکن کسی انسان کی تحقیر کی قیمت پر نہیں۔ کوئی ایسی پوسٹ یا ویڈیو جس میں کسی کی تذلیل ہو رہی ہو، اسے صرف ہنسی یا تفریح کے لیے شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
بدگمانی اور بغیر تحقیق الزام :
سوشل میڈیا پر کسی تصویر، مختصر ویڈیو یا چند جملوں کی بنیاد پر کسی شخص کے بارے میں فوری فیصلہ سنانا بھی عام ہوگیا ہے۔ واقعے کا پورا پس منظر معلوم نہیں ہوتا، لیکن رائے فوراً قائم ہوجاتی ہے؛ کبھی الزام لگتا ہے اور کبھی لوگوں کی بڑی تعداد اسے سچ سمجھ لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
"بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
(الحجرات: 12)
اسلام ہمیں بدگمانی اور جلد بازی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے یا الزام آگے بڑھانے سے پہلے مکمل حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر حقیقت معلوم نہ ہو تو خاموش رہنا، کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے سے کہیں بہتر ہے۔
اختلاف میں گالم گلوچ اور بدزبانی :
سوشل میڈیا پر مذہبی، سیاسی اور فکری اختلافات اکثر گالی، طنز، تحقیر اور ذاتی حملوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ انسان دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے مخالف کی ذات کو نشانہ بنانے لگتا ہے۔
اسلام اختلافِ رائے کے باوجود زبان کی پاکیزگی اور حسنِ اخلاق کا مطالبہ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ اصول سوشل میڈیا پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ کسی رائے سے اختلاف ہو تو دلیل سے اختلاف کیا جائے، شخصیت پر حملہ نہ کیا جائے۔ غصے میں فوری جواب دینے کے بجائے کچھ دیر رک جانا بھی حکمت ہے۔ ہر بحث میں حصہ لینا ضروری نہیں اور ہر بات کا جواب دینا بھی لازم نہیں۔
دینی بات پھیلانے میں احتیاط :
سوشل میڈیا پر دینی اقوال، احادیث، واقعات اور بزرگوں کے ارشادات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں۔ لیکن ان میں بعض ایسی باتیں بھی شامل ہوتی ہیں جن کی کوئی معتبر اصل معلوم نہیں ہوتی اور کبھی ضعیف یا من گھڑت روایت بھی نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کردی جاتی ہے۔
دین کے معاملے میں یہ بے احتیاطی انتہائی خطرناک ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے سے پہلے اس کی صحت اور حوالہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اچھی نیت غیر ثابت شدہ بات کو حدیث نہیں بنا دیتی۔
اسی طرح کسی عالم یا داعی کی کوئی بات سن کر اسے فوراً "اسلام کا حکم" قرار دینے کے بجائے معتبر ماخذ سے اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔ دین کی خدمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم صحیح بات پھیلائیں، نہ کہ صرف زیادہ سے زیادہ بات پھیلائیں۔
غصے میں فوری ردِعمل :
سوشل میڈیا نے انسان کو فوری ردِعمل کا عادی بنا دیا ہے۔ کوئی بات پسند نہیں آئی تو فوراً کمنٹ، کوئی اختلاف ہوا تو فوراً جواب، کسی نے تنقید کی تو فوراً سخت الفاظ۔ بعد میں احساس ہوتا ہے کہ الفاظ ضرورت سے زیادہ سخت ہوگئے تھے، لیکن تب تک بات بہت سے لوگوں تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔
اسلام انسان کو ضبطِ نفس اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے کسی اشتعال انگیز پوسٹ یا کمنٹ کا جواب دینے سے پہلے رکنا، سوچنا اور الفاظ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات خاموشی وہ کام کردیتی ہے جو ایک لمبی بحث بھی نہیں کرسکتی۔
سوشل میڈیا کو خیر کا ذریعہ بنائیں :
اسلام ہمیں صرف برائی سے بچنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ خیر کے کاموں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے قرآن و سنت کی صحیح تعلیم، مفید علمی معلومات، اچھی نصیحت، تعمیری فکر اور معاشرتی بھلائی کی بات بہت سے لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔
ایک مستند تحریر کسی طالب علم کے لیے مفید بن سکتی ہے، ایک صحیح دینی بات کسی کی اصلاح کا سبب بن سکتی ہے اور ایک حوصلہ افزا پیغام کسی پریشان انسان کے دل میں امید پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو محض وقت گزاری اور بحث و تکرار کا ذریعہ بنانے کے بجائے علم، خیرخواہی اور اصلاح کا وسیلہ بنائیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ مختصر مگر جامع تعلیم سوشل میڈیا کے پورے استعمال کے لیے ایک اصول بن سکتی ہے: جو بات خیر کی ہو، اسے آگے بڑھائیں؛ جس میں نقصان، گناہ یا کسی کی دل آزاری کا اندیشہ ہو، اس سے رک جائیں۔
آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ مثبت طریقے سے اس کا استعمال کریں اور یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں ہی نہیں، ہمارے ہر ایک اعمال سے بھی باخبر ہے۔ اور قیامت کے دن اس کا سوال ہو گا۔
Comments
Post a Comment