دورِ حاضر میں دم توڑتی ہوئی انسانیت کو رسولِ رحمت ﷺ کی تعلیمات کی ضرورت ہے: سہیل امیر شیخ۔


 پریس ریلیز : 
دورِ حاضر میں دم توڑتی ہوئی انسانیت کو رسولِ رحمت ﷺ کی تعلیمات کی ضرورت ہے: سہیل امیر شیخ۔

 بھساول میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام عظیم الشان خطابِ عام، 850 سے زائد خواتین و مرد حضرات کی شرکت، سیرت کوئز کے کامیاب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی

بھساول، 4 ستمبر: جماعتِ اسلامی ہند، بھساول کے زیرِ اہتمام 4 ستمبر بروز جمعہ بعد نمازِ مغرب سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ایک عظیم الشان اور پُروقار خطابِ عام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت جناب سہیل امیر شیخ، (ناظم ضلع جماعتِ اسلامی ہند، جلگاؤں) نے فرمائی۔ اجتماع میں علماء و ائمہ، دانشوران، شہر کی نمایاں شخصیات، مختلف اداروں کے ذمہ داران، طلبہ و طالبات اور ان کے سرپرستوں سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں تقریباً 700 خواتین و بچیوں اور 150 مرد حضرات کی شرکت رہی۔
پروگرام کا آغاز مولانا شبیر حیدر فلاحی صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں امیرِ مقامی بھساول نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور سیرتِ رسول ﷺ کو موجودہ دور میں عام کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
پروگرام میں مختلف مقررین نے نبی کریم ﷺ کی مبارک شخصیت اور سیرتِ طیبہ کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں پر نہایت مؤثر اور معلومات افزا خطابات پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ مقررین نے سیرتِ رسول ﷺ کے ذریعے خواتین، نوجوانوں اور عام معاشرے کی رہنمائی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
”سیرت النبی ﷺ اور خواتین“ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے ساجدہ پروین صاحبہ، سیکریٹری شعبۂ خواتین نے خواتین کی ذمہ داریوں اور کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں خواتین کو اپنے گھروں، خاندان اور معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
نوجوانوں کے لیے خصوصی نشست میں مفتی محمد اشفاق زئی صاحب نے ”نوجوانوں کے لیے سیرت النبی ﷺ کا پیغام“ کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، کردار، جدوجہد اور دعوتی اسوہ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی اور اس بات پر زور دیا کہ نوجوان اپنے کردار و عمل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اسی طرح مولانا حافظ ماجد صاحب، امام و خطیب الفاران مسجد نے رسول اللہ ﷺ کی انکساری و عاجزی کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کی سادگی، تواضع، نرم خوئی اور حسنِ اخلاق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا، جن سے سامعین کو آپ ﷺ کے عظیم اخلاق و کردار کا عملی نمونہ سمجھنے میں مدد ملی۔
اس موقع پر عاصم ارشد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
پروگرام کے صدرِ مجلس جناب سہیل امیر شیخ (ناظم ضلع جماعتِ اسلامی ہند، جلگاؤں) نے اپنے صدارتی خطاب میں سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت مؤثر اور فکر انگیز انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میں جب انسانیت اخلاقی بحران، بے حسی، نفرت اور مختلف معاشرتی مسائل سے دوچار ہے، اسے رسولِ رحمت ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کے چند ایسے دل کو چھو لینے والے واقعات بھی بیان کیے جن میں رسول اللہ ﷺ کی رحمت، صبر، قربانی، عفو و درگزر، انسانیت سے محبت اور دعوتِ دین کے لیے آپ ﷺ کی بے مثال جدوجہد نمایاں ہوتی ہے۔ ان واقعات کو جس انداز میں بیان کیا گیا، اس سے حاضرین خصوصاً خواتین و مرد سامعین جذباتی طور پر متاثر ہوئے اور کئی دلوں میں سیرتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے کا نیا عزم پیدا ہوا۔
جناب سہیل امیر شیخ صاحب نے اپنے خطاب میں حاضرین کے اندر حوصلہ، امید اور عزم پیدا کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی دعوتِ دین کے عظیم مشن کو صبر، حکمت، استقامت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ جاری رکھا۔ آج ہمیں بھی آپ ﷺ کی سیرت سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے مایوسی اور بے عملی سے نکلنا ہوگا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرنی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیرت النبی ﷺ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اگر ہم اپنے اخلاق، معاملات، معاشرتی رویّوں اور روزمرہ زندگی میں نبی کریم ﷺ کے اسوہ کو اختیار کریں تو ہمارا کردار خود دین کی دعوت بن سکتا ہے۔

 سیرت کوئز کے کامیاب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی : 
پروگرام کے اختتام پر 30 اگست کو مختلف اسکولوں میں منعقد کیے گئے سیرت کوئز مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ کامیاب طلبہ و طالبات کو اسناد و سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ان کے سرپرستوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے بچوں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
منتظمین کے مطابق سیرت کوئز اور خطابِ عام کے انعقاد کا مقصد بالخصوص نئی نسل کو رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی، تعلیمات اور اخلاق سے روشناس کرانا اور سیرتِ طیبہ کو محض مطالعے کا موضوع بنانے کے بجائے عملی زندگی کا حصہ بنانے کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔
الحمدللہ، علماء و ائمہ، دانشوران، شہر کی نمایاں شخصیات، مختلف اداروں کے ذمہ داران، طلبہ و طالبات، خواتین اور سرپرستوں سمیت کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت اور مختلف مقررین کے مؤثر خطابات کے باعث یہ پروگرام نہایت شاندار، کامیاب اور یادگار انداز میں ہمکنار ہوا۔
پروگرام کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔ منتظمین نے تمام علماء، مقررین، مہمانانِ گرامی، شرکاء، سرپرستوں، طلبہ و طالبات اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنے، اپنے کردار سے اس کی نمائندگی کرنے اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔