درس گاہ سے دلوں تک - تحریر ۔۔۔عدنان سرکھوت ، ممبئ۔
درس گاہ سے دلوں تک -
تحریر ۔۔۔عدنان سرکھوت ، ممبئ۔
استاد وہ نہیں ہوتا جو صرف کتاب کے صفحات کھول کر سبق پڑھا دے ، یا بچوں کو کچھ جملے رٹا دے بلکہ استاد وہ ہوتا ہے جس کی موجودگی کلاس روم کی چہار دیواری سے نکل کر شاگرد کی شخصیت کا حصہ بن جائے ۔
مہاراشٹر بھر میں ایسے بے شمار اساتذہ ہیں جنہوں نے اپنی محبتوں کے انمٹ نقوش اپنے شاگرد کے دلوں پر چھوڑے ہیں ۔ہماری کوشش ہے کہ ایسے تمام اساتذہ کی خدمات کا اعتراف ایک سیریز میں کیا جائے ۔۔ابتدائی مضمون کے لیے ہم نے ایک ایسے معلم کا انتخاب کیا ہے جو اپنے ابتدائی تدریسی دور ہی سے بچوں میں غیر معمولی مقبول رہے ہیں ۔
وجاہت عبدالستار ۔۔۔ صرف ایک نام نہیں بلکہ تدریس کے مقدس پیشے سے جڑی ایک ایسی تابناک حقیقت ہے جس نے معلم اور طالب علم کے رشتے کو محبت ، اپنائیت اور اخلاص کی ایک نئی معراج عطا کی ۔ وہ سوشل اردو ہائی اسکول ، سولاپور کے ہر دل عزیز اور مقبول معلم ہیں جن کے فیضان نظر سے کمزور طالب علم بھی کندن بن جاتا ہے ۔ ان کی تدریسی زندگی کا اغاز ہی اس بات کا غماز تھا کہ وہ بچوں کے دلوں پر راج کرنے آئے ہیں ۔ کتابی علم کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات کو سمجھنا ، ان کی مشکلات کا مداوا کرنا اور ہر بچے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھنا ان کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان کی کلاس میں داخل ہوتے ہی بچوں کے چہروں پر جو اطمینان اور مسکراہٹ ابھرتی ہے ، وہ کسی بھی بڑے اعزاز سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے ۔
سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں
کرے کلام تو باتوں میں پھول آتے ہیں
سنا ہے اس کے پڑھانے میں ہے مٹھاس ایسی
بخار ہو بھی تو بچے اسکول آتے ہیں
وجاہت سر کی زندگی کا ایک واقعہ شاید ان کی شخصیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو ۔ ایک مرتبہ ایک پریشان حال سرپرست ان کے پاس آئے اور کہنے لگے ۔
" سر کچھ دیر کے لیے میرے ساتھ اسپتال چلیں۔ "
وجاہت سر نے حیرت سے پوچھا ۔ " کیوں ؟ "
سرپرست نے کہا ۔
" میری بچی جو آپ کی کلاس میں پڑھتی ہے ، چار روز قبل پاؤں پھسلنے کی وجہ سے گر کر کوما میں چلی گئی تھی ۔ اسپتال میں زیر علاج تھی ۔ آج جب اسے ہوش آیا ، تو اس نے سب سے پہلے آپ کو یاد کیا ، وہ آپ کو دیکھنا چاہتی ہے ، آپ سے بات کرنا چاہتی ہے ۔ "
یہ وہ سحر انگیز لمحہ تھا جس نے وجاہت عبدالستار کی پوری تدریسی زندگی کو ایک نئے معنی عطا کر دیے ۔
یہ صرف ایک بچی کی خواہش نہیں تھی ، ایک استاد کی محنت اور محبت کا اعتراف تھا جو کسی سند شیلڈ یا ایوارڈ سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔ اس دن انھیں ایک ادارے کی جانب سے آدرش شکشک کا ایوارڈ دیا جانے والا تھا مگر وہ اسے لینے سے انکار کررہے تھے۔ کیوں کہ جن ہاتھوں سے وہ ایوارڈ ملنا تھا ، وہ کسی زمانے کا مشہور غنڈہ اور حالیہ سیاسی نیتا تھا ۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے اس پریشان حال سرپرست کی زبانی یہ سنا کہ بچی نے اپنی زندگی کے مشکل ترین وقت میں انھیں یاد کیا ہے تو وہیں پر انھوں نے ایک اٹل فیصلہ کیا کہ اب زندگی میں کسی بھی آدرش شکشک ایوارڈ کو قبول نہیں کریں گے ۔۔ بھلا اس سے بھی بڑھ کر کوئی آدرش ایوارڈ ہو سکتا ہے کہ کوئی انھیں اپنی زندگی اور موت کے درمیانی لمحات میں یاد کرے ۔ وہ فوراً اسپتال پہنچے ۔ جب وہ اس بچی کے قریب گئے تو بے ہوشی اور کمزوری کے باوجود اس کی آنکھوں میں اپنے استاد کو دیکھ کر ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی۔ اس لمحے استاد اور شاگرد کا رشتہ محض درس گاہ کی چہار دیواری تک محدود نہ رہا، بلکہ ایک ایسی روحانی وابستگی میں ڈھل گیا ، جس کی بنیاد محبت ، اعتماد اور خلوص پر قائم تھی۔
یہ واقعہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ انہوں نے صرف بچوں کو پڑھایا نہیں ، بلکہ ان کے دلوں میں جگہ بنائی ۔ ان کے لیے ہر طالب علم محض حاضری رجسٹر کا نام یا امتحانی نتائج کا ایک عدد نہیں ، بلکہ ایک ایسی امانت ہے جس کی تربیت اور کامیابی کو وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
اس واقعہ سے وجاہت عبدالستار کی شخصیت کا صرف ایک پہلو سامنے آتا ہے ، لیکن ان کی فنی اور تدریسی خدمات کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
وہ بچوں کے درمیان محض استاد نہیں بلکہ ایک ایسے رہنما ہیں جو ان کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں ، انہیں اظہار کا موقع دیتے ہیں اور ان کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی قوت کو نکھارتے ہیں۔ سینکڑوں تقریری مقابلوں میں ان کے تیار کردہ طلبہ نے ریاستی اور قومی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کے پیچھے صرف تقریر کی تیاری نہیں بلکہ استاد کی وہ مسلسل محنت ہے جو ایک خام ذہن کو پراعتماد شخصیت میں تبدیل کرتی ہے۔
وجاہت سر کی شخصیت کا ایک اہم حوالہ ڈراما بھی ہے۔ وہ ایک معروف ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے اداکار اور ہدایت کار بھی ہیں۔ ان کے لیے اسٹیج محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تربیت ، اظہار اور سماجی شعور کا وسیلہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بچوں کے مزاج کو سمجھتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو محض نصابی کامیابی تک محدود نہیں رکھتے۔
ان کی شخصیت میں ادب بھی ہے ، فن بھی اور تدریس بھی۔ وہ شاعر بھی ہیں ، مزاح نگار بھی ہیں ، اداکاری بھی کرتے ہیں، ڈرامے تخلیق کرتے ہیں اور ہدایت کاری کے ذریعے اپنے تخیل کو اسٹیج پر زندگی عطا کرتے ہیں۔ شاید ان کی ان ہی ہمہ جہت پہلوؤں کے مد نظر انھیں بال بھارتی ، پونے کے مشاورتی کمیٹی کا رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔
لیکن ان تمام حوالوں کے درمیان اگر ان کی سب سے بڑی شناخت تلاش کی جائے تو وہ ایک مخلص انسان اور مقبول استاد ہیں ۔
یومِ اساتذہ کے موقع پر جب ہم بہترین استاد ، مثالی معلم اور آدرش شکشک کے اعزازات کی بات کرتے ہیں تو شاید ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ استاد کی اصل کامیابی کیا ہے؟
کیا صرف ایک شیلڈ یا ٹرافی؟
کیا صرف ایک سرٹیفکیٹ یا سپاس نامہ؟
یا صرف ایک ایوارڈ؟
یا پھر وہ لمحہ جب زندگی اور موت کی کشمکش سے واپس آنے والا ایک طالب علم آنکھیں کھولتے ہی اپنے استاد کو یاد کرے؟
وجاہت عبدالستار کے لیے شاید اس سوال کا جواب بہت واضح ہے۔
ایک شاگرد کی محبت ہی استاد کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے ۔ اور شاید اسی لیے وجاہت عبدالستار صرف سوشل ہائی اسکول کے ایک معلم نہیں، بلکہ ان بے شمار طلبہ کی یادوں کا حصہ ہیں جنہوں نے ان سے کچھ نہ کچھ سیکھا، ان کے ساتھ ہنستے رہے ، اسٹیج پر قدم رکھا ، تقریر کی ، اداکاری کی اور زندگی کو ذرا بہتر انداز میں دیکھنا سیکھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ وجاہت عبدالستار جیسے اساتذہ اداروں کی عمارتوں کو نہیں ، نسلوں کو تعمیر کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی صرف ان کے پڑھائے ہوئے اسباق میں نہیں، بلکہ ان بے شمار زندگیوں میں پوشیدہ ہے جنہیں انہوں نے علم ، حوصلے ، اخلاق اور محبت کی روشنی عطا کی ۔ ان کا نام ایک ایسے استاد کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے تدریس کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ خدمت ، محبت اور انسان سازی کا مقدس فریضہ سمجھ کر نبھایا۔
یومِ اساتذہ کے اس بابرکت موقع پر وجاہت عبدالستار جیسی شخصیات اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ تدریس صرف نوکری نہیں بلکہ ایک عبادت ہے، ایک مشن ہے۔ جب اساتذہ بچوں کو علم کے ساتھ اپنا دل بھی دے دیتے ہیں، تو معاشرہ پھلتا پھولتا ہے۔ وجاہت سر جیسے معلمین اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلوص نیت سے کیا گیا کام کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اخبارات کے صفحات اور ایوارڈز کی چمک دمک اپنی جگہ، لیکن جو مقام وجاہت صاحب نے اپنے شاگردوں کے دلوں میں بنایا ہے، وہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا ۔
Comments
Post a Comment