معلم: ایک ذمہ داری، ذمے داریاں انیک - "استاد کو تدریس کے لیے مقرر کیا گیا ہے یا ہر کام کے لیے؟" ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
معلم: ایک ذمہ داری، ذمے داریاں انیک -
"استاد کو تدریس کے لیے مقرر کیا گیا ہے یا ہر کام کے لیے؟"
ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
جس ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، اگر اسی ہاتھ میں ہر وقت سروے کی فائل، موبائل اور آن لائن پورٹل تھما دیا جائے تو وہ ہاتھ قوم کا مستقبل کیسے سنوارے گا؟
یہ سوال آج صرف اساتذہ کا نہیں، پورے نظامِ تعلیم کا سوال ہے۔
استاد کسی بھی معاشرے کا محض ایک سرکاری ملازم نہیں ہوتا؛ وہ نسلوں کا معمار، کردار کا نگہبان اور مستقبل کا معلم ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے استاد کو عزت، اعتماد اور اختیار دیا، انہوں نے علم و تہذیب کے میدان میں ترقی کی۔قدیم مدارس مکاتب، خانقاہوں اور گروکلوں میں استاد اور شاگرد کا رشتہ احترام، تربیت اور نظم و نسق پر قائم تھا۔ شاگرد استاد کی بات کو رہنمائی سمجھتا اور استاد اپنے شاگرد کی علمی و اخلاقی تربیت کو اپنا فریضہ۔ وقت کے ساتھ تعلیمی نظام جدید ہوا، مگر استاد کی بنیادی ضرورت آج بھی وہی ہے: وقت، اعتماد اور باوقار تدریسی ماحول۔افسوس کہ موجودہ نظام میں اس کے برعکس صورتِ حال پیدا ہوتی جارہی ہے۔ نصاب وسیع ہوگیا، مضامین بڑھ گئے، تعلیمی اہداف میں اضافہ ہوا، مگر استاد کے پاس تدریس کے لیے دستیاب وقت مسلسل سکڑتا گیا۔
ایک طرف اس سے معیاری تعلیم، بہتر نتائج، شخصیت سازی اور کمزور طلبہ پر خصوصی توجہ کی توقع کی جاتی ہے؛ دوسری طرف آن لائن اندراجات، مختلف پورٹلز، سروے، رپورٹیں، اعداد و شمار، سرکاری مہمات اور نت نئے غیر تدریسی کام بھی اسی کے سپرد ہیں۔ ہر نئی اسکیم کے ساتھ نیا ڈیٹا، ہر نئے ڈیٹا کے ساتھ نئی رپورٹ اور ہر رپورٹ کے ساتھ ایک نئی ڈیڈ لائن! ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے استاد کو کلاس روم میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ محکمۂ تعلیم کے ہر شعبے کا کام بھی انجام دینا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر استاد کا بڑا حصہ تدریس کے بجائے دفتری اور غیر تدریسی کاموں میں صرف ہوگا تو بچوں کو پڑھائے گا کب؟
ایک تعلیمی سال میں اگر تدریسی وقت کا 20 سے 25 فیصد حصہ سروے، آن لائن کارروائیوں اور دیگر سرکاری کاموں میں چلا جائے تو پھر عالمی تعلیمی مسابقت میں بہتر کارکردگی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ تعلیمی معیار محض ہدف مقرر کرنے سے بلند نہیں ہوتا؛ اس کے لیے استاد کو پڑھانے کا وقت دینا پڑتا ہے۔ مسئلہ صرف کام کے بڑھتے ہوئے بوجھ تک محدود نہیں۔ استاد کے جائز اختیار اور سماجی وقار میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ بچوں پر جسمانی تشدد یقیناً کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن اصلاح اور نظم و ضبط کے تمام مؤثر ذرائع محدود کردینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ استاد اسے سختی سے روک، ٹوک یا تنبیہ نہیں کرسکتا تو استاد کا رعب نہیں، کم از کم اس کا جائز تربیتی اختیار ضرور متاثر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ موبائل کی بے لگام دنیا، نامناسب مواد، غیر حقیقی رول ماڈلز اور ہر طرح کی معلومات تک آسان رسائی نے کم عمر ذہنوں کو متاثر کیا ہے۔ بعض بچے والدین اور اساتذہ کی تربیتی بات کو نظرانداز کرکے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رجحانات کو اپنا معیار سمجھنے لگے ہیں۔ نتیجہ کبھی بدتمیزی، کبھی نافرمانی اور کبھی نظم شکنی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بعض انتہائی افسوس ناک واقعات میں اساتذہ کے ساتھ ہاتھا پائی اور تشدد سے بڑھ کر جان لیوا حملوں تک کی نوبت بھی آئی ہے۔ یہ صرف استاد کے خلاف جرم نہیں؛ یہ اس معاشرتی تربیت کی ناکامی ہے جس میں استاد کا احترام ایک بنیادی قدر ہوا کرتا تھا۔ اس صورتِ حال میں والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ بچے کو جدید ٹیکنالوجی دینا ضروری ہوسکتا ہے، مگر اس کے استعمال کی نگرانی اور اخلاقی تربیت اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اسکول اکیلا کسی بچے کی شخصیت نہیں بنا سکتا؛ گھر، اسکول اور معاشرہ تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دوسری طرف مسلسل کام، محدود وقت، ہر مرحلے پر جواب دہی اور بڑھتے ہوئے غیر تدریسی تقاضے اساتذہ میں ذہنی دباؤ اور بے بسی کا احساس پیدا کررہے ہیں۔ جو شخص بچوں میں امید پیدا کرتا ہے، اگر وہ خود مسلسل دباؤ میں رہے تو اس کے اثرات تعلیم پر پڑنا لازمی ہیں۔
5 ستمبر، یومِ اساتذہ پر محض استاد کو پھول پیش کرنا کافی نہیں۔ اس دن یہ فیصلہ بھی ہونا چاہیے کہ استاد کو اس کے اصل منصب پر واپس لایا جائے گا۔ حکومت اور محکمۂ تعلیم سے واضح مطالبہ ہے کہ استاد سے بنیادی طور پر تدریس، تربیت اور طلبہ کی شخصیت سازی کا کام لیا جائے۔ غیر ضروری سروے، مسلسل ڈیٹا جمع کرنے اور انتظامی نوعیت کے کاموں کے لیے علیحدہ عملہ مختص کیا جائے۔ استاد کو کلاس روم سے باہر نکالنے کے بجائے کلاس روم کو اس کی اولین ترجیح بنایا جائے۔
ساتھ ہی استاد کو یہ اعتماد بھی دیا جائے کہ وہ بغیر خوف کے طلبہ میں نظم و ضبط قائم کرسکے، البتہ اس کے لیے واضح، غیر تشددی اور متوازن ضابطۂ اخلاق موجود ہو۔ آخر تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرانا نہیں؛ انسان بنانا ہے۔ اور انسان بنانے کے اس عظیم کام کے لیے استاد کو کاغذی کارروائیوں کا بوجھ نہیں، وقت اور ذہنی یکسوئی درکار ہے۔
استاد کو مشین نہ بنائیے۔ اسے پڑھانے دیجیے۔
کیونکہ جس دن استاد کا زیادہ وقت کلاس روم کے بجائے پورٹل پر اور اس کی زیادہ توانائی تدریس کے بجائے سروے میں صرف ہونے لگے گی، اس دن ہمیں تعلیمی نتائج پر حیران ہونے کے بجائے اپنے نظام پر سوال اٹھانا چاہیے۔ استاد کو وقت دیجیے، اعتماد دیجیے، جائز اختیار دیجیے اور وقار دیجیے؛ پھر دیکھیے، یہی معلم قوم کے مستقبل کو کس شان سے سنوارتا ہے۔
Comments
Post a Comment