نقشِ باقی — آزاد نظم - ازقلم : عنایت اللہ خان۔
نقشِ باقی — آزاد نظم -
ازقلم : عنایت اللہ خان۔
رہیں نہ رہیں ہم
یہ وقت رہے گا
یہ راستے، یہ درخت،
یہ مٹی کی خوشبو
کسی اور کے قدموں سے آشنا ہوگی
ہم تو بس
ہوا کے ایک جھونکے تھے
آئے… چھو کر گزر گئے
کل جب سورج پھر اُبھرے گا
وہ ہم سے سوال نہیں کرے گا
اور نہ چاند
ہماری کہانی دہرائے گا
مگر کہیں نہ کہیں
کسی دل کے کونے میں
ایک ہلکی سی روشنی
ہماری وجہ سے ہوگی
ہم نے رہتے ہوئے
کتنی روشنی بانٹی
کتنے اندھیرے کم کیے
کیونکہ
وجود سے زیادہ
اثر باقی رہتا ہے۔
Comments
Post a Comment