پونے فیسٹیول ۲۰۲۶: صوفی سنگیت کی روح پرور شام، قطبی برادران نے سامعین کو مسحور کر دیا


پونے، ۱۹ ستمبر ۲۰۲۶ (راست) پونے فیسٹیول ۲۰۲۶ کے تحت ڈاکٹر پی اے انعامدار یونیورسٹی اور دی مسلم کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کے مشترکہ زیرِ اہتمام گنیش کلا کریڈا رنگ منچ، نہرو اسٹیڈیم، سوارگیٹ، پونے میں صوفی سنگیت کی ایک یادگار اور روح پرور محفل منعقد ہوئی۔ تقریب شام ۷ بجے آغاز پذیر ہوئی جس میں شہر کے علمی، ادبی، سماجی اور ثقافتی حلقوں کے علاوہ بڑی تعداد میں موسیقی کے شائقین نے شرکت کی۔
پونے فیسیٹیول کی باوقار تقریب صوفی سنگیت (قوالی) کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عظمت دلال(صدر شعبہ اردو، عابدہ انعامدار سینیر کالج) اور جناب عبدالحمید ؔہنر انعامدار ( ٹرسٹی ، حاجی غلام محمد اعظم ایجوکیشن ٹرسٹ) بخوبی ادا کیے۔تقریب کا آغاز جناب تنویر انعامدار (چیئرمین، دی مسلم کوآپریٹو بینک) کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد مہمانِ خصوصی محترمہ ایڈوکیٹ حسنہ بانو خلیفے (سابق رکن، مہاراشٹر قانون ساز کونسل)، صدرِ تقریب محترمہ عابدہ پی۔ انعامدار (چانسلر، ڈاکٹر پی اے انعامدار یونیورسٹی) اور مہمانِ اعزاز ی محترمہ میرا سریش کلماڑی کی خدمت میں ہدیہ خلوص پیش کیا گیا۔
اپنے خطاب میں محترمہ حسنہ بانو خلیفے نے کہا کہ صوفی روایت ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، محبت، رواداری اور انسانیت کی روشن علامت ہے، جبکہ محترمہ عابدہ انعامدار نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور نئی نسل تک صوفی اقدار پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مہمانِ اعزاز محترمہ میرا سریش کلماڑی نے پونے فیسٹیول کی ۳۸ سالہ تہذیبی روایت کو سراہتے ہوئے اسے قومی یکجہتی کا مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر عظمت دلال نے رسمِ شکریہ ادا کرتے ہوئے مہمانان، فنکاروں، منتظمین اور حاضرین کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس کامیاب ثقافتی و روحانی پروگرام کو پونے فیسٹیول کی نمایاں کامیابی قرار دیا۔

شام کا سب سے دلکش مرحلہ دہلی کے عالمی شہرت یافتہ قطبی برادران کی صوفیانہ پیشکش رہی۔قطبی برادران ہندوستان کے معروف ترین قوالی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھیں صوفیانہ قوالی کی 800 سال سے زائد قدیم روایت ورثے میں ملی ہے جسے ہندوستانی موسیقی کے عظیم اساتذہ نے کئی نسلوں تک پروان چڑھایا اور فروغ دیا۔ قطبی برادران دہلی کے مہرولی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمت اللہ علیہ کے مزار اقدس سے وابستہ ہیں اور وہاں بطور خانقاہی قوال حکمت انجام دیتے ہیں ۔
حاجی محمد ادریس قطبی کی قیادت میں قطبی برادران نے حضرت امیر خسرو، کبیر، میرا بائی اور دیگر صوفی شعرا کے کلام کو اپنی سحر انگیز آواز اور وجد آفریں قوالی کے انداز میں پیش کیا، جس پر حاضرین بارہا داد و تحسین سے محفل کو گرماتے رہے۔
چھاپ تلک، میرا پیا گھر آیا اور دمادم مست قلندر کے عرفانی کلمات کی تکرار سے ہال گونجتا رہا۔میرے رشک قمر ، دل پہ زخم کھاتے ہے، یہ تو نے کیا کیا جیسے مشہور زمانہ فلمی نغمات کی پیشکش نے محفل میں چار چاند لگا دیے ۔
 صوفی سنگیت کی پررونق محفل قوالی میں نوجوانوں کا جوش و خروش اپنے عروج پر رہا۔
 اتحاد، اخوت، امن اور محبت کے پیغام سے مزین اس محفل نے سامعین کے دلوں پر گہرا روحانی اثر چھوڑا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔