مسلمانوں کو دفاعی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ، سقوط حیدرآباد کے سانحہ کو ٹالنا ممکن تھا - نام نہاد جشن آزادی پر خاموشی افسوسناک ، ویلفیئر پارٹی کے زیر اہتمام سقوط حیدرآباد ماضی اور حال جلسہ سے مقررین کا خطاب


گلبرگہ 18 ستمبر : مسلمانوں کو جذباتی اور ووٹ کی سیاست احتجاج میمورنڈم اور حکومتوں پر انحصار کے بجائے دفاعی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس خیال کا اظہار سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست نے کیا ہے وہ کل رات ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گلبرگہ ضلع کے زیر اہتمام پارٹی آفس نزد مسلم چوک گلبرگہ میں منعقدہ جلسہ میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے سقوط حیدرآباد ماضی اور حال کے زیر عنوان مخاطب کر رہے تھے انہوں نے سقوط حیدرآباد سے آج تک مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے سانحات اور حادثات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہمیشہ خود احتسابی سے غافل اور بے عملی کا شکار رہے اور حالات کا مقابلہ کرنے اپنے دفاع کے بارے میں انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا انہوں نے مسلمانوں پر موجودہ روش کو بدلنے اور اپنے تحفظ و استحکام کیلئے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا عزیز اللہ سرمست نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا کہ ہر دور میں بزدلی کی وجہ سے مسلمانوں کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ مسلمان اگر اس حقیقت سے آشکار ہو جائیں کہ وہ غالب ہونے کیلئے ہیں تو ان کے اندر سے مرعوب اور مغلوب ہونے کا ڈر نکل جائے گا عزیز اللہ سرمست نے تاریخ اسلامی کے حوالوں سے کہا کہ باطل کی تمام چالیں الٹی پڑ سکتی ہیں اگر مسلمان ، مسلمان ہو جائیں انہوں نے مزید کہا کہ آج مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کو حالات سے ڈرانے خوفزدہ کرنے کی روش کے بجائے حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے اور اپنے دفاع کیلئے تیار رہنے کی تلقین کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے دشمنوں کی سازشوں سے باخبر رہنے کو سنت رسول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ صرف اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے باخبر رہنا چاہیئے بلکہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کی حکمت عملی بھی اپنانے کی ضرورت ہے عزیز اللہ سرمست نے تمام سیاسی قائدین و کارکنان ملی سماجی تعلیمی تنظیموں کے ذمہ داران پر زور دیا کہ معمولی اور حقیر مفادات کیلئے اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے ملت کی بقا سر بلندی اور وقار کیلئے متحد و منظم ہو جائیں کارروائی کا آغاز مولانا محمد نوح کی قرات کلام پاک سے ہوا سید نعیم الدین ایم ڈی وائس آف گلبرگہ اور مولانا محمد جیلانی باقوی نے نعت خوانی کا شرف حاصل کیا مبین احمد ریاستی جنرل سیکریٹری ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے ابتدائی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سقوط حیدرآباد کے سانحہ کے تاریخی حقائق سے مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کو واقف کروانے کیلئے اس جلسہ کا انعقاد کیا گیا ہے مولانا محمد نوح ریاستی جنرل سیکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ نے کہا کہ سقوط حیدرآباد کے سانحہ اور مسلمانوں کے خلاف کئے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈہ کو مساجد میں جمعہ کے اردو خطابات کا موضوع بنایا جانا چاہیئے عبدالجبار گولہ ایڈوکیٹ صدر سٹی زنس لیگل اکیڈمی گلبرگہ ضلع نے کہا کہ علاقہ کلیان کرنا ٹک کا جشن آزادی سرکاری سطح پر منانے کا کوئی قانونی دستوری تکنیکی جواز نہیں ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ملک کے دو جشن آزادی کیسے ہوسکتے ہیں ؟ عبد الجبار گولہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ کیا آئندہ دو یوم جمہوریہ بھی منائے جائیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر جشن آزادی کرناٹک کا انعقاد مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے عبد الجبار گولہ ایڈوکیٹ نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ جشن آزادی کلیان کرناٹک کے نام پر جس طرح کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں ان کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کیلئے تیار نہیں ہے انجینئر عارف مرزا ریاستی نائب صدر ادارہ ادب اسلامی کرناٹک نے سانحہ سقوط حیدرآباد کے موضوع پر اہم اور فکر انگیز جلسہ رکھنے کیلئے سلیم احمد چیتا پوری صدر اور دیگر ذمہ داران ویلفیئر پارٹی کو مبارکباد پیش کی انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے اس لئے واقف ہونا ضروری ہے کہ ہم ان غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعادہ نہ کر سکیں جو ہماری شکست ناکامیوں اور ذلت و رسوائی کا سبب ہوئیں انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ہمیشہ تاریخ سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں عارف مرزا نے واٹس ایپ کے بجائے کتب کے ذریعے تاریخ کا مطالعہ کرنے نوجوانوں پر زور دیا افضال محمود جنرل سیکریٹری جوائنٹ ایکشن کمیٹی گلبرگہ ضلع نے نوجوان نسل کو سانحہ سقوط حیدرآباد سے واقف کروانے کیلئے اسکول کالجس کی سطح پر پروگراموں کے انعقاد کا مشورہ دیا جلسہ کے دوسرے کلیدی مقرر عبد القدوس چنچولی سابق صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گلبرگہ ضلع نے کہا کہ اگر نظام حیدرآباد سیاسی تدبر اور حکمت عملی سے کام لیتے تو سقوط حیدرآباد کے بدترین سانحہ کو ٹالا جا سکتا تھا انہوں نے کہا کہ نظام نے شمالی ہند سے ایک صاحب بصیرت و دانشور افسر علی امام کو نظام اسٹیٹ کے تحفظ اور استحکام کیلئے جائزہ لینے مقرر کیا تھا علی امام نے ریاست میں مسلم آبادی کے تناسب میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے چند تجاویز پیش کیں تھیں جن پر نظام نے غلط مشوروں کے زیر اثر عمل نہیں کیا لیکن سقوط حیدرآباد کے سانحہ کے بعد نظام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اسٹیٹ پر فوج کشی کے اقدام اور قتل عام پر پردہ ڈالنے کیلئے اسے پولیس ایکشن کا نام دیا گیا عبدالقدوس چنچولی نے سندر لال کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پولیس ایکشن کے دوران 40 ہزار سے زائد افراد کا قتل عام کیا گیا جبکہ بعض رپورٹوں میں مقتولین کی تعداد 2 لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے عبدالقدوس چنچولی نے کہا کہ رضاکاروں کو بدنام کیا گیا اور یہ تحریک مہاراشٹر سے اٹھی عبدالقدس چنچولی نے مزید کہا کہ نلدرگ مہاراشٹر میں اگر نظام کی فوج غفلت سے کام نہ لیتی تو انڈین آرمی نظام اسٹیٹ میں داخل ہی نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ غیر ضروری جوش اور ردعمل سے کام لیتے ہیں جبکہ حکمت عملی ضروری ہے سلیم احمد چیتاپوری صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گلبرگہ ضلع نے جلسہ کی صدارت فرمائی انہوں نے صدارتی تقریر میں سقوط حیدرآباد کے سانحہ میں ہوئی مسلمانوں کی تباہی و بربادی کو تاریخ کا سیاہ باب اور 17 ستمبر کو یوم سیاہ قرار دیا عبدالسلیم چیتاپوری نے مزید کہا کہ مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کیلئے اپنا سب کچھ نچھاور کیا اور آزادی کے بعد بھی انہیں ظلم و زیادتی اور ناانصافیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے سقوط حیدرآباد ، پولیس ایکشن کی خونچکاں داستان مسلمانوں کے قتل عام تباہی و بربادی کے رونگٹھے کھڑے کر دینے والے واقعات پر مبنی سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست کی کتاب " 17 ستمبر کی حقیقت " کی عبدالسلیم چیتاپوری نے رسم اجرا انجام دی یہ کتاب شرکاء میں بطور تحفہ تقسیم کی گئی عبدالقدیر ایڈوکیٹ نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ جلسہ کی نظامت کی اور مقررین کی تقاریر کو نہایت فکر انگیز قرار دیا عبدالقدیر نے کہا کہ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اس طرح کے جلسوں کے انعقاد کے ذریعے ملت میں بیداری لانے اور حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے کا جذبہ و حوصلہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے ویلفیئر پارٹی کے عہدیداران و کارکنان کے علاوہ ممتاز طنزو مزاح نگار افسانچہ نگار منظور وقار ممتاز ادیب ڈاکٹر عبدالباری مجیب علی خان صدر مجیب علی خان کلچرل فورم مبین احمد زخم شاعر و صحافی عبدالحنان شاہد انجینیئر وسیم عارف خواجہ صدر الدین پٹیل میر آصف علی کے علاوہ ملی فکر رکھنے والے سامعین کی کثیر تعداد نے جلسے میں شرکت کی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔