لوک ساہتیہ منچ کا ہمہ لسانی ادبی اجلاس و مشاعرہ ڈاکٹر ماجد داغی ،اشوک گروجی ،بابل گاؤں، رمیش اور دیگر کا خطاب
کلبرگی 29 / ستمبر. لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ مختلف زبانوں ، مذاہب، علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء ادباء اور صحافیوں و دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی بے مثال خدمات انجام دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے ادبی اجلاس ہال میں منعقدہ ہمہ لسانی ادبی اجلاس و مشاعرہ سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ کی ادبی سرگرمیاں دراصل باہمی میل جول ، قومی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دے رہی ہیں. شری سی این۔ بابل گاؤں نائب صدر نے منچ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔پروفیسر رمیش بی یاڑگی مہمان خصوصی نے نظم "انہیں بڑے آدمیوں کی طرح قربانی کرنی چاہیے" سنائی۔ سینئر صحافی و شاعر جناب مبین احمد زخم، شری امر پریہ ہیرے مٹھ، شری ناگیندر اپپا، سید معز الدین، شری کلّیا سوامی، شری نرسنگراؤ ہیمنور، شری بسواراج ہیمنور، شری کے گری ملّا، شری گوتم کٹی منی کے علاوہ شری ایشورپپا مانتے، شری سنتوش، شری سدرام ہنچنال نے ساز اور آواز کے دوسرے سیشن میں ساز پر اپنی شعری تخلیقات کےعلاوہ فرمائشی گیت بھی پیش کیں ۔اجلاس کا آغاز کماری چندر کلا جمعدار کی پرارتھنا گیت سے ہوا ۔ شری اشوک گروجی نے مہمانان کا خیرمقدم کیا اور کماری چندر کلا نے نظامت کے فرائض انجام دیں ۔
Comments
Post a Comment