شہنشاہ اکبر کے عہد میں فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین عصرِ حاضر کی اہم ضرورت ہے: مولانا حارث شیخ - مصنفین نے سادہ اور عام فہم انداز میں فکرانگیز معلومات پیش کی ہیں: ڈاکٹر عبدالرشید شیخ - یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی اردو گھر تعلیمی سیر کامیاب - فارسی زبان و ادب پرتحریرکردہ تصنیف "عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء" کی رسمِ رونمائی

 

شہنشاہ اکبر کے عہد میں فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین عصرِ حاضر کی اہم ضرورت ہے: مولانا حارث شیخ

مصنفین نے سادہ اور عام فہم انداز میں فکرانگیز معلومات پیش کی ہیں: ڈاکٹر عبدالرشید شیخ

یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی اردو گھر تعلیمی سیر کامیاب

  فارسی زبان و ادب پرتحریرکردہ تصنیف "عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء"  کی رسمِ رونمائی



سولاپور (اقبال باغبان) : 19 ستمبر 2026، بروز سنیچر، "اردو گھر دورہ مہم" کے تحت یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ، سولاپور کی جانب سے تعلیمی سیر، کتب خانے کے مطالعاتی دورے اور کتاب کی رسمِ رونمائی پر مشتمل ایک خصوصی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ پروگرام کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زینب نائب کی صدارت و قیادت میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی  جمعیت علمائے ہند، شاخ سولاپور کے صدر مولانا حارث شیخ ۔مہمانِ اعزازی  ،بی۔کیو۔ گرلز جونیئر کالج کے شعبۂ فارسی کے لکچرر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ ،مہمانِ اعزازی ،  روٹری کلب آف سولاپور اسمارٹ سٹی کے ڈائریکٹر اقبال باغبان نے شرکت کی۔



اردو زبان کے فروغ کے لیے طالبات کا پُرجوش جلوس :

تعلیمی سیر کے آغاز میں یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی طالبات اور اساتذہ نے کالج سے سولاپور اردو گھر تک ایک پُرجوش جلوس نکالا۔ طالبات نے اردو زبان و ادب سے متعلق اقوال اور اشعار پر مشتمل تختیاں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ "اردو زبان زندہ باد" ،  "اردو زبان پائندہ باد"، "اردو زبان سب سے پیاری زبان" اور "اردو زبان فخرِ ہندوستان" کے نعرے لگاتے ہوئے اردو گھر پہنچیں۔اردو گھر پہنچنے پر ناظمِ اردو گھر ساحر نداف اور "اردو گھر دورہ مہم" کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے طالبات اور اساتذہ کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں اردو گھر کے اغراض و مقاصد، تعلیمی سرگرمیوں اور دستیاب سہولیات سے واقف کرایا گیا۔




کتب خانے کی سیر اور مطالعاتی سہولیات سے آگاہی :

کتب خانے کے مطالعاتی دورے کے دوران پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے طالبات اور اساتذہ کو کتب خانے کے قیام، کتابوں کی خریداری اور مطالعے کی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کتب خانے کے لیے نو لاکھ روپے کی کتابیں خریدنے کے دوران زیادہ سے زیادہ رعایت حاصل کی گئی اور رعایت سے حاصل ہونے والی رقم سے مزید کتابیں خریدی گئیں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر پندرہ لاکھ روپے کی کتابیں فراہم کی گئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ و طالبات کو مسابقتی امتحانات کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کے لیے کلاس فور سے کلاس ون تک کے مختلف عہدوں کے امتحانات سے متعلق کتابیں بھی کتب خانے میں شامل کی گئی ہیں۔ اس دوران طالبات کو کتب خانے کی افادیت، مطالعے کی اہمیت اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے دستیاب علمی وسائل کے بارے میں مفید  کارآمد معلوماتی رہنمائی فراہم کی گئی۔



"عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء"  کی رسمِ رونمائی :

تعلیمی دورے کے ضمن میں اردو گھر کے آڈیٹوریم میں یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کے شعبۂ فارسی اور شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام پروفیسر ڈاکٹر  محمد شفیع چوبدار(صدرشعبہ اردو اور کو آرڈینٹر پی۔ایچ۔ڈی۔ریسرچ سینٹر، ایس ۔ایس۔ اے آرٹس اینڈ کامرس  کالج سولاپور) اور پروفیسر ڈاکٹرسمیہ باغبان (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ فارسی، یو۔ای۔ ایس۔ مہیلا مہاودیہ لیہ سولاپور) کی تخلیق کردہ   فارسی زبان و ادب پر مبنی کتاب "عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء"  کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی۔

تقریب کی صدارت پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زینب نائب نے کی۔  مولانا حارث شیخ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ اور اقبال باغبان نے مہمانوں کی حیثیت سے شرکت کی۔ ان معزز شخصیات کے دستِ مبارک سے کتاب کی رونمائی عمل میں آئی۔



مولانا حارث شیخ کا خطاب :

مہمانِ خصوصی مولانا حارث شیخ نے اپنے خطاب میں شہنشاہ اکبر کے عہد میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ اور اس کے ارتقاء پر تحقیق و تدوین کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’شہنشاہ اکبر کے عہد کی فارسی ادب کی تاریخ لکھنا عہدِ حاضر کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے اس امر کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ فارسی زبان و ادب کے تاریخی سرمایے کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے اس نوعیت کی علمی و تحقیقی کاوشیں ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اکبر کے عہد میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ   کا مطالعہ ماضی کے ادبی و تہذیبی ورثے کو سمجھنے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔



ڈاکٹر عبدالرشید شیخ نے مصنفین کی کاوشوں کو سراہا :

مہمانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ نے کتاب کے علمی و ادبی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصنفین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مصنفین نے سادہ اور عام فہم الفاظ میں بڑی فکرانگیز معلومات فراہم کی ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کو اہم قرار دیا کہ تاریخی اور ادبی موضوعات کو آسان زبان میں پیش کیا جائے، تاکہ عام قارئین اور طلبہ بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔ ان کے مطابق کتاب کی سادہ اور قابلِ فہم زبان اس کے علمی مواد کو قارئین تک پہنچانے میں معاون ہے۔



تقریب کے دیگر مراحل :

تقریب کے آغاز میں کالج کی پروفیسر ڈاکٹر سمیہ باغبان نے مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر صدف آراء چوبدار نے انجام دیے۔  رسمِ شکریہ پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے ادا کی۔

اس تعلیمی دورے اور کتاب کی رسمِ رونمائی کے ذریعے طالبات کو اردو گھر کی علمی و تعلیمی سرگرمیوں سے واقف ہونے کے ساتھ فارسی زبان و ادب کی تاریخ اور تحقیقی مطالعے سے بھی آشنائی حاصل ہوئی۔ یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی یہ تعلیمی سیر مجموعی طور پر کامیاب رہی۔ اس سیر کو کامیاب بنانے میں کالج کے ناظم کتب، ڈاکٹر امر دکشت،  ڈاکٹرثمینہ سید، پروفیسرفرزانہ پٹیل، ڈاکٹر مسرورجہاں، پروفیسرعائشہ سوداگر، پروفیسرعمران شیخ، پروفیسر جبرئیل، پروفیسر صدف جہاں، پروفیسر رئیسہ مرزا، ڈاکٹر کوڑی  اور سمیرنے خوب محنت کی۔








Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔