بشیر پروازؔ — ایک ناقابلِ تلافی ادبی خلا - محمد سمیع مومن
بشیر پروازؔ — ایک ناقابلِ تلافی ادبی خلا -
محمد سمیع مومن
ابھی اہلِ سولاپور معروف صحافی، ادیب، مدیرِ ’’گلبوٹے‘‘ اور ’’اردو میلہ‘‘ کے روحِ رواں، مرحوم فاروق سید صاحب کے غمِ ارتحال سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ اردو ادب کا ایک اور انتہائی روشن ستارہ غروب ہوگیا۔ جناب بشیر پرواز صاحب کی رحلت نے اس تازہ زخم کو ایک بار پھر ہرا کر دیا ہے اور سولاپور کے علمی و ادبی حلقوں کو ایک نئے کرب، ایک نئے صدمے اور ایک ناقابلِ تلافی خلا سے دوچار کر دیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سولاپور کی ادبی بستی پر یکے بعد دیگرے خزاں اتر رہی ہو اور ادب و تہذیب کے آسمان سے ایک ایک کرکے روشن ستارے ہم سے رخصت ہوتے جا رہے ہوں۔ بشیر پرواز صاحب بھی انہی روشن شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اردو زبان و ادب، تعلیم، تہذیب اور نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
مرحوم بشیر پرواز صاحب محض ایک ادبی شخصیت نہیں تھے بلکہ ادب دوست، علم پرور، صاحبِ مطالعہ، مخلص سرپرست اور فعال علمی و ادبی رہنما تھے۔ سولاپور کی مختلف علمی، ادبی اور تہذیبی تنظیموں سے ان کا گہرا تعلق رہا۔ وہ نہ صرف خود ادبی و تعلیمی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے بلکہ دوسروں کو بھی اچھا کام کرنے کی ترغیب دیتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور جہاں ضرورت ہوتی اپنی رہنمائی اور تعاون سے ان کے حوصلوں کو نئی توانائی عطا کرتے تھے۔
بزمِ غالب کے بانی، صدر اور روحِ رواں کی حیثیت سے ان کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے اردو زبان و ادب کی شمع کو روشن رکھنے کی مسلسل کوشش کی۔ سولاپور کے معروف اور ممتاز شعراء کی یاد میں اور ان کے اعزاز میں شعری نشستوں کا اہتمام ان کی ادبی وابستگی کا ایک خوب صورت پہلو تھا۔ ان محفلوں کے ذریعے انہوں نے اہلِ قلم کی خدمات کو یاد رکھنے، ان کی ادبی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور سولاپور کی شعری روایت کو زندہ رکھنے کا قابلِ قدر فریضہ انجام دیا۔
ان کی علمی خدمات کا ایک اور روشن باب ان کی لائبریری تھی۔ یہ محض کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم و آگہی کا ایک ایسا مرکز تھا جس سے ہزاروں طلبہ، اساتذہ، محققین اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے استفادہ کیا۔ کتاب اور قاری کے درمیان رشتہ مضبوط کرنا اور مطالعے کی روایت کو فروغ دینا ان کے نزدیک ایک اہم علمی ذمہ داری تھی۔ ان کی یہ خدمت بھی یقیناً مدتوں یاد رکھی جائے گی۔
مرحوم بشیر پرواز صاحب کی خدمات کا ایک نہایت اہم اور قابلِ قدر پہلو بچوں اور نوجوانوں کی علمی و ادبی تربیت بھی تھا۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ بچوں کے لیے تقریری مقابلوں، تعلیمی کوئز اور بین المدارس ڈراموں کے مقابلوں کا اہتمام کرتے اور ان میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد محض مقابلے منعقد کرنا نہیں تھا بلکہ نئی نسل میں اعتماد، مطالعے کا شوق، اظہارِ خیال کی صلاحیت، تخلیقی فکر اور ادب و ثقافت سے وابستگی پیدا کرنا تھا۔
اسی طرح بزمِ غالب کے پلیٹ فارم سے وہ سولاپور کے معروف و ممتاز شعراء کی یاد میں اور ان کے اعزاز میں شعری نشستوں کا اہتمام بھی کرتے رہے۔ ان محفلوں کے ذریعے انہوں نے شہر کے اہلِ قلم کی خدمات کو یاد رکھنے، ان کی ادبی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور سولاپور کی شعری روایت کو زندہ رکھنے کا اہم فریضہ انجام دیا۔
پرواز فاؤنڈیشن، سولاپور سے بھی ان کا تعلق اس کے ابتدائی دور ہی سے نہایت گہرا، مخلصانہ اور محبت بھرا رہا۔ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے چھوٹے بڑے تعلیمی مقابلوں، سیمیناروں، مشاعروں اور دیگر علمی و ادبی پروگراموں میں وہ باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے۔ ہمارے ہر پروگرام میں ان کی موجودگی ہمارے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوتی تھی۔ وہ نہ صرف پروگراموں میں شریک ہوتے بلکہ اپنی قیمتی آرا، مشوروں اور خلوص بھرے تعاون سے فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کو تقویت بھی پہنچاتے تھے۔
گزشتہ سال پرواز فاؤنڈیشن نے ان کی طویل علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’Life Time Achievement Award‘‘ سے نوازنے کی سعادت حاصل کی۔ آج اس اعزاز کو یاد کرتے ہوئے دل میں یہ اطمینان بھی ہے کہ ان کی زندگی ہی میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، لیکن ساتھ ہی یہ احساس دل کو مزید غمگین کر دیتا ہے کہ وہ باوقار، شفیق اور مخلص شخصیت آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔
بشیر پرواز صاحب کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی تھا کہ وہ خود بھی علم و ادب کی شمع روشن رکھتے اور دوسروں کے چراغ بھی روشن کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ نئی نسل کی حوصلہ افزائی کرتے، ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے، اہلِ قلم کی قدر کرتے اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے خاموشی مگر مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرتے رہے۔
کچھ شخصیات کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی، بلکہ ان کے ساتھ ایک تجربہ، ایک روایت، ایک سرپرستی اور ایک پورا عہد رخصت ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ بشیر پرواز صاحب کی رحلت بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے۔ ان کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے، اسے محض کسی عہدے یا منصب سے پُر نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی کمی صرف بزمِ غالب یا پرواز فاؤنڈیشن کو نہیں بلکہ پورے سولاپور کے علمی و ادبی منظرنامے کو شدت سے محسوس ہوگی۔
آج جب ہم ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں تو ان کی بے شمار یادیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ کہیں وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں، کہیں کسی ادبی محفل کی رونق بڑھاتے ہوئے، کہیں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہوئے اور کہیں اہلِ قلم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے۔ ان کی زندگی کا یہی متحرک اور خدمت گزار انداز ان کی اصل پہچان تھا۔
وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی قائم کردہ ادبی روایت، ان کی لائبریری سے فیض پانے والے قارئین، ان کی حوصلہ افزائی سے آگے بڑھنے والے طلبہ، ان کی منعقد کردہ علمی و ادبی محفلیں اور ان سے وابستہ بے شمار یادیں ان کے نام کو مدتوں زندہ رکھیں گی۔
واقعی، بعض لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی دنیا سے رخصت نہیں ہوتے۔ ان کے افکار، ان کی خدمات اور ان کی یادیں انہیں زندہ رکھتی ہیں۔ بشیر پرواز صاحب بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ دوسروں کے لیے وقف کیا اور اپنے پیچھے ایسی یادیں اور خدمات چھوڑی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہیں گی۔
پرواز فاؤنڈیشن، سولاپور اپنے اس دیرینہ رفیق، محسن، سرپرست اور ادب دوست شخصیت کی رحلت پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، بزمِ غالب کے اراکین، شاگردوں، دوستوں اور تمام اہلِ علم و ادب کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم بشیر پرواز صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی تمام علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
پرواز فاؤنڈیشن، سولاپور
محمد سمیع مومن
Comments
Post a Comment