بے وفا - افسانہ - ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا


بے وفا - افسانہ - 
 ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا

        میں غریب ضرور ہوں اور شریف بھی ہوں. مجھے پہلے سے ہی بے ایمانی اور ناشکری پسند نہیں تھی. ہمہ قسم کے دھوکے سنے اور پڑھے تھے. ذاتی تجربہ تو نہیں ہوا تھا. ایسا دھوکہ چو زندگی کی سفید وشفاف چادر پر ایک بدنما داغ لگا جو کبھی دھل نہیں سکتا. میں شرمندگی سے سر جھکا کر کئی دن تک چلتا رہا. محلے اور خاندان میں کسی سے نگاہیں ملاکر بات تک نہیں کرسکتا تھا.
      میں نے سنا تھا کہ عورت ہی سے گھر جنت یا جہنم بنتا ہے. عورتیں نازک ہوتی ہیں. ان کے دل نرم و ملائم ہوتے ہیں. وہ اخلاص، ہمدردی، ایثار و قربانی کی علامت ہوتی ہیں سچا پیار ان سے سیکھاجاتا ہے. وہ بے وفا نہیں ہوتیں اپنا شوہر اپنی اولاد ہی ان کی مخصوص دنیا ہوتی ہے.
میری شریک حیات اپنے ایک دل میں کئ خواہشات رکھتی تھی. اچھا لباس بہترین زیور پہننا باہر گھومنا ہوٹلوں میں کھانا پارلر اور پارکوں میں جانا روز بن ٹھن کر موج مستی منانا عیش وعشرت کی زندگی گزار نا چاہتی تھی. وہ میری تنگ دستی کو سمجھ نہ پاتی اس کے اندر صبر اور شکر نہیں تھا. زبان درازی طعنے دیتی. مجھے کم نگاہ سے دیکھتی. اسے اپنے نفس کو قابو میں رکھنا نہیں آیا تھا. وہ دور اندیشی نہیں تھی وہ قناعت گزاری سے آشنا نہ تھی. حلال و حرام کی تمیز بھی نہ تھی اسے سماج کا خدا کا ڈر بھی نہیں تھا. وہ اسی لئے مجھے اور میری دو لڑکیوں کو چھوڑ کر کسی امیر لڑکے کے ساتھ چلی گئی.
مجھ پر بدنامی رسوائی اور ذلت کے پہاڑ ئوٹ پڑے. دن میں تارے نظر آئے. میرے پیروں تلے کی زمین نکل گئی. میں کس عذاب میں مبتلا ہوں. کیا میں ان خطر ناک حالات سے لڑ سکتا ہوں.
میری کمائی روزانہ دو سو ڈھائی سو تھی. میں صبح نو بجے سے شام آتھ بجے تک مسلسل محنت اور ایمانداری سے سائیکلوں کی مرمت کرتا تھا. یہ ہنر میرے باپ کی وراثت میں مجھے ملا تھا. وہ پندرہ برس تک مجھے برداشت کرتی رہی. میں! شاید اس کے آرزو، ارمان خواب و خواہشات کو مکمل کرنہ سکا. گھر مشکل سے چلتا تھا دو لڑکیوں کی تعلیم کپڑے ماہنامہ راشن چھوٹی موٹی بیماریاں بجلی کی بل گھر کا کرایہ بھرنا ہوتا تھا. روپیوں کی بچت کہاں ہوتی تھی. میں تو اپنے خواہشات کو کئ برس پہلے ہی دفن کرچکاتھا. میری شریک حیات کو مطمئن کر نہ سکا. شاید وہ موقع کی تاک میں تھی. اس دھوکہ بازی کا احساس مجھے بار بار ستاتا تھا. ہاں مجھے ڈر تھا کہ میں کہیں نفسیاتی مریض نہ ہو جاؤں. ایک نادان نا سمجھ مجھ جیسے غریب کا مذاق اڑا کر فرار ہوگئ. اسے تو غربت سے نفرت اور دولت سے بے پناہ محبت تھی.
      جب سے یہ حادثہ ہوا میری راتوں کی نیند دن کا چین و سکون اڑ گیا اب دکھ درد غم رنج کے سوا اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں. میں پریشانیوں کے دلدل میں پھنس گیا. میں کبھی سوچتا ہوں کہ ایسا بھی ہوا ہے یا ہوتا ہے. میں کیسا بد نصیب ہوں؟ . یہ کس کیے کی سزا مجھے ملی ہے. میرا مستقبل آندھرا ہوکر برباد ہو گیا. اتنا بڑا دھوکہ دغا. میری بارہ سال کی ازدواجی زندگی ایک بھیانک خواب معلوم ہوتی ہے . کہیں مجھے دل کا دورہ نہ پڑے. کبھی خود کشی کا علط خیال نہ آئے. میں کبھی محسوس کرتا ہوں تو تھرتھرا جاتا ہوں. مجھے کون ہمت اور حوصلہ دیگا. مجھے ان بچوں کےلے ہی جینا ہوگا. میں اپنی اولاد سے بےپناہ سچی محبت کرتا ہوں. میری نظر میں ان حالات میں ایک اور شادی کرنے کا فیصلہ ہی غلط ہے. میں نئے مسائل کو دعوت نہیں دینا چاہتا ہوں.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔