غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
غزل -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
جیسے تھی وہ مثال کی بارش
اُن سے مجھ تک خیال کی بارش
ہم فقیروں کے حال کی بارش
ہو رہی ہے ملال کی بارش
ان کی جانب سے کچھ جواب ملے
تھم یہ جائے سوال کی بارش
بھیگ لیتے ہیں ساتھ ان کے ہم
ہوئی ہو جب خیال کی بارش
وہ بھی خاموش ہوگئے، دیکھا
سر اٹھائی جلال کی بارش
سنگ تیرے جہاں جہاں ہوں گے
دیکھ لیں گے کمال کی بارش
کون سا جادو ہو رہاہے میرؔ
لمحہ لمحہ جمال کی بارش
Comments
Post a Comment